ذخیرہ اندوزوں اورسمگلروں کے خلاف کارروائی کا حکم!

ذخیرہ اندوزوں اورسمگلروں کے خلاف کارروائی کا حکم!

  

وزیراعظم عمران خان نے گندم، آٹے اور چینی کے بعد دوسری غذائی اجناس کی طرف بھی توجہ دی اور ہدایت کی ہے کہ قیمتوں کو 15 سے20فیصد تک کم کیا جائے، پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کے دوران انہوں نے ذخیرہ اندوزی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ اس کی اجازت نہ دیں،کوئی بڑا ہو یا چھوٹا، قانونی جواز کے بغیر کوئی بھی شے زیادہ دن رکھی جائے تو اسے ضبط کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں کے لئے دس روز کی مہلت بھی دی کہ وہ اپنے ذخائر مارکیٹ میں لے آئیں،دوسری صورت میں مارچ کے پہلے ہفتے سے کریک ڈاؤن ہو گا، ن کا کہنا تھا کہ ملک کے غریب عوام کی تکلیف کے سامنے کوئی بھی قابل ِ معافی نہیں، اس کے علاوہ اس اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس کے استعمال اور نرخوں پر بھی غور کیا گیا،ان کو تفصیلی بریفنگ دی گئی کہ قیمتوں کا تعین کس طرح ہوتا ہے اور اس وقت حکومت ِ پاکستان اور قدرتی گیس مہیا کرنے والے ممالک کے درمیان معاہدوں کی نوعیت کیا ہے، جو سابقہ حکومتوں نے کئے۔وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بھی کمی لانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں جو کچھ ہوا اور رپورٹ ہوا،اس کا ذکر کر دیا گیا ہے،جس جذبے کا اظہار کیا گیا اور جو قدم اٹھانے کی ہدایت کی گئی وہ بھی قابل ِ تحسین ہے۔تاہم دیکھنا تو یہ ہے کہ اب عملی صورت کیا ہو گی، کیونکہ جو بھی حکم دیاگیا وہ ان ذمہ داریوں سے زیادہ نہیں، جو پہلے ہی سے متعلقہ اہلکاروں پر عائد ہوتی ہیں،اور نہ ہی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں پر کوئی ابہام ہے کہ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے قبل خود کپتان پٹرولیم کے نرخوں، ڈالر کی قیمت اور بجلی، گیس کی مہنگائی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔اسی طرح سمگلنگ کی روک تھام کے ذمہ دار ادارے بھی ہیں، مسئلہ تمام تر ارادے، نیت اور کام کرنے کا ہے۔اگر سب اپنے اپنے فرض کو نبھائیں تو یہ مسائل ہی پیدا نہ ہوں تاہم جہاں تک اجناس کی قیمتوں کا تعلق ہے تو ہم پہلے بھی عرض کر چکے کہ یہ کوئی بڑی سائنس نہیں، یہ سپلائی، ڈیمانڈ کا معاملہ ہے،جب قلت ہو گی تو ذخیرہ اندوز بھی فائدہ اٹھائیں گے،اسی لئے پورے نظام کی اصلاح چاہئے اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ سب سے پہلے بالکل درست اعداد و شمار ہوں کہ ضرورت کتنی اور پیداوار کتنی ہے، کمی یا فاضل ہے کہ نہیں،اس کے بعد ہی یہ تعین ہو گا کہ کم ہوتی شے کے لئے درآمد کی پالیسی بنائی جائے، تاہم ملکی اجارہ داروں کا محاسبہ بھی ضروری ہے، چینی کے حوالے سے اب تک نہیں ہوا، اور اب جو پٹرولیم کے نرخوں کی ہدایت ہے تواس میں بھی کوئی الجھن نہیں۔عالمی منڈی میں پٹرولیم سستا ہونے کے باوجود ہم نے قیمتیں کم نہیں کیں، اور فرق کو سرکاری خزانے میں شامل کر لیا اب اگر وزیراعظم کا حکم مان لیا گیا تو موجودہ عالمی نرخوں کے مطابق15 سے17 روپے فی لیٹر قیمت کم ہو سکتی ہے،اور اگر حکومت35روپے ٹیکس واپس لے لے تو اور بھی کم ہو سکتی ہے، جس سے پورے کاروبار پر مثبت اثر پڑے گا اور بجلی کی پیداوار بھی سستی ہو جائے گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -