ارشدملک ایئرفورس یا پی آئی اے میں سے ایک کاانتخاب کریں ،سپریم کورٹ،طیارہ گمشدگی سے متعلق پی آئی اے کی رپورٹ مسترد

ارشدملک ایئرفورس یا پی آئی اے میں سے ایک کاانتخاب کریں ،سپریم کورٹ،طیارہ ...
ارشدملک ایئرفورس یا پی آئی اے میں سے ایک کاانتخاب کریں ،سپریم کورٹ،طیارہ گمشدگی سے متعلق پی آئی اے کی رپورٹ مسترد

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے طیارہ گمشدگی سے متعلق پی آئی اے کی رپورٹ مستردکردی،عدالت نے پی آئی اے کے سربراہ کی تعیناتی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ارشدملک ایئرفورس یا پی آئی اے میں سے ایک کاانتخاب کریں ،قومی ایئر لائن کو عارضی نہیں مستقل سربراہ کی ضرورت ہے ،پی آئی اے میں عاضی تعیناتی حکومت کی غیر سنجیدگی ظاہر کرتا ہے ،پی آئی اے کو ایسا سربراہ چاہئے جو اسے عالمی معیار کی ایئرلائن بنائے ۔

میڈیارپورٹس کے مطابق پی آئی اے کے سربراہ کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ گمشدہ جہاز کے حوالے سے پی آئی اے کی رپورٹ پڑھی ہے،وکیل نیب نے کہا کہ پی آئی اے بورڈ نے عدالت کومکمل حقائق نہیں بتائے ،تحقیقات جاری ہیں ،عدالت مزید وقت دے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ نیب کو صرف وقت ہی چاہئے ہوتا ہے نیب اپنی تحقیقات جاری رکھے ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ جہازفروخت کرنے کافیصلہ کب اورکہاں ہوا؟وکیل پی آئی اے بورڈ نے کہا کہ جرمن سی ای او نے جہازفروخت کرنے کافیصلہ کیا ۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ فیصلہ یہ ہواتھا کہ جہاز کمرشل مقاصد کیلئے استعمال نہیںہوگا،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ جہازمالٹا میں شوٹنگ کیلئے استعمال ہوا ،جہازمالٹا میں فلم کی شوٹنگ کیلئے استعمال ہوااس کے بعدجرمنی گیا ۔وکیل پی آئی اے بورڈ نے کہا کہ شوٹنگ کی مد میں ادارے کو2 لاکھ 10 ہزاریوروملے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پی آئی اے کے لوگو کیساتھ کیا معلوم کونسی فلم شوٹ ہوئی ہو گی ،فلم بنانے والی کمپنی اسرائیلی ہونا بہت سنجیدہ بات ہے ،جہاز کی قیمت فروخت سے زیادہ لگتا ہے جرمنی پہنچانے کی ادائیگی کی گئی ،جہازجرمنی ایئرپورٹ پرپارک ہوا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جائزہ لیا جارہاہے جہاز اتناعرصہ جرمنی میں کیوں کھڑا رہا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ نجی کمپنیاں اپنے ادارے کے حوالے سے ایک دن میں فیصلے کرتی ہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جہاز فروخت کرنے کافیصلہ پی آئی اے بورڈ کا نہیں تھا ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پی آئی اے نے اپنا ایک جہاز ہی بھجوا دیا،پی آئی اے نے مزید چارجہاز بھی گراﺅنڈ کئے ،باقی 3 جہاز کہاںفروخت ہوئی کچھ معلوم نہیں ،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیاباقی 3 جہاز کھول کر کباڑ خانے میں تونہیں دے دیئے؟،کیاایسے حالات میں موجودہ انتظامیہ کوکام کرنے دیں ؟،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ کھلی عدالت میں مزید کچھ نہیں کہناچاہتا ،پی آئی اے والے صرف کاغذی کارروائی کرکے آتے ہیں ۔

عدالت نے کہاکہ پی آئی اے کو پروفیشنل انداز میں چلاناجاناچاہئے،پی آئی اے میں سہولیات کا غلط استعمال کیاجاتا ہے،پی آئی اے ملازمین جہازوں کو ذاتی استعمال میں لاتے ہیں ،ارشد محمود ملک کی تقرری حکومت کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے،لگتا ہے حکومت پی آئی اے کو ایڈہاک ازم پر چلاناچاہتی ہے ۔

عدالت نے کہاکہ ایئرچیف جب چاہیں ارشد ملک کی خدمات واپس لے سکتے ہیں ،پی آئی اے کو مستقل سربراہ کی ضرورت ہے ،ایسا چیئرمین جو ادارے کو پروفیشنل انداز میں چلا کر پی آئی اے کو منافع بخش بنائے،عوام کو بہترین سروس مناسب کرایوں پر ملنی چاہئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ارشد ملک ایک ساتھ دو عہدے نہیں رکھ سکتے ،ڈیپوٹیشن پرسربراہ کی تقرری غیرقانونی ہے،ارشد ملک سے پوچھ لیں وہ کون ساعہدہ رکھناچاہتے ہیں؟،نعیم بخاری نے سی ای او ارشد ملک سے ہدایات لینے کیلئے وقت مانگ لیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سابق وزیراعظم علاج کیلئے پی آئی اے کا جہاز ساتھ لے گئے ،جب تک وزیراعظم کا علاج ہوتا رہا طیارہ لندن ایئرپورٹ پر کھڑا رہا،عدالت کو سب معلوم ہے ہماراحافظہ کمزور نہیں ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ارشد ملک اپنی ایئرفورس کی سروسز سے دستبردار ہوکر پی آئی اے میں آجائیں ،فوج نے پاکستان سٹیل ملز کو سنبھالا توکچھ ڈیلیور نہ کیا،سٹیل ملزہرماہ منافع دیئے بغیر اربوں کا خسارہ کررہی ہے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایئرمارشل نور خان بھی پی آئی اے میں رہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایئرمارشل نور خان کی بات الگ ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہم ٹکٹ لینے جائیں تو کہاجاتا ہے نہ جہاز ہے نہ ٹکٹ،ٹکٹ نہ ملے تو بذریعہ سڑک ہی ہم لاہور چلے جاتے ہیں ،وفاقی حکومت کے تمام اداروں کے سربرای عارضی ہیں،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ حکومتی اتنی ہی ناکام ہوچکی ہے تو سب سول ادارے بندکردیں،آپ کی یہ دلیل کسی صورت قابل قبول نہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ پی آئی کے سوال سربراہ کو یونین نے یرغمال بنالیاتھا،یونیفارم افسر ہوتوادارے پر رعب رہتا ہے،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ حالات ایسے ہی ہیں توسول بیوروکریسی کو بند کردیں،عدالت نے کیس کی سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں /قومی /علاقائی