ہائی کورٹ بار انتخابی تنازع ،عاصمہ جہانگیر اور حامد خان گروپ کی کمرہ عدالت میں تلخ کلامی

ہائی کورٹ بار انتخابی تنازع ،عاصمہ جہانگیر اور حامد خان گروپ کی کمرہ عدالت ...
ہائی کورٹ بار انتخابی تنازع ،عاصمہ جہانگیر اور حامد خان گروپ کی کمرہ عدالت میں تلخ کلامی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات مینوئل طریقے سے کرانے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران عاصمہ جہانگیر اور حامد گروپ کے وکلاءکے درمیان کمرہ عدالت میں تلخ کلامی ہو گئی، چیف جسٹس نے معاملہ رفعہ دفعہ کرادیا.

بادی النظر میں سرتاج عزیز اور طارق فاطمی حکومت کے پالیسی معاملات پر بیانات نہیں دے سکتے،ہائی کورٹ

عدالت نے ہائیکورٹ بار کے الیکشن بورڈ اور پاکستان بار کو کل معاونت کیلئے طلب کر لیا ہے ۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے صدارتی امیدوار خرم لطیف کھوسہ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار نے موقف اختیارکیا کہ پاکستان بار نے ہائیکورٹ بار کے الیکشن مینوئل طریقے سے کرانے کا مراسلہ جاری کیا،پاکستان بار کو ہائیکورٹ بار کے انتخابات میں مداخلت کا اختیار ہی نہیں، دوسرے صدارتی امیدوار چودھری ذوالفقار کی طرف سے شفقت چوہان ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار پیرمسعود چشتی خود بائیومیٹرک الیکشن کے ذریعے ہی منتخب ہوئے تھے، اب عاصمہ جہانگیر گروپ کیسے کہہ سکتا ہے کہ بائیومیٹرک الیکشن درست ہیں، تیسرے صدارتی امیدوار آذر لطیف خان نے بھی بائیومیٹرک الیکشن کی حمایت کی تاہم عاصمہ جہانگیر گروپ کے صدارتی امیدوار رمضان چودھری اور دیگر وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ بائیومیٹرک ووٹنگ سے دھاندلی کا خدشہ ہوتا ہے، پاکستان بار کونسل تمام وکلاءکی سپریم باڈی ہے، پاکستان بار کا نوٹیفکیشن تمام بار ایسوسی ایشنز پر لاگو ہوتا ہے، سینکڑوں وکلاءکی بائیومیٹرک سسٹم میں رجسٹریشن بھی نہیں ہو سکی، اس لئے انتخابات مینوئل طریقے سے ہی ہونے چاہییں، اس پر کمرہ عدالت میں موجود دونوں گروپوں کے وکلاءمیں تلخ کلامی شروع ہو گئے تاہم چیف جسٹس نے مداخلت کر کے معاملہ رفعہ دفعہ کرایا اور پاکستان بار کونسل اور الیکشن بورڈ کو طلب کرتے ہوئے سماعت آج21فروری تک ملتوی کر دی ۔

مزید :

لاہور -