پیاز کی بر آمد پر پابندی، گندم کی امدادی قیمت میں 15روپے فی من اضافہ منظور

  پیاز کی بر آمد پر پابندی، گندم کی امدادی قیمت میں 15روپے فی من اضافہ منظور

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیاز کی برآمد پر فوری پابندی عائد کردی۔ یہ پابندی 30 مئی تک کیلئے عائد کی گئی ہے۔نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق اس بات کا فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جو وزیراعظم عمر ا ن خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ای سی سی نے منعقدہ اجلاس میں کنٹرولڈ کیمیکلزکی کمرشل درآمد کی اجازت دیدی ہے۔ اجلاس میں آئندہ سال کیلئے گندم کی امدادی قیمت 1365 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سال کیلئے 82 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی جائے گی۔ای سی سی نے ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے این ڈی ایم اے کو 63 کروڑ 60 لاکھ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ دینے کی بھی منظوری دی۔ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کیلئے 45 کروڑ روپے سے زائد کی سپلیمنٹری گرانٹ دی جائیگی۔وفاقی مشیر خزانہ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں افغان مہاجرین کی واپسی کے منصوبے کیلئے سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ اس ضمن میں گیارہ کروڑ کی امداد دی جائے گی۔ای سی سی نے اپنے گزشتہ اجلاس میں فوری طور پر چینی کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی۔ ای سی سی نے ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت پر قابو پانے کیلئے پابندی لگائی تھی۔

ای سی سی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عوام میں بے چینی کا سبب بنا۔وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کنزیومرپرائس انڈیکس اور حساس پرائس انڈیکس کا ڈیٹا پیش کیا گیا۔خیال رہے کہ قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس چھ ماہ بعد ہوا ہے۔اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ جنوری میں مہنگائی میں 14.6 فیصد اضافہ ہوا ہے اور پچھلے ہفتے کے دوران 13 بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں کمی جبکہ 19 بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔حکام کا کہنا تھا کہ پنجاب میں آٹے کی قیمت سب سے کم 809 روپے فی 20کلو گرام رہی جبکہ سندھ میں آٹے کی قیمت سب سے زیادہ 1058 روپے فی 20 کلو گرام رہی اور اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عوام میں بے چینی کا سبب بنا۔اجلاس میں سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ نے قیمتیں بڑھنے کی ذمہ داری صوبوں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ صوبوں کو قیمتوں پر قابو پانے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، قیمتوں پر قابو پانے کی ذمہ داری صوبوں پر ہے۔سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ رمضان میں قیمتوں پر قابو پانے کے لیے صوبے اور مقامی حکومتیں تیاریاں کریں۔اجلاس میں ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف فوری کارروائیوں کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام صوبوں اور ضلعی انتظامیہ کو روزانہ کی بنیاد پر کمیٹی کو رپورٹ بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔خیال رہے کہ عالمی جرید ے اکانومسٹ کے انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دسمبر 2010 کے بعد جنوری 2020 میں مہنگائی کی شرح بلند ترین رہی۔انٹیلی جنس یونٹ کے مطابق جنوری 2020 میں مہنگائی توقعات سے زیادہ بڑھی ہے جس کا بنیادی سبب اشیائے خور و نوش خصوصاً گندم، ٹماٹر اور چینی کی قیمتیں ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی رسد تسلسل سے نہ ہونے نے قیمتوں کو بڑھاوا دیا ہے اور جنوری میں گرانی کی شرح سال 2019 کی اوسط مہنگائی سے زائد اور دسمبر 2010 کے بعد بلند ترین رہی اور مہنگائی آئندہ بھی بلند رہے گی۔

پرائس مانیٹرنگ کمیٹی

مزید :

صفحہ اول -