سیاہ فام کھلاڑی کو میچ کے دوران نسل پرستانہ نعروں کا سامنا، تماشائیوں کی جانب سے ’بندر‘ بلانے پر سٹار فٹبالر آبدیدہ ہوگیا

سیاہ فام کھلاڑی کو میچ کے دوران نسل پرستانہ نعروں کا سامنا، تماشائیوں کی ...
سیاہ فام کھلاڑی کو میچ کے دوران نسل پرستانہ نعروں کا سامنا، تماشائیوں کی جانب سے ’بندر‘ بلانے پر سٹار فٹبالر آبدیدہ ہوگیا

  

بلغراد (ڈیلی پاکستان آن لائن) خود کو مہذب کہلانے والے مغربی ممالک آج بھی شدید نسل پرستی کا شکار ہیں جس کا گاہے بگاہے عملی مظاہرہ بھی دیکھنے میں آتا رہتا ہے ، ایسا ہی ایک واقعہ سربیا میں بھی پیش آیا جہاں فٹبال میچ کے دوران تماشائیوں نے سیاہ فام سٹار کھلاڑی کو بندر کے نام سے مخاطب کرنا شروع کردیا جس کے باعث بیچارے کو آنکھوں میں آنسو لیے گراﺅنڈ سے رخصت ہونا پڑا۔

’ہماری مذہبی کتاب کے مطابق اس برس قیامت آنے والی ہے کیونکہ یہ سب سے بڑی نشانی پوری ہوگئی‘ ایسا اعلان ہوگیا کہ دنیا بھر کے لوگوں کو پریشان کردیا

برطانوی اخبار ڈیلی مرر کے مطابق سربیامیں ایک سیاہ فام برازیلین فٹ بال سٹار کو اس وقت میچ سے روتے ہوئے باہر جانا پڑا جب تماشائیوں کی جانب سے اسے ”بندر“ پکارا گیا۔ سربین دارالحکومت بلغراد کی جانب سے کھیلنے والے 28 سالہ مڈ فیلڈر ایورٹن لوئز کو اس کے ساتھی کھلاڑیوں نے سہارا دیا اور اسے گراﺅنڈ سے باہر لے کر گئے۔ یہ واقعہ بلغراد کی مقامی ٹیم اور راڈ بیغراد کی ٹیموں کے مابین ہونے والے میچ کے درمیان پیش آیا۔تماشائیوں کی جانب سے ہتک آمیز نعروں اور قابل نفرت بینرز لہرائے جانے کے بعد ریفری نے میچ روک دیا۔

اس سارے واقعے کے بارے میں ایورٹن لوئز کا کہنا تھا کہ پورے کھیل کے دوران مجھے نسل پرستانہ نعروں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ میرے ساتھی کھلاڑیوں نے بھی اس حوالے سے رد عمل نہیں دیا جس کی وجہ سے مجھے زیادہ تکلیف پہنچی۔میں سربیا اور یہاں کے لوگوں سے محبت کرتا ہوں جس کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ لوگوں سے میں یہی کہوں گا کہ وہ نسل پرستی سے انکار کریں۔

مزید :

کھیل -