نشتر ہسپتال، ایمرجنسی کی تنظیم نو کا پی سی ون کاغذوں میں دفن

نشتر ہسپتال، ایمرجنسی کی تنظیم نو کا پی سی ون کاغذوں میں دفن

  

ملتان (وقا ئع نگار ) حکومت پنجاب نے نشتر ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی تنظیم نو (ری ویمپنگ) کا پی سی ون کئی ماہ گزرنے کے باوجود منظور نہیں ہوسکا۔ اور وہ کاغذوں میں دفن ہوکر رہ گیا ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار (بقیہ نمبر40صفحہ12پر)

نے اپنی تعیناتی کے دوران پنجاب کے تقریبا آٹھ ٹیچنگ ہسپتالوں کی ایمرجنسی کا دورہ کیا۔تو اسی دوران انہوں نے نشتر ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کا بھی وزٹ کیا۔جہاں پر مریضوں کے رش کو مد نظر رکھتے ہوئے تنظیم نو (ری ویمپنگ) کا فیصلہ کیا گیا۔اور ساتھ ہی صوبہ کے دیگر سات ہسپتالوں کی ایمرجنسی کی آہ گریڈیشن کرنے کی ہدایت کی۔احکامات ملتے ہی ملتان نشتر ہسپتال کے علاؤہ دیگر تقریبا پانچ ٹیچنگ ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کا پی سی ون منظور کرنے کام مکمل کرلیا گیا ہے۔مگر نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی کا پی سی ون کئی ماہ گزرنے کے باوجود حکومت پنجاب نے تاحال منظور نہیں کیا۔جو صرف کاغذوں کی حد تک بن کر محدود ہوکر رہ گیا ہے۔حالانکہ ذرائع کے مطابق نشتر ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں سالانہ پانچ لاکھ سے زائد مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہے۔جبکہ نشتر ایمرجنسی میں تیارہ کردہ پی سی ون کے مطابق دو نئی لفٹس کو نصب کیا جائے گا۔ایک مزید ایک فلور کا اضافہ ہوگا۔بستروں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔اس کے علاؤہ شعبہ ایمرجنسی میں سرد و گرم رکھنے والی مشین کو نصب کرنے کا منصوبہ تھا۔

دفن

مزید :

ملتان صفحہ آخر -