وزیراعلٰی عثما ن بزدار کا عوام کو لوٹنے والے مافیا ز کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کا حکم

  وزیراعلٰی عثما ن بزدار کا عوام کو لوٹنے والے مافیا ز کیخلاف بلا امتیاز ...

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدر آباد میں دی یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) نے 127 افراد کو غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر شہریت ثابت کرنے کیلئے آج 20فروری تک کی مہلت دیدی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدر آباد کے رہائشی 127 افراد کویو آئی ڈی اے آئی کی جانب سے 3 فروری کو نوٹس بھیجا گیا،نو ٹس میں کہا گیا تھا کہ ریجنل آفس کو شکایت ملی ہے کہ آپ ہندوستان کے شہری نہیں اور غلط معلومات کی بنیاد پر آدھار نمبر حاصل کیا ہے لہٰذا آپکو اپنی شہریت ثابت کرنی ہوگی۔اِن 127 افراد میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جن میں مزدوری کرنیوالے افراد بھی شامل ہیں، جنہیں 20 فروری کو انکوائری افسر کے سامنے ایسے دستاویزات کیساتھ پیش ہونے کا کہا گیا ہے جس سے ان کی شہریت ثابت ہوسکے۔نوٹس میں مز ید کہا گیا ہے کہ اگر کوئی اپنی شہریت ثابت نہ کرسکا تو اس کا آدھار کارڈ منسوخ کردیا جائے گا۔دوسری جانب 127 افراد کو نوٹس بھیجنے کا معا ملہ عام ہونے پر دی یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا نے بھی مؤقف بدلتے ہوئے ملبہ حیدرآباد کی پولیس پر ڈال دیا ہے۔یو آئی ڈی اے آئی کا کہنا ہے کہ حیدرآباد پولیس کی جانب سے ان افراد کے حوالے سے ریجنل آفس کو آگاہ کیا گیا تھا کہ یہ افراد غیرقانونی تارکین وطن ہیں۔اْدھراِس معاملے پر مسلمان رہنما و آل انڈیا مجلس اتحاد بین المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اپنی ٹوئٹ میں انکا کہنا تھا کہ حکومت اور ادارے بتائیں، اِن 127 افراد میں کتنے مسلمان اور دلت ہیں؟ تلنگانہ کی پولیس سرچ آپر یشن کے دوران شہریوں سے آدھار کارڈ کے بارے میں پوچھنا بند کرے، وہ ایسا کرنے کے مجاز نہیں۔ یو آئی ڈی اے آئی کے نوٹس میں آد ھار کارڈ کے درست ہونے کو ثابت کرنے کے بجائے شہریت ثابت کرنے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو کیا ادارہ یہ نوٹیفکیشن بھیجنے والے افسر کو معطل کرے گا؟ انہوں نے یہ نوٹس بھیج کر واضح طور پر اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔علاوہ ازیں بھارتی ریاست تامل ناڈو میں بھی بڑی تعداد میں عوام متنازع شہریت کے قانون کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے اور چنئی میں مرکزی روڈ پر احتجاج کیا۔احتجاج مسلمان تنظیموں کے اعلان پر کیا جارہا ہے جس میں ہزاروں افراد شریک ہیں اور کئی سرکاری دفاتر کا گھیراؤ کیا گیا ہے۔

بھارتی افراد

مزید :

صفحہ اول -