نوجوان نسل کے لئے ٹھوس معاشی پالیسی درکار ہے

نوجوان نسل کے لئے ٹھوس معاشی پالیسی درکار ہے

  

بہترین سائندان کا عالمی ٹائٹل جیتنے والے پاکستان کے ممتاز ماہر معیشت پروفیسر ڈاکٹر محمد شہباز کہتے ہیں!

توانائی کے منصوبوں میں ترغیب کی ضرورت، زرعی وسائل استعمال میں لا کر بجلی پیدا کی جائے

پروفیسر ڈاکٹر محمد شہباز کون ہیں؟

ڈاکٹر صاحب کو ترکی کی گورنمنٹ نے نومبر 2019ء میں بہترین سائنسدان کا خطاب دیا ہے، دسمبر 2019ء ڈوشجے یونیورسٹی نے بھی انہیں Distanguished ورلڈ سائنسدان کا خطاب دیا ہے۔ ورلڈ بنک کے مطابق ڈاکٹر صاحب کا دنیا کے 5 بہترین سائنسدانوں میں شمار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب توانائیا ور ماحولیات کے ماہر جانے جاتے ہیں۔ وہ اس وقت چائنہ میں بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پروفیسر ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف کیمبرج میں بھی تحقیق کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ Climate charge بھی پاکستان کا ایک بہت اہم مسئلہ ہے ڈاکٹر صاحب Climate change میں مہارت حاصل ہے اور دنیا بھر میں وہ اس ایشو کے اوپر آگاہی دے رہے ہیں آجکل وہ پاکستان میں بھی ماحولیات کی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں۔گزشتہ دنوں وہ پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو ہم نے ان سے تفصیلی انٹرویو کیا۔

روزنامہ پاکستان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی معاشی حالت بدلنے کے لئے توانائی کے بحران کو حل کرنا ہوگا کیونکہ توانائی کے بحران کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جس وجہ سے کاروباری لاگت میں اضافہ کی وجہ سے چیزوں کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں اور آئے روز مہنگائی کا طوفان آ جاتا ہے۔ گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ توانائی کے سستے ذرائع سے بجلی پیدا کرے۔ اس کے لئے حکومت چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنا سکتی ہے اگر بڑے ڈیمز کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ گورنمنٹ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کا منصوبہ شروع کر سکتی ہے تاکہ عام آدمی بھی توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکے، توانائی کے بحران پر قابو پا کر گورنمنٹ مہنگائی اور بیروز گاری سے بچ سکتی ہے اور قومی پیداوار میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے، زعی وسائل کو بھی استعمال کر کے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ہزار ہا کوششوں کے باوجود حکومت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ گورنمنٹ کے بالکل اختیار سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے جو غیر ضروری درآمدات ہیں ان کو مکمل طور پر بین کر دیا جائے یا ٹیکس ڈیوٹی بڑھا دی جائے۔ساتھ ساتھ درآمدات کا متبادل ملک میں تیار کیا جائے اور برآمدات کا حجم بڑھایا جائے اس سے روزگار میں اضافہ ہوگا۔ مہنگائی کا زور بھی ٹوٹے گا اور روپیہ مضبوط ہوگا برآمد کنندگان کو ٹیکس چھوٹ دی جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ گورنمنٹ کو برآمدات کی انٹرنیشنل مارکیٹ میں تشہیر بازی بھی کرنی ہے اور ہمیں اپنی برآمدات میں جدت کی بھی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی بھی آنے والے وقت کا بہت بڑا مسئلہ ہے پاکستان کو اب ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے حوالے سے بڑے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ماحول کے برے اثرات کو روکنے کے لئے حکومت جنگلات بڑھانے کے لئے درخت سازی کو ترغیب اور اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ دنیا بڑی ترجیحی بنیادوں پر اس مسئلہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے لئے پاکستان کو بھی اپنے ماحول کو صاف رکھنے کے لئے بھرپور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پاکستان نے اگر ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے اثرات پر قابو نہ پایا تو آنے والے وقت میں پاکستان کی برآمدات پر ماحولیاتی خرابی کی وجہ سے پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے دوران گفتگو بتایا کہ قومی پیداوار بڑھانے کے لئے ہمیں بڑی توجہ سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے زرعی شعبہ زوال کا شکار ہے، زرعی شعبے میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح صنعتی شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر اصلاحات لانے کی بڑی اشد ضرورت ہے تاکہ صنعتی شعبے میں قومی پیداوار کا حصہ بڑھ سکے۔

خدماتی شعبے کا قومی پیداوار میں حصہ بڑھانے کے لئے گورنمنٹ کو اپنے نوجوانوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہئے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو انٹرنیشنل مارکیٹ میں اجاگر کرنا چاہے تاکہ وہ بیرونی زر مبادلہ ملک میں لا سکیں اور ملک ترقی کرے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لئے بڑھتا ہوا اندرونی اور بیرونی قرض بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے قومی پیداوار کا بہت سارا حصہ قرض اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہننانے کے لئے بہت کم فنڈ بچتا ہے اور ملک اس طرح سے ترقی نہیں کر رہا۔

اس کے لئے ضروری ہے قرض والی رقم کو ترقیاتی کاموں میں لگایا جائے۔ گورنمنٹ کے لئے بہتر ہوگا کہ اگر ملک کے اندرونی قرض کے ذرائع کو استعمال کیا جائے اس سے بیرونی پریشر بھی کم ہوگا۔ ملک میں کاروبار کی پالیسی کو بھرپور طریقے سے پروان چڑھایا جائے اگرچہ گورنمنٹ کاروبار کرنے میں آسانیاں فراہم کر رہی ہے جو کہ ابھی ناکافی ہیں اس میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اپنی نوجوان نسل سے بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اس کے لئے ایک ٹھوس معاشی پالیسی کی ضرورت ہے کیونکہ اس ملک کے نوجوانوں میں بہت صلاحیت ہے آگے بڑھنے کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ملک میں سرمایہ کاری بہت کم ہو رہی ہے کیونکہ ریاست مدینہ میں شرح سود بہت زیادہ ہے جو سرمایہ داروں کو اپنا سرمایہ دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ دوسرے ملکوں میں شرح سود بھی کم ہے اور پیداواری لاگت بھی۔اس لئے شرح سود اور پیداواری لاگت کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سرمایہ داری سے پیداوار میں اضافہ ہوگا جس سے روزگار بڑھے گا اور ملک میں مہنگائی کنٹرول ہو گی۔ ساتھ ساتھ قومی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔

گورنمنٹ کو اپنے اخراجات (غیر ضروری) کو کنٹرول کرنا چاہئے جس کے لئے ضرور اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ اپنے غیر ضروری مشیروں کی فوج کو فارغ کرے،ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ساتھ ساتھ کیش بیسڈ اکانومی آہستہ آہستہ کم کی جائے رقوم کی وصولیاں اور ادائیگیاں بنک کے ذریعے سے کی جائیں تاکہ زر کی رسد کنٹرول میں رہے اور غیر قانونی زر کے استعمال کو روکا جاسکے۔

اس سوال کے جواب میں کہ چین اور ترکی پاکستان کے قریبی دوست اور باعتماد ساتھی ہیں ہمارا ملک ان دوستوں کے اشتراک کے ذریعے یا ان کی ترقی سے کیا استفادہ کر سکتا ہے ڈاکٹر شہباز کا کہنا تھا کہ چائنہ اور ترکی نے اپنے توانائی کے ذرائع کو اچھے طریقہ سے استعمال کرنے کے لئے تحقیق پر بہت زور دیا ہے۔چائنہ نے2019ء میں توانائی کو استعمال کرنے کے لئے 150000 نئے طریقے متعارف کروائے ہیں، ان متعارف کردہ نئے طریقوں سے نہ صرف توانائی کا کم استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کو مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بچایا بھی جا رہا ہے۔اسی طرح چائنہ قابل ِ تجدید توانائی کا حصہ روز روز بڑھا رہا ہے تاکہ ماحولیاتی مسائل سے بروقت نمٹا جا سکے۔

اسی طرح ترکی جو ہمارا مسلمان برادر ملک ہے وہ بھی وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب پر قابو پانے کے لئے نئے نئے طریقے متعارف کروا رہا ہے تاکہ توانائی کا بہتر سے بہتر استعمال کیا جا سکے۔ترکی نے تو سالڈ ویسٹ سے بھی بجلی بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔سالڈ ویسٹ جو آنے والے وقت کے پاکستان کا بہت مسئلہ ہو گا، پاکستان کو چائنہ کی طرح توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے توانائی کے شعبے میں تحقیق پر زور دینا چاہئے تاکہ تحقیق دان توانائی کو استعمال کرنے اور توانائی بچانے کے نئے نئے طریقے متعارف کروا سکیں۔ پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے سستی قابل تجدید توانائی پیدا کر سکتا ہے۔اس طریقہ سے پیدا کی ہوئی توانائی ماحول دوست بھی ہے اور سستی بھی۔حکومت سستی توانائی پیدا کر کے پیداواری لاگت میں کمی لا سکتی ہے جس سے افراطِ زر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور روز کے مواقع بھی پیدا ہوں گے،تب کاروبار میں آسانی ہو گی۔سالڈ ویسٹ جو پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور ملک میں کوئی مکمل انتظام نہیں تاکہ سالڈ ویسٹ کا بندوبست کیا جا سکے، جو کمپنیاں لاہور میں کام کر رہی ہیں وہ سالڈ ویسٹ کو زمین کے اندر دبا رہی ہیں جو مزید زمین کی زرخیزی کو خراب کر رہی ہیں اس سے بہتر ہے سالڈ ویسٹ کو ری سائیکل کر کے استعمال کیا جائے جس سے نہ صرف توانائی، تیل بچایا جا سکتا ہے،بلکہ زمین کو خراب کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ٹن پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے سے(Kwh)5774 بجلی بچائی جا سکتی ہے، تیل کے16.3 بیرل بچائے جا سکتے ہیں اور یوں زمین کے30 کیوبک یارڈز بھی بچ جائیں گے۔ اسی طرح سالڈ ویسٹ کو اچھے طریقے سے استعمال کر کے گورنمنٹ اچھا خاصا پیسہ کما سکتی ہے اور لوگوں کو روزگار بھی فراہم کر سکتی ہے۔ہمیں ترکی سے سیکھنا چاہئے کہ انہوں نے سالڈ وسٹ کو معاشی طور پر کیسے استعمال کیا۔

گزشتہ دنوں ڈاکٹر صاحب کو ڈیرہ غازی خان میں غازی یونیورسٹی نے ایک سیمینار کے لئے مدعو کیا تھا، جس میں ہماری وزیر مملکت زرتاج گل صاحبہ مہمان خصوصی تھیں اور ڈاکٹر صاحب نے اس موقع پر توانائی بچانے کے حوالے سے چند تجاویزپیش کیں اور کہا کہ ان تجاویز پر عمل کر کے توانائی کے بحران، ماحولیاتی تبدیلی اور سالڈ ویسٹ جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -