یادِ  رفتگاں 

یادِ  رفتگاں 
یادِ  رفتگاں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ریاض کو ساری گوالمنڈی ڈاکٹر ریاض کے نام سے جانتی ہے، پیشے کے اعتبار سے جراح  اور معروف جراحوں کے خاندن سے تعلق رکھتے ہیں۔ریاض کو ڈاکٹرریاض کا خطاب میرے بزرگ خواجہ پرویز نے دیا تھا جس پر ریاض کو فخر تھا۔ آج کے نفسا نفسی اور معاشی استحصال کے دور میں بھی اُس کی طبیعت میں انکساری اور انسان دوستی موجود تھی، اُس نے شادی نہیں کی یا ہوئی نہیں اِس بارے میں مجھے آگاہی نہیں مگر اُس کا انسان دوستی کا بھرم، موسیقی سے لگاؤ اور اولیائے کرام کے مزارات کی حاضری نے اُسے عجز و انکساری کا پیکر بنادیا تھا، میری ریاض عرف ڈاکٹر ریاض سے واقفیت بچپن ہی سے تھی جو آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اور میں کم و بیش اُس کو روزانہ ہی اُس کی دکان پر ملنے جاتا تھا،وہ میری خاطر ومدارت کبھی گجریلے کبھی چائے اور کبھی رس ملائی سے کرتا، اُس کی وجہ ہم دونوں کی قدر مشترک اچھی خوارک اور بسیار خوری کی عادت تھی، اِسی تگ و دو میں کبھی وہ مجھے کہتا کہ خواجہ صاحب موٹر سائیکل سٹارٹ کرو آج فلاں جگہ سے یہ چیز کھا کر آتے ہیں، پھر ہم دونوں موٹر سائیکل پر مقررہ دکان پر پہنچ جاتے۔اندورن شہر کی زندگی میں جو مہمان نوازی کی جھلک باقی رہ گئی تھی ریاض اس کی آخری نشانی تھا،اس کو گانے کا شوق بھی تھا، مجھے اُس نے دکان پر کئی بار محمد رفیع،مہدی حسن اور مسعود رانا کے کئی گیت سنائے،خود وہ ملکہ ترنم نورجہاں کا پرستار تھا اور اُس کے گیتوں کو بڑے انہماک سے سنتا تھا۔


 اُس نے مجھے بتایا کہ کافی عرصہ قبل جب نورجہاں خواجہ پرویز صاحب کے گھر تشریف لائیں تو خواجہ صاحب نے نہ صرف اُن سے میری دوبدو ملاقات کرائی بلکہ اُن کے سامنے گانے کو بھی کہا جو میر ے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ریاض اپنے پیشے کے حوالے سے بھی بڑا مشہور تھا، اللہ نے اس کے ہاتھ میں بہت شفا رکھی تھی، ایک دو پٹیوں میں وہ مریض کو ٹھیک کردیتا تھا حالانکہ اُس کے پیش رو کئی ہفتوں تک مریض کو پٹیوں میں اُلجھائے رکھتے تھے اور دوسرا اُس کی مشہوری اِس وجہ سے تھی کہ مریض اُسے جو بھی دیتا وہ رکھ لیتا کبھی زیادہ کا تقاضہ نہیں کیا اور اگر کسی نے پیسے نہ بھی دیئے تو بھی چپ رہا کبھی تو مجھے محسوس ہوتا کہ لوگ اُسے جانتے ہیں اور وہ اُن سے پیسے نہیں لیتا مگر مریض کے جانے کے بعد کہتا خواجہ اُس کے پاس پیسے نہیں تھے مجھے اُس کی شکل دیکھ کر ہی سمجھ آگئی تھی اُس لیے اُس سے تقاضا نہیں کیا۔ ایک بار رنگ محل میں سوپ کا کاروبار کرنے والے بھولا کو پاؤں پر پھوڑا نکل آیا،یہ زخم اُس کی کوتاہی سے بگڑ گیا اور اُس میں مواد پیدا ہوگیا، اُس نے کئی جگہ سے علاج کرایا مگر افاقہ نہ ہوا آخر وہ ریاض کے پاس آیا اور اپنا مدعا بیان کیا، ریاض نے اپنی جراحت کے تجربے کی بناء  پر اُس کو ٹھیک کیا اور بھولے نے اسے ایک خاص رقم کی آفر کی تو ریاض نے جواب دیا کہ ِاس رقم کو اپنے اردگرد والو ں میں بانٹ دو کیونکہ تمہارا زخم اللہ کے کرم سے ٹھیک ہوا ہے۔


گزشتہ برسوں کورونا کی شدت کے دنوں میں اُس کا اثر ریاض کی طبیعت پر بھی پڑا اور وہ شدید بیمار ہوا اور اپنی بہن کے گھر شفٹ ہو گیا، لمبے علاج کے بعد وہ دوبارہ اِس قابل ہوا کہ دکان پر آکر بیٹھ سکے۔ اُس سے پھر ملاقات ہوئی تو اُس نے بیماری کا بتایا کہ کیسے بیماری نے اُس کے جسم کو کمزور کردیا ہے اب اچھی غذا کے استعمال سے اُس کی قوت مدافعت بڑھی ہے اور وہ اللہ کے شکر سے دوبارہ اس قابل ہوا ہوں کہ دکان پر آکر بیٹھ سکوں۔دن گزرتے گئے، سردی کی شدت کی وجہ سے میری اُس سے ملاقاتیں کم ہوئیں کیونکہ میں گوالمنڈی دن کے اوقات میں جاتا تھا اور وہ رات کو مغرب کی نماز کے بعد دکان پر بیٹھتا تھا اِسی دوران دو ماہ گزر گئے اور میری اُس سے ملاقات نہیں ہوئی، اچانک راہ چلتے ہوئے اُس کے بڑے بھائی کالے سے چائے کے ہوٹل میں ملاقات ہوئی تو میں نے ریاض کی طبیعت کے بارے میں پوچھا تو اُس کا بھائی بولتے بولتے رک گیا اور سرد آہ بھر کر بولا اُس کا انتقال تو دو ماہ قبل ہوگیا تھا اور میں یہ جاننے سے قاصر ہوں کہ تم کو اُس بارے میں معلوم نہیں ہوا کیسی بات ہے تمہارا اور اُس کا بڑا ساتھ تھا۔کالے کی بات سن کر میں یکدم خاموش ہو گیا او ر میرے ذہن میں اُس سے بیتی ملاقاتوں کی فلم چلنے لگی اور کچھ آوازیں آنا شروع ہوئیں جن میں ایک آواز خواجہ پرویز صاحب کی بھی تھی کہ یارجا جاکے ڈاکٹر ریاض نوں بلا کے لیا ایس موچ دی مالش ہن او ہی کرئے گا۔

مزید :

رائے -کالم -