ہمت سے کام لینا پڑا، حالات کا تجزیہ کیا اور خود سے کچھ سوالات پوچھے، زندگی میں اولین ترجیح کونسی ہے، ادارے، مفاد یا میری اپنی کامیابی؟

 ہمت سے کام لینا پڑا، حالات کا تجزیہ کیا اور خود سے کچھ سوالات پوچھے، زندگی ...
 ہمت سے کام لینا پڑا، حالات کا تجزیہ کیا اور خود سے کچھ سوالات پوچھے، زندگی میں اولین ترجیح کونسی ہے، ادارے، مفاد یا میری اپنی کامیابی؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:6
جین کے خاموش ہونے پر میں نے اس سے پوچھا: ”لیکن سوشل سیکیورٹی سے علیٰحدگی، ایک مشکل فیصلہ نہ تھا؟“
جین نے جواب دیا: ”میں تسلیم کرتی ہوں کہ سوشل سیکیورٹی کی ملازمت سے فراغت کے بعد مجھے بہت حوصلے اور ہمت سے کام لینا پڑا۔ میری تنخواہ بھی بہت اچھی تھی۔ لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ میں اس لگے بندھے معمول سے نجات حاصل کرنا چاہتی تھی جو میر ے رگ و پے میں بس گیا تھا۔ لیکن میں نے اپنے حالات کا تجزیہ کیا اور میں نے خود سے کچھ بصیرت افروز سوالات پوچھے۔ یہ سوالات ہر وقت میرے بریف کیس میں موجود رہتے ہیں۔ جین نے یہ سوالات میرے حوالے کردیئے، نیز، یہ سوال مندرجہ ذیل ہیں: 
1:میری اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں ترقی اور کامیابی کے ضمن میں میرے ”اس مقررہ معمول“ کا کیا کردار ہے۔ کیا میں اپنی ملازمت کے اختتام پر خوش ہوں گی کہ اپنی زندگی میں جو بھی میری خواہش تھی، اس خواہش کی تکمیل کے لیے کیا میں اپنی صلاحیتوں کو واقعی آزما سکی؟
2:رات اور دن کے اس مقررہ معمول کے نتیجے میں میرے مجموعی روئیے کے باعث، مجھ سے منسلک افراد پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات اور شکایات کہ یہ نظام بے انصافی پر مبنی ہے، کسی فرد کو ترقی ملنی چاہییئ یا نہیں ملنی چاہیے اور پھر لنچ اور کافی بریک میں انتہائی گھٹیا گفتگو، اس قسم کی بات چیت نے میرے ذہن اور ذہنی صلاحیتوں کو کس قدر نقصان پہنچایا۔
3:اپنی زندگی میں میری اولین ترجیح کونسی ہے، ادارے، مفاد یا میری اپنی کامیابی؟
4:کیا میں اپنے فارغ وقت زیادہ سے صحیح طور پر لطف اندوز ہو رہی ہوں، کیا میں اپنا یہ فارغ وقت مزید بہتر طور پر استعمال کر سکتی ہوں؟
میں نے جین سے کہا کہ مجھے ان سوالات کی ایک نقل چاہیے تاکہ میں بھی ان سے مستفید ہوسکوں۔ اس نے میری یہ درخواست قبول کر لی اور فوراً ہی ایک فوٹو کاپی مشین کے ذریعے ان سوالات کی نقل بنوا کر میرے حوالے کر دی۔
اس گفتگو کے باعث ایک گھنٹہ پلک جھپکتے گزر گیا اور مجھے بھی اپنی پرواز کے لیے جلدی تھی۔ جین کے ساتھ میری اس بات چیت نے میرے اس خیال اور مؤقف کی تائید و تصدیق کر دی کہ زیادہ سے زیادہ غور و فکر اور سوچ بچا ر، قابل قدر اہمیت کی حامل ہے اور پھر اس عمل کے ذریعے ”جنت ارضی“ کی طرف سفر نہایت ہی ولولہ انگیز ہے۔
ایسے ایسے بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے جائیں کہ زندگی اس قدر بھر پور ہو کہ ”اپنی وفات کی خبر“ کی عبارت آپ خود اچھے الفاظ میں لکھیں:
”اپنی وفات کی خبر“ پر مبنی دستاویز میں کسی ایک مخصوص شخص کے ذاتی زندگی کے مختصر اور اہم کوائف و نکات درج ہوتے ہیں۔ عام طور پر اس دستاویز میں صرف اہم معلومات، مثلاً تاریخ اور مقام پیدائش، اہم کامیابیاں، پیشہ، اور وارث کا نام درج ہوتا ہے۔
بظاہر کئی وجوہات کی بناء پر اکثر لوگ ”اپنی وفات کی خبر“ لکھنے سے گریز کرتے ہیں۔ بہرحال، میں نے ”اپنی وفات کی خبر“ کو تحریر کرنے کی عادت کوکامیابی حاصل کرنے کے تصور اور تخیل میں تبدیل کر دیا ہے اور یہ تصور اور تخیل، میں اپنے سیمینار میں مختلف قسم کے منتظمین (Managers) کے استفادے کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -