ایف بی آر افسران کے پورے پورے خاندان پرال کمپنی میں ملازم ہیں،سپریم کورٹ

ایف بی آر افسران کے پورے پورے خاندان پرال کمپنی میں ملازم ہیں،سپریم کورٹ
ایف بی آر افسران کے پورے پورے خاندان پرال کمپنی میں ملازم ہیں،سپریم کورٹ

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایف بی آر کا ریکارڈکمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے کہاہے کہ انتہائی حساس ڈیٹا نجی کمپنی کو کیسے دیدیاگیا؟، ایف بی آر افسران کے پورے پورے خاندان اس کمپنی میں ملازم ہیں،پرال کمپنی کو ختم کرکے نیب کو تحقیقات کا کہہ دیتے ہیں ،ایف بی آر اپناکام خودکرے ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ایف بی آر کا ریکارڈکمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیا کہ انتہائی حساس ڈیٹا نجی کمپنی کو کیسے دیدیاگیا؟،ایف بی آر کاریکارڈحساس ترین ہوتا ہے،کیا ایف بی آر ٹیکس بھی جمع کرنے نجی کمپنی کو ہی دیتا ہے ۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ پرال نامی نجی نہیں پبلک لمیٹڈہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایف بی آر افسران کے پورے پورے خاندان اس کمپنی میں ملازم ہیں،پرال کمپنی کو ختم کرکے نیب کو تحقیقات کا کہہ دیتے ہیں ،ایف بی آر اپناکام خودکرے ۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی سرکاری افسر پرال کمپنی سے تنخواہ نہیں لے رہا ،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ایف بی آر والے اپنا آئی ٹی سسٹم کیوں نہیں بناتے ؟،چیئرپرسن ایف بی آر نے کہاکہ سول سروس میں تنخواہیں کم ہونے سے تکنیکی لوگ نہیں آتے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ایف بی آر کو پرال کے قیام سے کیافائدہ ہوا؟،کیاایف بی آر کی ٹیکس ریکوری میں اضافہ ہوا؟،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایف بی آر افسران آن لائن پاس ورڈز کیساتھ جو کھیل کھیلتے ہیں معلوم ہے ،بلاوجہ اربوں روپے کے ٹیکس ری فنڈ جاری کئے جاتے ہیں ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ غیرقانوی ٹیکس ری فنڈ کے کئی مقدمات عدالت میں ہیں ،آن لائن سسٹم سے بھی دونمبری ہی ہونی تواس کا کیافائدہ ؟۔عدالت نے ایف بی آر کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد