مہنگائی مافیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ: کپتان کا اہم ترین میچ

مہنگائی مافیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ: کپتان کا اہم ترین میچ
مہنگائی مافیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ: کپتان کا اہم ترین میچ

  

پی ٹی آئی والوں کے بقول کپتان نے مہنگائی کے خلاف ڈنڈا اٹھا لیا ہے، گویا بلا اٹھانے کے عادی کپتان کو بحالت مجبوری ڈنڈا اٹھانا پڑا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے اثرات مہنگائی میں کمی کرتے ہیں یا ذخیرہ اندوزمافیا اشیاء کو غائب کر کے حکومت کے لئے مزید ہزیمت کا سامان پیدا کر دیتا ہے؟ ایک اجلاس میں کپتان نے ذخیرہ اندوزوں کو تمام اسٹاک دس دن کے اندر مارکیٹ میں لانے کی ہدایت دی ہے، اس کے بعد جو بھی ذخیرہ اندوزی کر کے بیٹھا ہے، اسے قانون کے شکنجے میں لایا جائے۔ یہ تک کہہ دیا گیا ہے کہ جو افسر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا، اسے بھی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ سب باتیں حوصلہ بڑھانے والی ہیں۔ عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ اشیائے خورو نوش کی قیمتیں 20سے 30 فیصد تک کم کی جائیں …… ہم تو پہلے ہی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اربوں روپے کے پیکیج دینے سے مہنگائی کم نہیں ہو گی، کیونکہ جو مہنگائی کرنے والے ہیں، وہ اس پیکیج کا اثر زائل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اشیائے خورو نوش کی کمی نہیں۔ سبزیاں، دالیں، آٹا، چینی، گوشت غرض ہر شے وافر موجود ہے، مگر ذخیرہ اندوزوں نے ظلم کی انتہا کر رکھی ہے، وہ غریب کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لینا چاہتے ہیں۔دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ اشیاء کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا ہو۔یہ کوئی اسٹاک ایکسچینج تو ہے نہیں،جہاں سٹے باز کام دکھاتے ہوں اور انڈکس کو اوپر نیچے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں …… مثلاً گوبھی اگر ایک دن پچاس روپے کلو ہے، تو اگلے دن سو روپے کلو کیسے ہو سکتی ہے؟ یکدم اس کی رسد کیسے کم ہو جاتی ہے؟ جب سے کولڈ سٹوریج اور عام سٹور یا گودام ہزاروں کی تعداد میں بنے ہیں، ایک متوازی مافیا وجود میں آ گیا ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر بجلی کے سوئچ کی طرح اشیاء کی سپلائی کو کم یا زیادہ کر کے مطلب کا ریٹ نکالتا ہے۔

لگتا تو یہی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان مسئلے کی اصل جڑ تک پہنچ گئے ہیں، مگر اب سوال یہ ہے کہ کیا ان کے پاس ایسا کوئی نظام موجود ہے جو مصنوعی مہنگائی پھیلانے والے اس مافیا کو نکیل ڈال سکے؟ ظاہر ہے اس مقصد کے لئے انہیں صوبائی حکومتوں پر انحصار کرنا پڑے گا، کیونکہ ساری انفورسمنٹ انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ مہنگائی کے خلاف اجلاس ایوان وزیراعظم میں ہوتے رہے ہیں، جبکہ معاملہ وزرائے اعلیٰ کے کورٹ میں ہے، جنہوں نے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں سے اس پر عمل کرانا ہے۔ صرف یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنے گی کہ جو افسر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے، انہیں حکومتی عتاب کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ وہ اپنے ڈویژنوں اور ضلعوں کے بے تاج بادشاہ ہوتے ہیں۔ اس کی بجائے انہیں یہ ٹاسک دیا جائے کہ وہ قیمتوں کو 20سے 30 فیصد کم کر کے اعداد و شمار بھجوائیں۔ جس ضلع یا ڈویژن میں قیمتیں کم نہ ہوں، اس ضلع یا ڈویژن کے ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کو فوراً عہدے سے ہٹا دیا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی مافیا سرکاری افسروں کی سرپرستی کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا، جس طرح کسی ایس ایچ او کی حدود میں اس کی مرضی کے بغیر جرائم نہیں پل سکتے،اسی طرح ضلعی اور ڈویژنل افسروں کی ملی بھگت کے بغیر مافیاز کا راج قائم نہیں ہو سکتا۔ کیا اسے حسن اتفاق کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے ہر شہر اور ضلع میں مہنگائی کا طوفانِ بدتمیزی بپا ہے، مگر نہ تو پرائس کنٹرول کمیٹیاں متحرک ہوئیں،نہ افسروں نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی۔ عوام چیختے رہ گئے کہ انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ سب لمبی تان کر سوئے رہے اور تنقید وزیر اعظم عمران خان پر ہوتی رہی۔ اگر اب بھی یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور کرپٹ افسر اپنا ریٹ بڑھا کر ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی پھیلانے والوں کے خلاف وزیر اعظم کی ہدایات کے باوجود کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتے تو یہ اس امر کا ثبوت ہوگا کہ حکومت کی صفوں میں مافیاز کی سرپرستی کرنے والے موجود ہیں جو ان افسروں کو بھی تحفظ دیتے ہیں، جو اپنا فرض ادا کرنے کی بجائے چمک کی وجہ سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔

