بھٹو کیس میں بلی سے متعلق ایک جج نے کیا کہا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا استفسار

بھٹو کیس میں بلی سے متعلق ایک جج نے کیا کہا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ...
بھٹو کیس میں بلی سے متعلق ایک جج نے کیا کہا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا استفسار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوران سماعت استفسار کیا کہ بھٹو کیس میں بلی سے متعلق ایک جج نے کیا کہا تھا۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران مخدوم علی خان نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس قیصر خان نے کہا تھا کہ بھٹو کیس کے شواہد کی بنیاد پر تو ایک بلی کو بھی پھانسی نہیں ہو سکتی۔ جس انداز میں بھٹو کیس کا فیصلہ دیا گیا، ایسے کبھی کوئی کیس نہیں ہوا۔  

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ اس کیس میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا عدالتی کارروائی میں پروسس درست اپنایا گیا یا نہیں؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمارا اختیار سماعت بالکل واضح ہے، 2 مرتبہ نظرثانی نہیں ہو سکتی ، ہم اس کیس میں لکیر کیسے کھینچ سکتے ہیں؟ کیا اس کیس میں تعصب کا سوال ہے یا غلط فیصلہ کرنے کو تسلیم کرنا ہے؟

اس موقع پر عدالتی معاون نے دلیل دی کہ ایک جج نے انٹرویو میں کہا کہ ان پر دباؤ تھا جس پر قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انہوں نے یہ تو نہیں کہا کہ میں تعصب کا شکار تھا، اگر میں دباؤ برداشت نہیں کر سکتا تو مجھے عدالتی بنچ سے الگ ہو جانا چاہیے، ایک شخص کہہ سکتا کہ کوئی تعصب کا شکار ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ دوسرا یہ رائے نہ رکھے۔

جسٹس منصور علی نے استفسار کیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ اب ہم کیسے دروازہ کھول سکتے ہیں؟ کیا ہم آرٹیکل 186 کے تحت اب یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ پروسیس غلط تھا، اب ہم اس معاملے میں شواہد کیسے ریکارڈ کر سکتے ہیں؟

مخدوم علی خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جسٹس دراب پٹیل کا ایک انٹرویو پی ٹی وی میں موجود ہے، وہ انٹرویو یوٹیوب پر نہیں ہے مگر پی ٹی وی کے پاس ہے۔مخدوم علی خان نے سہیل وڑائچ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں مختلف ججز کے انٹرویوز اکٹھے کئے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وکیل پر کیسے مدعا ڈالا جا سکتا ہے؟ ناراض کر دیا تھا تو کیس سننا چھوڑ دیتے یا انصاف کرتے، ناراض ہم بھی کئی بار ہوجاتے ہیں مگر یہ تو نہیں کہ فیصلہ الٹ دیں، وکیل کے کنڈکٹ کی سزا مؤکل کو نہیں ملنی چاہیے۔

 مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 187 کے اختیار کو استعمال کر کے بھٹو کیس کا فیصلہ کر سکتی ہے، بھٹو کیس میں ججز کی جانبداری ثابت کرنے کیلئے جسٹس نسیم حسن، جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس اسلم ریاض کے انٹرویوز موجود ہیں، ججز کی جانبداری ثابت کرنے کیلئے سلیم بیگ اور جنرل (ر) فیض چشتی کی کتاب اور اس وقت کے اٹارنی جنرل کا خط بھی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے دریافت کیا کہ کیا جن صاحبان پر جانبداری کا الزام لگ رہا ہے ان کو سنا نہیں جانا چاہیے؟بعد ازاں سپریم کورٹ نے ریفرنس پر سماعت 26 فروری تک ملتوی کر دی۔

بھٹو پھانسی کیخلاف ریفرنس کی سماعت  چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے کی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں۔

 واضح رہے کہ 12 برس قبل 2011ء میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 186 کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی حکم سے پھانسی کے فیصلے پر ایک ریفرنس دائر کیا تھا۔

مزید :

قومی -