مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی جنوبی ایشیاء میں امن، سلامتی اوراستحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے:وزیر اعظم عمران خان

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی جنوبی ایشیاء میں امن، سلامتی اوراستحکام کو ...
مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی جنوبی ایشیاء میں امن، سلامتی اوراستحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے:وزیر اعظم عمران خان

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی جنوبی ایشیاء میں امن، سلامتی اوراستحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے،بھارتی قیادت کے جنگی جنون اور زمینی جارحانہ اقدامات سےامن اور سلامتی کیلئے خطرات پیدا ہوئے ہیں،بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سےانسانیت کےخلاف جرائم کےبارےمیں آگاہی پھیلائے،سلامتی کونسل کی قراردادوں کےمطابق مسئلہ کے حل کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے ، جموں و کشمیرکے عوام کی حق خودارادیت کے حصول تک حمایت جاری رکھیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے برطانوی پارلیمان کے آل پارٹیز پارلیمانی کشمیرگروپ(اے پی پی کے جی)کے وفد نے ملاقات کی،وفد کی قیادت ڈیبی ابراہم کر رہی تھیں۔ آل پارٹیز پارلیمانی کشمیرگروپ (اے پی پی کے جی) کے وفد میں ارکان پارلیمان ڈیبی ابراہم، عمران حسین، سارہ برٹکلف، جیمز ڈالے، طاہرعلی، دوڈتھ کمنز، مارک ایسٹ ووڈ، قربان حسین، اوریاسمین ڈارشامل تھیں۔اس موقع پر وزیراعظم نے گروپ کی جانب سے جموں وکشمیر کے تنازعہ پر توجہ دینے پر گروپ کو سراہا اورکہاکہ گروپ نے قبل ازیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر رپورٹیں مرتب کی ہیں۔وزیراعظم نے وفد کو بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو اٹھائے جانیوالے یکطرفہ اورغیرقانونی اقدامات اوراس کے نتیجہ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں اورانسانی المیہ جیسی صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ 80 لاکھ کے قریب کشمیری گزشتہ 6 ماہ سے فوجی محاصرے میں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بھارت کی قیادت کی جانب سے جنگی جنون اور زمینی جارحانہ اقدامات سے امن اورسلامتی کیلئے خطرات پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریہ سے متاثرہ بی جے پی کی حکومت ہندوتوا کے نظریہ پر گامزن ہے، اس نظریہ کے تحت ایک طرف کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیاہے جبکہ دوسری طرف بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کیلئے زمین تنگ کردی گئی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے بین الاقومی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے بھارت فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جموں وکشمیر کے مسئلہ کے منصفانہ حل سے ہی جنوبی ایشیاء میں امن، سلامتی اوراستحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانیت کے خلاف جرائم کے بارے میں آگاہی پھیلائے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کے حل کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔ وزیراعظم نے جموں وکشمیرکے عوام کو ان کے ناقابل تنسیِخ حق، حق خودارادیت کے حصول تک کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید : اہم خبریں /قومی