رحیم یار خان میں ایک بار پھر آٹا‘ گندم کا بحران‘قیمتیں کنٹرول سے باہر

رحیم یار خان میں ایک بار پھر آٹا‘ گندم کا بحران‘قیمتیں کنٹرول سے باہر

  

رحیم یارخان (بیورورپورٹ)محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ آٹے اور گندم کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی بیشتر آٹا چکیوں پر آٹا 45 روپے کے بجائے 60 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہونے لگا ذرائع کے مطابق رحیم یار خان میں محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے آٹے اور گندم کی قیمتیں ایک بار پھر سے(بقیہ نمبر43صفحہ7پر)

پروان چڑھنے لگیں۔ آٹا چکیوں پر سرکار کی جانب سے مقرر کئے گئے ریٹ 45 روپے کے بجائے دیسی آٹا 60 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت ہونے لگا جبکہ اوپن مارکیٹوں میں بیس کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت 805 کے بجائے 900 روپے تک جاپہنچی ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے مزدور طبقے کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی محال ہوگیا ہے۔ اوپن مارکیٹوں میں گندم کی قیمت بھی 1375 روپے کے بجائے 1900روپے من پر جاپہنچی ہے۔آٹے اور گندم کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں بھی محض دعوؤ ں کی حد تک ہی محدود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کے افسر اور فیلڈ فورس اہلکار مبینہ طور پر ملی بھگت کرتے ہوئے آٹا چکی مالکان اورسٹورز مالکان کو آٹے کی قیمتوں میں من چاہا اضافہ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے انکے خلاف کارروائی سے گریزاں رہتے ہیں جبکہ کارروائی کے بجائے ریلیف دینے کے عوض مبینہ طور پر افسر اور ملازمین بھاری نذرانے بھی وصول کرتے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے محکمہ خوراک حکام کو متعدد بار شکایات کے اندراج کے باوجود بھی حکام کارروائی سے گریزاں ہیں جبکہ آٹا چکی مالکان کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ سے ملنے والی گندم کی قیمت 1375 کے بجائے 1900 فی من پر جاپہنچی ہے اور اضافی قیمت پر خریدی گئی گندم سے سستے داموں آٹے کی فروخت کرنا ناممکن ہے جبکہ اس معاملے سے متعلق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محکمہ خوراک نے موقف اختیا رکیا کہ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے کوشاں ہیں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی جاری ہے۔

باہر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -