ملکی معیشت کی ناکامی!

ملکی معیشت کی ناکامی!

  

ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

ملک میں مہنگائی ان دنوں اپنے عروج پر ہے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے۔جبکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج مسلسل مندی کی لپیٹ میں ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں ڈالر کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔روپے کی گرتی قدر اور ڈالر وسونے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور یہ صورتحال معیشت کے ساتھ ساتھ کاروبار کی تباہی اور عوام کے لئے انتہائی مایوسی کا باعث بن رہی ہے۔ان گھمبیر حالات میں

حکومت معاشی حالات بہتر کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے،ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے نئی ایمنسٹی سکیم کا اجراء کیا گیا ہے مگر ملکی معاشی حالات ہیں کہ سنبھل ہی نہیں رہے۔حکومتی اداروں کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں ٹیکس جمع کا ادارہ فیڈرل بورڈ آف ریوینوگزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں ٹیکس جمع کرنے کے کا اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔اعداد وشمار کے مطابق ایف بی آر کا جمع کردہ ریونیوہدف سے256ارب روپے کم رہا۔آئی ایم ایف نے ابتداء میں حکومت پاکستان کو رواں مالی سال کے لیے ٹیکس محصولات جمع کرنے کا ہدف 5503ارب روپے دیا تھا تاہم حکومت پاکستان کی درخواست پر اسے 233ارب روپے کم کرکے 5270ارب روپے کر دیا تھا۔تحریک انصاف حکومت کی جانب سے محصولات جمع کرنے کے ہدف میں کمی کی وجہ سے بجٹ خسارے میں اضافہ یقینی ہے جس کے نتیجے میں حکومت کو جلد ہی منی بجٹ پیش کرنا پڑے گا اور منی بجٹ کا مطلب ہے کہ نئے محصولات اور پرانے محصولات میں مزید اضافہ۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ منی بجٹ ماہ فروری میں ہی پیش کر دیا جائے گا۔یوں تو حکومت ہرروز ضرورت کی ہر چیز کی قیمت میں اضافہ کر دیتی ہے اس کے باوجود محصولات میں کمی موجودہ حکومت کی معاشی ٹیم کو یہ سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ان کی معاشی پالیسیاں ہی سرے سے غلط ہیں۔اس کے باوجود وزیراعظم کے معاشی مشیر یہ ماننے پر راضی نہیں ہیں اور وہ مزید ٹیکس پر ٹیکس لگانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔جب سے موجود حکومت برسراقتدار آئی ہے،ملک میں معاشی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان سرگرمیوں میں ہر روز کمی کا رجحان پایا جاتا ہے۔جب ملک میں معاشی سرگرمیاں انحطاط کا شکار ہوں گی تو کس طرح سے ملک میں ٹیکس جمع ہو پائے گا۔یہ آسان سا معاشی اصول ہے کہ ٹیکس کم از کم عائد کیا جائے تاکہ معاشی سرگرمیوں میں پھیلاؤ آتارہے اس سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں بھی اضافہ کے ساتھ ساتھ حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اسی اصول پر عمل کرکے رقبہ کے لحاظ سے چھوٹا سا ملک دبئی معاشی ترقی میں کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے۔چین میں بر آمدی صنعتوں کے لیے پہلے پانچ برس کے لیے بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے،اس کے بعد بھی اس کے نرخ انتہائی ارزاں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے چین میں مصنوعات کی پیداواری لاگت انتہائی کم ہے اور یوں چین کی مصنوعات نے دنیا بھر کی منڈیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔پاکستان کی معاشی پالیسیاں اس کے برعکس ہیں اور اس کے نتائج بھی چین کی معاشی ترقی کی ضد ہیں۔پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر آئی ایم ایف کی گرفت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محصولات جمع کرنے کا ہدف آئی ایم ایف طے کرتا ہے اور جب حکومت کو اندازہ ہوتا ہے کہ ہدف کو حاصل کرنا مشکل ہے تو اس پر نظر ثانی کے لئے درخواست بھی آئی ایم ایف سے ہی کرنی پڑتی ہے۔یوں اگر یہ کہا جائے کہ حقیقی آئی ایم ایف کے نمائندے پاکستان میں انہی کے مقرر کردہ نمائندوں سے مذاکرات کرتے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔عمران خان کو آئی ایم ایف نے پٹی پڑھا دی ہے کہ درآمدات کسی بھی ملک کے لئے انتہائی خوف ناک ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ساری درآمدات نقصان دہ نہیں ہوتیں۔جاپان اور چین سمیت متعدد ملکوں کی مثالیں سامنے ہیں کہ یہ ممالک پوری دنیا سے بھاری درآمدات کرتے ہیں مگر پھر انہی درآمدات میں ویلیوایڈیشن کرکے برآمد کرتے اور کھربوں ڈالر کماتے ہیں جیسے کہ بھارت پاکستان سے آسان نرخوں پر نمک درآمد کر کے اسے معیاری شکل دے کر برآمد کرتا ہے اور اربوں ڈالر منافع کما رہا ہے۔بنگلادیش میں کپاس پیدا ہی نہیں ہوتی مگر بنگلادیش اس وقت گارمنٹس برآمد کنندگان میں اوّلین صف میں کھڑا ہے۔بنگلادیش دھاگا بھی درآمد کرتا ہے اور کپڑا بھی اور اسے ملبوسات کی صورت میں برآمد کر دیتا ہے جس سے اس کے باشندوں کو روزگار بھی میسر ہے اور یہ سرکاری آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بھی ثابت ہو رہی ہے۔مگر ہمارے موجودہ حکمرانوں کی معیشت دشمن پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی ترقی کی شرح گر کر انتہائی پست ہو گئی ہے جو2.2فیصد سالانہ پر آگئی ہے۔اس کے مقابلے میں بنگلادیش میں ترقی کی شرح خطے میں بلند ترین یعنی 8.8فیصد سالانہ ہے۔محصولات کے ہدف سے رقم کم جمع ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک پاکستان میں درمیانے اور نچلے طبقے کی گردن کے گرد ہی شکنجہ کسنے کی پالیسی پر عمل جاری ہے جبکہ سیکڑوں ارب روپے چوری کرنے والے اداروں کو حکومت جرمانہ وسزا دینے کے بجائے ایمنسٹی اسکیم سے نوازتی ہے۔جس ملک میں چھابڑی فروشوں سے پانچ سو روپے ماہانہ وصول کرنے کا حکم دیا جائے اور نہ دینے والے کو پابند سلاسل کر دیا جائے اور بجلی وکھادبنانے والی کمپنیوں کو750ارب روپے معاف کر دیے جائیں اُس ملک میں نہ تو ترقی ہو سکتی ہے اور نہ ہی خوشحالی آسکتی ہے۔بہتر ہوگا کہ وزیر اعظم عمران خان سب سے پہلے اپنی معاشی ٹیم میں بنیادی تبدیلی لائیں اور کلیدی عہدوں پر سے آئی ایم ایف کے منظور نظر افراد کو فارغ کریں۔پاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جس اس کے شہری ترقی کریں گے اور شہری اسی وقت ترقی کر سکتے ہیں جب حکومت کی معاشی پالیسیاں عوام دوست ہوں۔پہلے عوام کو بے روزگارکرکے ان کے منہ سے نوالہ چھیننے کے بعد چند افراد کے لیے لنگر خانہ کھولنے سے ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اقدام بظاہر نیکی کی آڑ میں مختلف پہلوؤں سے کرپشن کے راستے کھولنے کا باعث بن سکتا ہے جس کی ایک بڑی مثال ماضی میں پنجاب میں سستی روٹی سکیم ہے کہ غریبوں کے نام پر شروع کی گئی اس سکیم سے امیروں اور کاروباری لوگوں نے کاغذی تندورکھول کر آٹے پر سبسڈی کی شکل میں کروڑوں روپے کمائے مگر غریب عوام اسی طرح بھوکے مرتے رہے۔ اس لئے معاشی سنجیدگی کی اشد ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران مفاد عامہ کے لئے منصوبہ بندی کرتے وقت زمینی حقائق کو بھی مد نظر رکھا کریں تاکہ مثبت نتائج سامنے آسکیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -