چین کی کرونا وائرس کے بارے میں سازشی نظریات پر تنقید

چین کی کرونا وائرس کے بارے میں سازشی نظریات پر تنقید
چین کی کرونا وائرس کے بارے میں سازشی نظریات پر تنقید

  



بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین نے کہا ہے کہ نوول کرونا وائرس کے بارے میں سازشی نظریات پھیلا نے والے افراد کی بری نیت عیاں ہے اور ایسے لوگ مضحکہ خیز جہالت کا شکار ہیں،بعض مغربی افراد اور ذرائع ابلاغ یہ کہہ رہے ہیں کہ نوول کرونا وائرس کا تعلق چین کے حیاتیاتی جنگی پروگرام سے ہو سکتا ہے اور یہ لیب سے خارج ہونے والا حیاتیاتی ہتھیار ہے۔

چینی وزارت خارجہ کےترجمان گینگ شوانگ نےآن لائن نیوزبریفنگ میں کہا کہ ہمیں امید ہےکہ بین الاقوامی برادری وائرس کیخلاف جنگ کی طرح سازشی نظریات اور سیاسی وائرسوں سے نمٹنے کیلئے بھی ہمارے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی۔گینگ نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے متعدد مرتبہ کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کرونا وائرس کسی تجربہ گاہ میں تیار کیا گیا یا حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کی وجہ سے وجود میں آیا۔دنیا کے معروف طبی ماہرین کا بھی یہ خیال ہے کہ لیبارٹری رسا یا حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری جیسے الزامات کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔گینگ کا کہنا تھا کہ ایک مستند بین الاقوامی میڈیکل جریدے دی لانسیٹ نے صحت عامہ کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے دنیا کے 27 ماہر سائنسدانوں کے دستخطوں کے ہمراہ کرونا وائرس کیخلاف جنگ میں مصروف چینی تحقیقی عمل اور طبی کارکنوں کی حمایت میں ایک مشترکہ بیان شائع کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد ممالک کے سائنسدانوں نے وائرس کا جنیاتی تجزیہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بہت سارے دیگر پھیلتے ہوئے جرثوموں اور وائرسوں کی طرح کرونا وائرس کی ابتدا بھی جنگلی حیاتیات سے ہی ہوئی۔ان سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سازشی نظریات وائرس کیخلاف جنگ میں عالمی سطح پر تعاون کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں جو خوف، افواہیں اور تعصب پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

گینگ نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے پیشہ ورانہ مشوروں کا احترام کیا جائے چینی عوام نہ صرف اپنے مفاد کیلئے بلکہ عالمی سطح پر عوامی صحت کے لئے کرونا وائرس کیخلاف ایک مکمل جنگ لڑ رہے ہیں۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ وائرس کا سامنا کرنے کیلئے ہمیں سائنس، منطق اور تعاون کی ضرورت ہے۔ ہمیں لاعلمی پر سائنس کو فروغ دینا چاہئے، افواہوں کی سچائی سے حوصلہ شکنی اور تعصب کی جگہ تعاون کو فروغ دینا چا ہئے۔

مزید : بین الاقوامی