ہیڈ آفس سے”محبت نامہ“ آیا، کون کون سے الزامات نہیں لگائے گئے، گواہان کے نام دیکھ کر چونک اٹھاکیونکہ وہ میرے بڑے ہی قریبی دوست تھے

  ہیڈ آفس سے”محبت نامہ“ آیا، کون کون سے الزامات نہیں لگائے گئے، گواہان کے ...
  ہیڈ آفس سے”محبت نامہ“ آیا، کون کون سے الزامات نہیں لگائے گئے، گواہان کے نام دیکھ کر چونک اٹھاکیونکہ وہ میرے بڑے ہی قریبی دوست تھے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:188
 ایسا ہی ایک دفعہ میرے ساتھ بھی ہوا، میرے خلاف ایک لمبی چوڑی شکایت کراچی ہیڈ آفس میں بھیجی گئی جو وہاں سے مزید تفتیش اور معمول کی کارروائی کے لیے میرے منیجر کو واپس بھیج دی گئی۔ جعفری اسے دیکھ کر زیر مونچھ مسکرایا اور مجھے کہنے لگا ”سعید صاحب مبارک ہو آپ کے خلاف بھی شکایتوں کا کھاتہ کھل گیا ہے اور آپ کے لیے ہیڈ آفس سے ایک محبت نامہ بھی آیا ہے۔“میں نے دیکھا تو اس میں مجھ پر بدتمیزی، نااہلی اور پتہ نہیں کون کون سے الزامات لگائے گئے تھے، جس پر حیرت نہیں ہوئی لیکن میں نیچے بطور گواہان لکھے گئے نام دیکھ کر چونک اٹھا۔ اس میں میرے چند بڑے ہی قریبی دوستوں کے نام بھی شامل تھے جو تقریباً روزانہ ہی میرے ساتھ چائے پیتے تھے۔ اس دن بھی وہ حسب عادت آئے، میں نے شکوہ کیا اور ان کے گلے پڑ گیا کہ انھیں مجھ سے کیا مسئلہ تھا۔ قسمیں کھانے لگے کہ انھوں نے تو میرے خلاف کسی شکایت کی گواہی نہیں ڈالی،لیکن جب میں نے وہ خط دکھایا تو انھوں نے بڑی ڈھٹائی سے دانت نکال دیئے اور کہا کہ دستخط تو ہمارے ہی ہیں لیکن ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ شکایت آپ کے خلاف کی جا رہی ہے، ہمارے پاس تو ایک بندہ گواہی ڈلوانے کے لیے آیا تھا ہم نے اس پر بھروسہ کرتے ہوئے بغیر پڑھے دستخط کر دیئے۔ میرے منہ سے صرف اتنا نکلا کہ یار کچھ تو خدا کا خوف کیا کرو۔
موسمی فرار
چونکہ سردیوں میں کام کا بوجھ کم تھا اس لیے سوچا کہ سالانہ چھٹی پر گاؤں جانا چاہیے، گھر والوں سے ملے ہوئے بھی عرصہ ہو گیا تھا اور کچھ شدید سرد موسم سے بھاگنے کا ایک بہانہ بھی چاہیے تھا۔ ماں کے سوا سب ہی گھر پر تھے، شفیق بھی پنڈی سے آیا ہوا تھا۔ سب اکٹھے ہوئے تو اپنی آئی پر آگئے، خوب دھما چوکڑی مچائی، میں لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے سخت سردی میں بھی بغیر سویٹر یا گرم کپڑوں کے گھومتا پھرتا تھا اور یہ تاثر دیتا تھا کہ ہم مری کے رہنے والے ہیں یہ سردی تو میرے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ بزرگ نصیحت کرتے اور ساتھی رشک بھری نظروں سے دیکھتے تھے۔
چھٹی کے دوران ہی نہر کی سیر کا پروگرام بن گیا، طے پایاکہ نہر کی پٹڑی پر سفر کرتے ہوئے اس کے مخزن کا پتہ لگایا جائے۔ہم دو لوگ تو سکوٹر پر تھے جبکہ دونوں چھوٹے بھائی شفیق اور خالد سائیکل پر پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ ہم نے ڈاک بنگلے کے سامنے سے نہر کی کچی پکی پٹڑی پر سیر کا آغاز کیا۔ کچھ دیر بعد محسوس کیا کہ کچھ جچ نہیں رہا تھا ہم سکوٹر پر ہونے کی وجہ سے تیز چلنے پر مجبور تھے اور وہ دونوں سائیکل پر آہستہ خرام بلکہ مخرام تھے اس لیے ہمیں ایک دوسرے پر پھبتیاں کسنے میں دقت پیش آرہی تھی۔ ان دونوں نے اپنی آسانی کے لیے فرائض بانٹ لیے تھے۔ خالد پیڈل چلا رہا تھا اور شفیق آگے ڈنڈے پر بیٹھا ہینڈل تھامے سائیکل کو کنٹرول کر رہا تھا۔ دونوں اچھا خاصا مل بانٹ کر کھا رہے تھے،تب ہی میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ ان کی سائیکل کو سکوٹر کے پیچھے باندھ لیا جائے اس سے ایک تو ان کی رفتار کچھ بہتر ہو جائے گی دوسرا ہم سب بلندآواز میں ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ بھی کر لیں گے۔ قصہ مختصر کہ ایک چادر سے ان کے سائیکل کا ہینڈل اپنے سکوٹر کے فاضل پہیئے سے باندھ لیا گیا اور ان کو ہوشیار ہونے کا اشارہ کرکے سکوٹر آگے بڑھایا، سائیکل خود ہی تیز رفتاری سے پیچھے بھاگا، پہلے تھوڑا سا لڑکھڑایا پھر متوازن ہو گیا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -