میں ایک شخصیت کو ”بابائے جمہوریت“ مانتا ہوں، اِس دوران چائے بھی آگئی،ایک لا وا ہی پھُوٹ پڑا،ہر طرف سے سیاست کے بخیے اُدھیڑے جانے لگے

 میں ایک شخصیت کو ”بابائے جمہوریت“ مانتا ہوں، اِس دوران چائے بھی آگئی،ایک ...
 میں ایک شخصیت کو ”بابائے جمہوریت“ مانتا ہوں، اِس دوران چائے بھی آگئی،ایک لا وا ہی پھُوٹ پڑا،ہر طرف سے سیاست کے بخیے اُدھیڑے جانے لگے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:52
ظہیر صاحب کے ہاں دعوت 
ہمیں Penrith پہنچنا تھا جو 30/35 کلو میٹر کی مُسافت پر تھا۔ گھر سے 12 بجے دوپہر کو روانگی ڈال دی۔ صبیح ریحان کو ٹیوشن سے لینا تھا۔ ساڑھے بارہ وہاں پہنچے۔ اُسے لے کر یہی کوئی ڈیڑھ بجے ہم ظہیر صاحب کے درِ دولت پر جا پہنچے۔ ہم سب سے پہلے پہنچنے والی دو تین فیملیز میں سے تھے۔ ظہیر صاحب ابھی غائب تھے۔ پتہ چلا کہ وہ کسی پارک کا مشاہدہ کرنے گئے ہیں۔ ابھی تک گو مُگو کی حالت میں تھے کہ گھر پر دعوت ہو یا کسی پارک میں۔ بہرحال جلد ہی آگئے اور باربی کیو اپریٹس کو لگے صاف کرنے۔ صفائی کا مرحلہ گذرا تو کوئلے ڈالنے کی باری آئی۔ بیگ کھولا تو سالم کوئلوں کی بجائے کوئلوں کا چُورا بیگ میں سے گرتے دیکھا گیا۔ عمران اور ایک ساتھی سے یہ صورتحال دیکھی نہ گئی وہ بھاگے اور بازار سے کوئی آدھ گھنٹہ بعد کوئلوں کا تھیلا لے آئے تب کام شروع ہوسکا۔ اِس دوران مہمانوں کی آمد بھی شروع ہوگئی۔ 
بیک یارڈ میں باربی کیو کا سلسلہ دو تین نوجوانوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور چل پڑا۔ ورنہ ظہیر صاحب کو تو ہاتھ پاؤں کی پڑی ہوئی تھی۔ بار بی کیو کے چکن تکّے اور کباب یُونہی تیاّر ہونا شروع ہوئے تو اُن کا رُخ اندر خواتین کی طرف موڑ دیا گیا اور مرد حضرات کے لیے فی الحال چنے کی دال، چاول چٹنی اور سلاد۔ مرد حضرات نے کچھ کچھ پیش رفت تو کی کیونکہ پیٹ میں چُوہے دوڑنے لگے تھے۔ لیکن چہروں پہ رونق نہ آسکی۔ اللہ اللہ کر کے اندر خواتین کی طرف سے جب باربی کیو لوازمات مرد حضرات کی طرف آئے تو آہستہ آہستہ چہروں پہ رونق آتی گئی اور پیٹ کی تنابیں کَستی چلی گئیں۔ اور ساتھ ساتھ آنکھوں میں روشنی اور دل میں سرور بھی آتا گیا۔ دماغ تھا کہ اب بس اپنی پُوری توانائیاں حاصل کر کے کسی بھی مہم جوئی کے لیے تیاّر ہوچکا تھا۔ 
میں نے دانا ڈال دیا اور حاضرین کو بتلا دیا کہ پاکستان میں جمہوریّت کے تسلسل کا سہرا جناب آصف علی زرداری کے سر ہے اور تاریخ دان کل کو انہیں ”بابائے جمہوریت“ لکھیں گے۔ میں بھی اُنہیں بابائے جمہوریت مانتا ہوں۔ حاضرین کو بھی اِس میں شمولیتّ کی دعوت دیتا ہوں۔ اِس دوران چائے بھی آگئی اور چائے کے جو گھونٹ سب کے لبوں سے چُھوئے تو ایک لا وا ہی پھُوٹ پڑا۔ ہر طرف سے سیاست کے بخیے اُدھیڑے جانے لگے۔ ساری کرپشن کا سہرا جناب آصف علی زرداری کے سر تھوپ دیا گیا۔ منی لانڈرنگ، قبضہ گروپ اور ناجانے کیا کیا القابات اور ناموں سے اُن کو یاد کیا گیا۔
اُن کو بڑے تحملّ سے سمجھایا گیا کہ دیکھو کس طرح دُشنام طرازی۔ الزامات کی بوچھاڑ اور کچھ زور آور پہلوانوں کی در آنے کی کوششوں کے ہوتے ہوئے کس صبر، تحمل اور بُردباری سے سب وار سہہ کر اُس مردِ میدان نے پانچ سال پورے کر کے جمہوریت کے تسلسل کو جنم دیا اور اپنے کچھ صدارتی اختیارات بھی نیچے پارلیمنٹ اور وزیراعظم کو مُنتقل کر دئیے۔ ہے کوئی پاکستان کی تاریخ میں ایسی مثال؟(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -