خوش قسمتی تھی کہ اسی ہاسٹل میں جگہ ملی جس میں دوران تعلیم علامہ اقبال رہا کرتے تھے، کمرے پر تب بھی ان کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی

خوش قسمتی تھی کہ اسی ہاسٹل میں جگہ ملی جس میں دوران تعلیم علامہ اقبال رہا ...
 خوش قسمتی تھی کہ اسی ہاسٹل میں جگہ ملی جس میں دوران تعلیم علامہ اقبال رہا کرتے تھے، کمرے پر تب بھی ان کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:19
میرے کچھ اور دوست بھی نواحی دیہات اور قصبوں سے آئے تھے اور میرے ساتھ ہی ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے۔ قدرتی بات ہے کہ ہمارے دکھ سانجھے تھے اس لیے ہم ایک دوسرے کے کافی قریب آگئے تھے اور پھر یہ قربتیں گہری دوستیوں میں بدل گئیں۔ میرے ان دوستوں میں احمد خان، شریف بھٹی، بشیرالدین محمود، اقبال طاہر، ریاض اور نصیر شامل تھے۔ بعد ازاں اقبال طاہر کے سوا سب ہی دوست انجنیئرنگ کالج میں داخل ہوگئے۔ شریف بھٹی کو ہمارے ساتھ تو داخلہ نہ مل سکا تھا تاہم وہ اگلے ہی برس ہم سے آ ن ملا تھا البتہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ اس وقت انجنیئرنگ کا کورس 3 برس کا ہوتا تھا اور ہم اس کے آخری سال میں تھے، اس کے فوراً بعد آئندہ کے لیے اس کی مدت بڑھا کر 4 برس کردی گئی شریف بھٹی کو نئے قوانین کے مطابق اب 4 سالہ کورس مکمل کرنا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری اور اس کی تعلیم مکمل ہونے میں 2 سال کا وقفہ آگیا تھا۔ لیکن بعد میں اس نے تعلیم کے میدان میں ہمیں اس طرح سے پیچھے چھوڑ دیا کہ اس نے برطانیہ سے پی ایچ ڈی مکمل کرکے یونیورسٹی آف انجنیئرنگ لاہور میں استاد کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔
بشیرالدین اور ریاض دونوں نے اٹامک انرجی کمیشن میں ملازمت اختیار کی اورپاکستان کے بہترین سائنسدانوں میں ان کا شمار ہوا۔ بشیر تو ایک ممتاز اور زیرک سائنسدان  بنا، اس نے تو مقامی طور پر بنا کر ایک نیوکلئیر پلانٹ بھی لگایا تھا جو کہ ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اب وہ ریٹا ئرڈ زندگی بسر کر رہا ہے اور اس کا رحجان دین کی طرف بڑھ گیا ہے اور اس سلسلے میں اس نے اسلامی تعلیمات پر کئی کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔
گورنمنٹ کالج کے کواڈرینگل ہاسٹل  کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عظیم تھے جو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بھی تھے۔ وہ ہاسٹل کی روزمرہ کی سرگرمیوں پر بڑی باریک بینی سے نظر رکھتے تھے۔ وہ اشیائے خورونوش کے اعلیٰ معیار پر سودے بازی نہیں کرتے تھے۔ ہاسٹل ہی میں سے کسی طالب علم کو منتخب کرکے ایک مہینے کے لیے مینجر بنا دیا جاتا تھا تاہم اس کا کردار بہت محدود ہوتا تھا۔ ڈاکٹر عظیم نظم و ضبط کے معاملے میں بہت سخت تھے۔ ان کے حکم پر ہاسٹل کے دروازے رات 9 بجے مقفل ہو جاتے تھے۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے اسی ہوسٹل میں جگہ ملی جس میں دوران تعلیم علامہ اقبال رہا کرتے تھے۔ ان کے کمرے پر تب بھی ان کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی اب یہ کمرہ کالج کے سب سے ممتاز اور ذہین طالب علم کو ہی الاٹ کیا جاتاہے۔
ہاسٹل کی زندگی اب بہت پُرلطف لگنے لگی تھی خاص طور جب ہم نے متعدد دوست بنا لیے تھے، یہاں کا کھانا بہت اچھا اور ارزاں تھا۔ میاں جی نے بھائی افضل کے اکاؤنٹ میں اچھی خاصی رقم جمع کروادی تھی۔ جہاں سے ہم دونوں بھائی اپنے اپنے  125 روپے وصول کر لیتے تھے۔ یہ رقم ہمارے روز مرہ کے اخراجات کے لیے کافی تھی۔ میں اس میں سے 20 روپے درسی فیس اور 60 روپے ہاسٹل کے نکال کر باقی رقم میں متفرق اخراجات کے لیے رکھ لیتا تھا، یہاں ایک دلچسپ امر یہ بھی تھا کہ ہم دونوں کے اخراجات تقریباً یکساں ہونے کے باوجود میں افضل بھائی سے زیادہ امیر تھا کیونکہ مجھے 50 روپے کا وظیفہ بھی الگ سے ملا کرتا تھا۔ یوں اس اضافی رقم نے میرا خرچے والا ہاتھ قدرے کشادہ کر دیا تھا۔ 
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -