مسکان تیری جرات کو سلام 

 مسکان تیری جرات کو سلام 
 مسکان تیری جرات کو سلام 

  

نمرود نے حضرت ابراہیم  علیہ السلام کو آگ میں پھینکنے کا ارادہ کیا۔ منادی کر ا دی گئی۔ علاقے کے تمام لوگ نمرود کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے حسب توفیق لکڑیاں جمع کرنے لگے، کئی دنوں تک لکڑیاں جمع کرنے کا سلسلہ جاری رہا اور آخر وہ دن آ گیا جب آتش نمرود جلا دی گئی،حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکنے کے لیے منجنپق  تیار کر لی گئی، آگ کے شعلے اس طرح بلند ہو رہے تھے جیسے آسمان کو چھو جائیں گے۔ یہاں پر قابل غور تین چیزیں ہیں ……جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا جارہا تھا تو حضرت جبرائیل امین حاضر ہوئے اور کہنے لگے، کیا آپ کو میری مدد کی ضرورت ہے؟ تو قوت ایمانی ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، جہاں تک تیرا تعلق ہے مجھے تجھ سے کوئی غرض نہیں۔میرا اللہ میرے حالات سے بہتر واقف ہے۔

دوسری وہ چھپکلی تھی جو اس آگ کو پھونکیں مار رہی تھی، کسی نے  کہا تم پاگل ہو اتنی آگ تو جل رہی ہے، تمہاری پھو نک  یہاں پر کیا اثر کرے  گی؟ چھپکلی نے  جواب دیا میری پھونکیں  کچھ کریں نہ کریں، نفرت کا اظہار تو ہوگا۔اسی طرح ایک بلبل چونچ میں پانی لے کر آتی اور آگ پر پھینک کر دوسرا قطرہ لینے چلی جاتی، کسی نے کہا تمہارے ایک قطرے سے آگ کا طوفان سمندر کیسے بن جائے گا تو بلبل نے جواب دیا، نہ بجھے میری محبت کا اظہار تو ہوگا؟

بالکل ایسا ہی منظرنامہ آج ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں دیکھنے کو ملا جہاں پر بہت سے ہندو طلبہ اپنے بھگوان کے نام کے نعرے لگا رہے تھے، مسکان کو نقاب ہٹانے کے لیے پریشان کر رہے تھے، پہلے اسے کالج میں داخل ہونے کے لئے برقعہ اتارنے کا کہا، جب اس مسلمان لڑکی نے انکار کردیا تو یہ لوگ  اپنے بھگوان  کے نعرے لگاتے اس لڑکی کے قریب آنے لگے، عین ممکن تھا کہ وہ اس پر حملہ آور بھی ہو جاتے، لیکن مَیں سلام پیش کرتا ہوں اس شیر دل شہزادی کو، جس کے اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں نے یہ بات عیاں کردی کہ:

زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا 

جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے 

سلام ہے اس نہتی مسلمان لڑکی کی ہمت کو کہ جس نے پچیس تیس کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔اس بہادر لڑکی کا یوں کفار کے سامنے کھڑے ہو جانا اویسی خاندان کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے، جو کہتے ہیں کہ ہم ہندوستان میں اپنی مرضی سے رہ رہے ہیں اور قائداعظم کا فیصلہ غلط تھا،لیکن آج مسکان نے ثابت کردیا کہ وہ اکیلی اتنے ہندوؤں کا مقابلہ تو نہیں کرسکتی تھی، لیکن اس کی اس جرات نے دین اور اللہ سے محبت تو ظاہر کردی۔اب لگتا ہے کہ بہت جلد وہ وقت آئے گا جب ہر گھر سے اسی طرح نوجوان نسل اپنے دفاع کے لئے نکلے گی،میرے خیال میں تو آج مسکان نے ایک اور پاکستان کی بنیاد رکھ  د ی ہے، اللہ کریم اس مسلمان بہن کوہندو توا اور مودی جیسے انتہاپسندوں کے غضب سے محفوظ رکھے، آمین۔

یقین کریں، آج مسکان نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو جھنجھوڑ دیا ہے، لیکن ایک اہم بات جس کی طرف مَیں اپنے قارئین کرام کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں،وہ یہ کہ ایک مسکان سوشل میڈیا کی بدولت تمام مسلمانوں کے سامنے آگئی، لیکن ذرا سوچئے ان لاکھوں بہنوں کا جو کشمیر، برما،بوسنیا چیچنیا، کسووو،میں اپنے برادر اسلامی ممالک اور انسانی حقوق کی ٹھیکیدار عالمی تنظیموں کی توجہ کی منتظر ہیں۔آج جس بہادری اور دیدہ دلیری کے ساتھ مسکان ان  انتہا پسند ہندوؤں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوئی ہے،  مَیں اس سے خوفزدہ بھی ہوں، کیونکہ بھارت پاکستان جیسا نہیں ہے، جہاں پر جس کا جو دل کرے پاکستان کے خلاف کہہ دے اور ریاست وسیع تر ملکی مفاد میں خاموش رہے۔ وہ ہندو انتہا پسندوں کا ملک ہے، مودی جیسے عالمی شہرت یافتہ قاتل کا ملک ۔خدانخواستہ مسکان کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیا جائے۔ڈیرے دار کے خیال میں تو غزوۂ ہند کی ابتدا ہو چکی ہے، اب وہ وقت دور نہیں جب عالم اسلام کفر کو مٹا دے گا۔بہرحال اپنی عزت،  جان، مال اور نسلوں کی بقاء کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کو ان ہندوؤں کے سامنے کھڑا ہونا  ہوگا، ہندوستان میں پھر سے تحریک پاکستان شروع ہونے کا وقت آ گیا ہے،اگر یہ پچیس تیس کروڑ مسلمان آزادانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو  انہیں پھر سے دو قومی نظریہ پیش کرنا ہوگا، پھر سے اقبال اور محمد علی جناح کو ہندوستان آنا ہوگا تاکہ یہ تیس کروڑ مسلمان سکھ کا سانس لے سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -