تیسرا عشق (آخری قسط)

تیسرا عشق (آخری قسط)
تیسرا عشق (آخری قسط)

  

لیکن اس ایشیائی سرزمین سے ان رسولوں کے علاوہ عام انسان بھی ایسے پیدا ہوئے جن کا عشق زبانِِ زدِ خاص و عام ہو گیا…… میری مراد ہیر رانجھا، سسی پنوں، مرزا صاحباں، لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد اور وامق عذرا وغیرہم سے ہے۔ ان کے عشق کے قصے مشہور بھی ہیں اور منظوم بھی کئے گئے۔ شائد اسی باعث ان کے عشق کو عشقِ حقیقی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ لیکن میرے نزدیک عشقِ حقیقی کو ان ایشیائی شخصیتوں کے نام سے معنون کرنا زیادتی ہے۔ میں ان عالمگیر عشاق کو عشاقِ حقیقی اور ان کی محبوباؤں کو معشوقانِ حقیقی تسلیم نہیں کرتا۔ ان حضرات و خواتین کے عشق کوشائد اس لئے بھی عشقِ حقیقی کا مقامِ بلند عطا کیا جاتا ہے کہ یہ جوڑے آپس میں کسی جنسی ملاپ سے سرشار نہ ہوئے، ان کی محبت اگرچہ حد درجہ شدید تو تھی لیکن اس کا انجام وصال پر نہیں، فراق پر ہوا۔ ان میں کوئی بھی جوڑا (Couple) اپنی منزلِ مقصود (جنسی ملاپ) پر نہ پہنچا، سب نامراد ہوئے، سب کا خاتمہ حالتِ جدائی میں ہوا، دونوں ایک دوسرے کو دور دور سے تکتے رہے، اور جسمانی قربت کسی کو بھی نصیب نہ ہوئی۔ ایک دوسرے کے فراق میں آہ و زاری کی انتہائیں کر دیں لیکن گوہرِ وصال نصیب میں نہیں تھا وغیرہ وغیرہ……

میں ان بظاہر عشاقانِ حقیقی اور معشوقانِ حقیقی کی حکایات کو عشقِ حقیقی کی حکایات تسلیم نہیں کرتا۔ اس بارے میں میرے دلائل یہ ہیں:

کسی فارسی شاعر نے کہا ہے:

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

ہم جانتے ہیں کہ ان ایشیائی جوڑوں (Couples) کے عشق کی شہرت قصہ نویسوں، شاعروں یا داستان گو حضرات پر منحصر تھی۔ یہ باور کر لینا کہ ان کا عشق صرف تاک جھانک سے شروع ہوا اور نوبت خودکشی کرنے تک آ گئی، خلافِ فطرت ہو گا۔جنسی ملاپ کی بھی حدود مقرر ہیں۔ سماجی، خاندانی یا مذہبی اختلافات کی وجہ سے کسی مرد اور عورت کا ایک دوسرے پر فریضتہ ہو جانا محالات میں سے نہیں۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ لیکن آتشِ عشق کے شعلے تادیر دبے نہیں رہ سکتے۔ مثل مشہور ہے کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔ جو مجازی عشق محض دید و شنید سے شروع ہوتا ہے وہ محض دید و شنید پر ختم نہیں ہوتا۔ اس آتش کو فروزاں رکھنے کے لئے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی ایندھن کی چوب ہائے سوختنی کو ملاپ کہا جاتا ہے۔ آتشِ شوق کی تپش مزید تیز تر کرنے کے لئے زیادہ ایندھن ضروری ہوتا ہے۔ یہ عشق، عشقِ مجازی کہلاتا ہے اور یہ اگر خالصتاً صدق و صفا کے ساتھ مشروط ہو تو عشقِ حقیقی کا آغاز بن جاتا ہے۔ اگر رانجھا کئی برس تک ہیر کے والد کی بھینسیں چراتا رہا اور ان کی دیکھ بھال کرتا رہا تو اس کی منزلِ مقصود ہیر کے ساتھ جنسی ملاپ تھا۔ بعض سماجی پابندیوں کی وجہ سے اگر ان دونوں کی ”شادی“ نہ ہو سکی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو دور دور سے دیکھ کر آہیں بھرا کرتے تھے۔ اسی طرح قیس اگر لیلیٰ کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا تو اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ وہ صرف ایک نظر دیکھ کر لیلیٰ پر سو جان سے قربان ہو گیا تھا۔ اس عشق و عاشقی کا دورانیہ محض چند لمحے، چند دن، چند ہفتے یا چند سال نہیں ہو سکتا۔

خیال اغلب ہے کہ اس طویل دورانیے میں ان ”عاشقانِ پاک طینت“ نے اسرار و رموزِ عشقِ مجازی کے کئی مراحل طے کئے ہوں گے، کئی امتحانوں سے گزرے ہوں گے اور کئی رکاوٹیں راہ میں حائل ہوئی ہوں گی۔ کوئی بھی کلاسیکل عشقِ مجازی صرف نظر بازی تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اگر عاشق خدا نہیں اور محبوبہ حور نہیں اور دونوں کا تعلق خاکی آدم زاد سے ہے تو حجابوں میں ملنا چہ معنی دارد؟…… اگر دونوں ”فریق“ گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں تو بوس و کنار تک نوبت ضرور آتی ہے۔ گجرات کی سوہنی اگر دریائے چناب عبور کرنے کے لئے کچے گھڑے کا گلا تھام کر پانی میں کود گئی تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ وہ چناب کے دوسرے کنارے پر پہنچ کر اور مہینوال کو اپنے سامنے پا کر اس کے پاؤں میں سجدہ ریز ہونے جا رہی تھی۔ وہ دونوں تو ہم آغوشی کے لئے بے تاب تھے۔ عبورِ دریائے چناب محض ایک امتحان تھا۔ اس امتحان میں کامیابی یہ تھی کہ دونوں جنسی ملاپ کی وہ حد عبور نہ کریں جس کی ممانعت باقاعدہ شادی سے پہلے ان کا سماج اور مذہب کرتا ہے۔ اس حد سے پیچھے رہ کر بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے جو عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کے درمیان کی کوئی منزل کہی جا سکتی ہے۔ اگر اس منزل کو عشقِ حقیقی یا مجازی کا نام نہ دیا جائے تو کوئی نیا نام تراش لینے میں کیا ہرج ہے؟…… اسی پراسس کو ”تیسرا عشق“ کہا جا سکتا ہے۔

میرے خیال میں عشقِ حقیقی اگر بے جان اور غیر انسانی مخلوق سے محبت کا نام ہے تو عشقِ مجازی جیتی جاگتی صنفِ مخالف سے اس محبت کا نام ہے جس کی منزل جسمانی وصال ہے۔ آغازِ محبت کے لمحے سے لے کر جنسی ملاپ یا وصال کے لمحے تک عاشق اور معشوق کے درمیان جو جسمانی راز و نیاز ہوتے ہیں، انہی کو تیسرا عشق کہا جا سکتا ہے۔ یہ تیسرا عشق، عشقِ مجازی کی پیشگی شرط بھی ہے۔ عشقِ حقیقی اگر پیغمبروں، اولیاؤں اور خدا کے چنیدہ بندوں کو محیط ہے تو عشقِ مجازی خدا کے باقی ”بندوں اور بندیوں“ کو ”لاحق“ ہوتا ہے۔ یعنی تیسرا عشق، وہ عشق ہے جو انسانوں کو عشق مجازی کی آخری منزل تک لے جاتا ہے، آتشِ عشق کو بھڑکاتا ہے اور انسان کو مرنے مارنے اور خودکشی کرنے تک لے آتا ہے۔ یہ تیسرا عشق ہر دور میں موجود رہا ہے اور بڑی فراوانی سے دستیاب ہوتا ہے۔ ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ ایک مذکر انسان نے دوسرے مونث انسان کو حاصل کرنے کی اشد تگ و دو کی اور جب یہ تگ و دو وصال پر منتج نہ ہوئی تو اس نے خودکشی کر لی ہے۔ اسلام میں اگرچہ خودکشی حرام تصور ہوتی ہے لیکن عشاق کا تو کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ مولانا عبدالرحمن جامی کا شعر ہے:

بندۂ عشق شدی، ترکِ نسب کن جامی

کاندریں راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست

]اگر عشق (مجازی) اختیار کیا ہے تو نام و نسب کا خیال نہ کر کہ اس راہ میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ فلاں غریب محض ہے اور فلاں امیر محض ہے[

ایک مشہور پنجابی کہاوت ہے کہ: ”بھکھ نہ پُچھے سالناتے عشق نہ پُچھے ذات“…… کہا جاتا ہے کہ عشقِ مجازی، عشقِ حقیقی کی سیڑھی بھی ہے۔ کوئی انسان ایک دم چھلانگ لگا کر تو بامِ عشقِ حقیقی تک نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن عشق مجازی کی اس سیڑھی کے کئی زینے ہوتے ہیں۔ پہلا زینہ جسے پنجابی میں پوڑی اور انگریزی میں Step کہا جاتا ہے ”دید و شنید“ سے شروع ہوتا ہے اور جوں جوں یہ جوڑا اگلی سیڑھیوں پر قدم رکھتا ہے توں توں یہ مجازی دید و شنید، مجازی دست و گریبان پکڑنے اور ”ہاتھا پائی“ کرنے تک چلی جاتی ہے۔ حضرت اقبالؒ نے عشقِ مجازی کی پہلی سیڑھی کا جو نقشہ اس شعر میں کھینچا ہے وہ ان کا کمالِ فن ہے۔ فرماتے ہیں:

یک نگاہ، یک خندۂ د زدیدہ، یک تابندہ اشک

بہرِ پیمانِ محبت، نیست سو گندے دگر

]عشق مجازی کی ابتدا ایک نظر بھر کر محبوب کو دیکھنے، پھر چوری چوری ہنسنے اور پھر ایک چمکتا ہوا آنسو ٹپکانے سے ہوتی ہے۔یہ علامات اگر دیکھنے کو ملیں تو والہانہ محبت کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی اور قسم یا سوگند نہیں ہو سکتی[

عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کے بارے میں ایک اور غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے…… باور کر لیا گیا ہے کہ عشقِ حقیقی صرف منتخب انسانوں کے مقدر میں ہی ہوتا ہے۔ ان میں بیشتر اللہ کے محبوب بندے شمار ہوتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا اس قسم میں خدا کے پیغمبر، رسول اور اولیائے کرام شامل ہیں۔ یہ عشق خدا اور بندے کے درمیان ہے …… اسی طرح بعض حضرات یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حقیقی عشق اگر دو انسانوں کے درمیان پایا جائے تو وہ دونوں مرکر امر ہو جاتے ہیں۔ یعنی دونوں کا انجام موت ہے۔ یہ دونوں مرتے دم تک فراق کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی ایسے انسان (مرد اور عورت) پائے جائیں وہ لوک داستانوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان پر کتابیں لکھی جاتی ہیں، فلمیں اور ڈرامے پروڈیوس کئے جاتے ہیں اور مقامی ادب و ثقافت میں ان کا ایک خاص مقام بن جاتا ہے۔ کلاسیکل عشاق جوڑے، ثروت مند (Rich) زبانوں کے لٹریچر میں گرانقدر ادبی اور شعری اضافے کرتے ہیں۔ لیکن یہ عشق اس عشق سے الگ حیثیت رکھتا ہے جو پیغمبروں اور خدا کے برگزیدہ بندوں کو خدا کی ذات سے ہوتا ہے۔ لیکن اس سے کمتر درجے کا عشق جو مجازی عشق کہلاتا ہے اس میں جسمانی ملاپ گویا ایک جزوِ حقیقی ہے۔ جس طرح عشقِ مجازی سے عشق حقیقی تک کا سفر اول الذکر عشق کی اگلی منزل ہے اسی طرح عشقِ مجازی سے پہلے کی منزل ”تیسرا عشق“ کہا جاتا ہے۔ اردو اور فارسی کے کئی شعرا نے اس ”تیسرے عشق“ کو بڑی صراحت سے بیان کیا ہے…… چند مثالیں دیکھئے:

غنچہء ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کے یوں

بوسے کو پوچھتا ہوں میں، منہ سے مجھے بتا کہ یوں

غالب

……………………

اسد خوشی سے میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے

کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے

غالب

…………………………

ہم سا رندِ باکرامت کیا کوئی ہو گا کہ ہم

دن کو درویشی کریں، راتوں کو سلطانی کریں

…………………………

دن کو ہم ان سے بگڑتے ہیں، وہ شب کو ہم سے

رسمِ پابندیء اوقات چلی آتی ہے

…………………………

رات اس قبا میں ہاتھ کچھ ایسے بھٹک گئے

غنچے ہزار شاخِ ہوس میں چٹک گئے

…………………………

خلوتِ شب میں جو درپے ہو زلیخائے بہار

ہم نہیں یوسف کہ عذرِ پاک دامانی کریں

…………………………

کل رات میکشوں نے توازن جو کھو دیا

خطّ ِ سبو پہ کون و مکاں ڈولتے رہے

پروفیسر سراج الدین ظفر

…………………………

بوسہ نہیں نہ دیجئے دشنام ہی سہی

آخر زباں تو رکھتے ہو تم، گر دہاں نہیں

غالب

مزید :

رائے -کالم -