مصنوعی مہنگائی پھیلانے والے بہت منظم اور طاقتور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ حکومتی اقدامات کو کس طرح ناکام بنانا ہے؟وہ تاجروں کو استعمال کریں گے، ہڑتالیں کرائیں گے، مارکیٹیں بند کر کے غائب ہو جائیں گے، اشیاء کی مزید قلت پیدا کریں گے تاکہ عوام چیخیں اور حکومت پر دباؤ پڑے۔ کیا کپتان نے ان سب باتوں کا توڑ سوچ رکھا ہے؟ اس حوالے سے ہوم ورک مکمل کرنے کی اشد ضرورت ہے،وگرنہ جو مصنوعی مہنگائی کر سکتے ہیں، وہ مصنوعی قلت پیدا کرنے پر بھی قادر ہیں …… اگر دس روز بعد ان پر آہنی ہاتھ ڈالنا ہے تو پھر انٹیلی جنس کا نظام اتنا سخت ہونا چاہئے کہ ہر ضلع میں اشیائے خورونوش کو ذخیرہ کرنے والوں کی تمام تر معلومات اور ذخیرہ کردہ سٹاک کی تفصیل ضلعی انتظامیہ کے پاس موجود ہو اور ان گوداموں کی کڑی نگرانی بھی متعلقہ پولیس کی ذمہ داری ہو کہ سٹاک راتوں رات کہیں اور غائب نہ کر دیا جائے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ خالی خولی بیانات تو ہمیشہ ہی دیئے جاتے رہے ہیں۔ یہ جملہ بھی ہزاروں بار دہرایا گیا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ ذخیرہ اندوزو ایسے بیانات پر ”یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں“ کہہ کر تین حرف بھیجتے رہے ہیں،کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت ان سے ٹکرانے کی جرأت نہیں کر سکتی۔

اب اگر عمران خان نے ان سے ٹکرانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے، تو اس میں انہیں حکومتی مشینری، سیاسی حمایت اور عوامی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو ان کے اقتصادی مشیروں کو یہ طے کرنا چاہئے کہ وہ کن اشیاء کی قیمتوں میں کتنی کمی چاہتے ہیں اور ملک میں ان اشیاء کی دستیابی کا احوال کیا ہے؟ اس کے بعد یہ ٹاسک صوبوں کو دیا جائے کہ وہ دی گئی ہدایات کے مطابق اشیاء کی قیمتیں نیچے لانے کا بندوبست کریں۔ صوبائی حکومتیں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے اس پر عملدرآمد کرائیں۔اس وقت بے لگام مہنگائی کا جو تاثر پھیل چکا ہے، اسے پچاس ارب کا امدادی پیکیج دے کر بھی ختم نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی مانیٹرنگ اور انتظامی اقدامات کے بغیر قابو پایا جا سکتا ہے، وزیر اعظم عمران خان اگر اس کی طرف متوجہ ہو چکے ہیں تو یہ بڑی حوصلہ افزاء بات ہے۔دوسری طرف انہیں آٹے اور چینی کا بحران پیدا کرنے اور اس سے اربوں روپے کمانے والے چہروں کو بھی بے نقاب کرنا چاہئے۔ ایف آئی اے کی تحقیقی رپورٹ سامنے لا کر ایسے افراد کو کیفر کردار تک پہنچا کر وہ مصنوعی قلت پیدا کرنے والے مہنگائی مافیا کو ایک سخت پیغام دے سکتے ہیں۔ انہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ان کے خلاف مہنگائی کے مسئلے پر اپوزیشن صف بندی کر رہی ہے، گویا یہ ان کے لئے ایک بڑا سیاسی چیلنج بھی ہے کہ مہنگائی کے پیچھے موجود مافیا کو لگام ڈالیں۔ دیکھتے ہیں اس اہم ترین میچ میں کپتان کس طرح اپنے مخالفین کو شکست دیتے ہیں؟

مزید :

رائے -کالم -