بادی النظر میں سرتاج عزیز اور طارق فاطمی حکومت کے پالیسی معاملات پر بیانات نہیں دے سکتے،ہائی کورٹ

بادی النظر میں سرتاج عزیز اور طارق فاطمی حکومت کے پالیسی معاملات پر بیانات ...
بادی النظر میں سرتاج عزیز اور طارق فاطمی حکومت کے پالیسی معاملات پر بیانات نہیں دے سکتے،ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں وزارت خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی حکومت کے پالیسی معاملات پر بیانات نہیں دے سکتے.

کیمبرج یونیورسٹی میں ’ خواتین پر بڑھتا تشدد‘ کے عنوان پر لیکچر، سلمان صوفی نے پاکستان کی نمائندگی کی 

چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ ریمارکس محمود اختر نقوی کی متفرق درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ۔فاضل جج نے دونوں شخصیات کو کام سے روکنے کی اس درخواست پر وفاقی حکومت سے 23فروری تک جواب طلب کر لیاہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے وزارت خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی کو عہدے سے ہٹانے کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے جس میں نوٹسز بھی جاری ہو چکے ہیں،دونوں شخصیات حکومت کے پالیسی معاملات پر بیان بازی کر رہے ہیں، حکومت کے پالیسی معاملات پر بیان بازی کرنا منتخب حکومتی نمائندوں کا حق ہے لیکن سرتاج عزیز اور طارق فاطمی منتخب نمائندے نہ ہونے کے باوجود نہ صرف بیرون ممالک سے معاہدے کر رہی ہیں بلکہ بیان بازی بھی کی جا رہی ہے دونوں شخصیات کو پالیسی معاملات پر بیان بازی سے روکا جائے اورعہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا جائے، ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں وزارت خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی حکومت کے پالیسی معاملات پر بیانات نہیں دے سکتے، عدالت نے دونوں شخصیات کو کام سے روکنے کی درخواست پر وفاقی حکومت سے 23فروری تک جواب طلب کر لیاہے۔

مزید :

لاہور -