حکومت کو وکیل، جج پسند نہ آئیں تو کیا ہمارے لئے بھی آرڈیننس جاری کر دیگی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ

حکومت کو وکیل، جج پسند نہ آئیں تو کیا ہمارے لئے بھی آرڈیننس جاری کر دیگی؟ ...

  

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ وزارت صحت اتنی نااہل ہے پتہ نہیں لگاسکی کراچی میں گیس سے لوگ کیسے مرے۔ منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی عمارت سیل کرنے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی تو اسلام آباد انتظامیہ نے جواب جمع کرایا کہ عمارت ہم نے نہیں بلکہ وزارت صحت نے سیل کی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے وزارت صحت اور وفاقی حکومت پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اس طرح کام کریگی تو لوگ پتھر ماریں گے ان کو گالیاں دیں گے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ یہ ادارے نہیں ہونا چاہیے تو پارلیمنٹ میں معاملہ پیش کرے، انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، آگ سے کھیل رہے ہیں، ایک وزارت میں بیٹھے سیکریٹری سمجھ لیتے ہیں عمارت کو تالہ لگا دینے سے معاملہ حل ہو جائے گا، کل وزارت صحت کو ایسے تالہ لگا کر باہر کھڑا کر دیں تو دنیا میں کیا تاثر جائے گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وزارت صحت اتنی نااہل ہے کہ کراچی میں گیس سے لوگ کیسے مرے اندازہ نہیں لگا سکی، ابھی اس وزارت نے اس نااہلی کے ساتھ کرونا وائرس سے بھی لڑنا ہے، ہر ادارے کے ساتھ یوں کیا گیا تو ملک تباہ ہو جائیگا، کیا وفاقی حکومت کو سمجھانے والا کوئی بھی نہیں ہے؟، ایک ادارے کے لوگ حکومت کو پسند نہیں آئے، انہیں گھر بھیج دیا گیا، کل حکومت کو وکیل اور جج پسند نہیں آئیں گے، کیا ہمارے لئے بھی آرڈیننس جاری کر دیں گے؟ ایسے الفاظ پٹواری بھی نہیں لکھتا جو وزارت صحت نے لکھ کر بھیجے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ اداروں کو تالے لگا کر لاکھوں شکایات پی ایم پورٹل پر حل کرنے کے دعوے ہوتے ہیں، پی ایم ڈی سی سے متعلق آرڈیننس عدالتی فیصلے کے بعد ختم ہو چکا۔عدالت نے سیکریٹری صحت سمیت تمام فریقین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 مارچ کو جواب طلب کرلیا جبکہ عمارت کو تالا لگانے والے افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -