عبدالقادر م±لّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل (4)

عبدالقادر م±لّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل (4)
عبدالقادر م±لّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل (4)
کیپشن: pro

  

اس کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ قبل ازیں بنگلہ دیش کو دوسری اسلامی سربراہ کانفرنس، لاہور کے موقعے پر تسلیم کیا گیا اور شیخ مجیب الرحمن نے لاہور میں کانفرنس کے اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے بعد پاکستان کے تین سربراہانِ حکومت نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا، یعنی ذوالفقار علی بھٹو، جنرل محمدضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی دونوں وزراے اعظم، یعنی خالدہ ضیا اور خود حسینہ واجد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ تجارتی تعلقات میں برابر مضبوطی آئی، پاکستان کے سرمایہ کاروں نے بڑھ چڑھ کر بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کی اور عالمی فورم پر دونوں کے درمیان بھرپور تعاون ہو رہا تھا، حتیٰ کہ اس دور میں چشم تاریخ نے یہ منظر بھی دیکھا کہ جب بنگلہ دیش کو بھارت اور مغربی ممالک نے اسلحے کی فراہمی روک دی تو جنرل ضیاءالرحمن کی خواہش پر جنرل ضیاءالحق نے بنگلہ دیش کو اسلحہ فراہم کیا اور اس کی قیمت وصول کرنے سے بھی انکار کردیا جس کا اعتراف کرنل (ر) شریف الحق نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کیا ہے (اُردو ڈائجسٹ، دسمبر2013ئ)۔ نیز ڈھاکہ میں جب پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ ہوا تو بنگلہ دیش کے عوام نے پاکستان کی ٹیم کی کامیابی کے لیے اس طرح کردار ادا کیا جس طرح متحدہ پاکستان کے دوران کرتے تھے لیکن افسوس صدافسوس کہ2009ءمیں عوامی لیگ کی حسینہ واجد نے گاڑی کو پٹڑی سے اُتارنے کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔ واضح رہے کہ Collaborators Act جس کے تحت غیرفوجی عناصر پر مقدمات قائم کیے گئے تھے، اس کے تحت سزا پانے والوں میں سے بھی سنگین ترین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو چھوڑ کر1975ءمیں سب کو معافی دے دی گئی اور بالآخر 13دسمبر1975 ءکو خود اس قانون کو بھی کالعدم قرار دے دیاگیا۔

1974ءہی میں شیخ مجیب الرحمن نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کو مخاطب کرکے پورے عالمی میڈیا کے سامنے کہا تھا کہ Let The World know how Bengalies can forgive (دنیا جان لے گی کہ بنگالی کس طرح معاف کرتے ہیں)۔ لیکن مجیب صاحب کی صاحب زادی نے ایک نئی مثال قائم کی ہے کہ والد جو سربراہِ مملکت تھے، کی جانب سے معاف کر نے کے بعد ان کی بیٹی نے کس بھونڈے انداز میں انتقام کی آگ بھڑکائی ہے۔

اس وقت جو کچھ بنگلہ دیش کی حکومت نے کیا ہے وہ بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون، بنگلہ دیش کے دستور اور پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سہ فریقی معاہدے، سب کے خلاف ہے، اور پاکستان کو صرف انسانی حقوق ہی کے باب میں نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کے سلسلے میں بھی احتجاج اور سفارتی ردعمل کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ اس پر فرض بھی ہے۔

عبدالقادر مُلّا کا اصل جرم اور مقدمہ

اس اصولی بحث اور وسیع تر قانونی، سیاسی اور اخلاقی پہلوﺅں پر گفتگو کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ مختصراً عبدالقادر مُلّا کے مقدمے اور شہادت کے بارے میں بھی چند گزارشات پیش کریں۔

عبدالقادر مُلّا کا اصل جرم یہ نہیں ہے کہ وہ کسی فوج داری یا اخلاقی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مقدمے کی پوری کارروائی پڑھ لیجیے، کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوتا اور محض سنی سنائی اور بے سروپا تضاد بیانیوں کی بنیاد پر ان کو ’مجرم‘ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے،جو بُری طرح ناکام ہوئی ہے۔ ہم نے ٹربیونل کا فیصلہ بغور پڑھا ہے۔ یہ پورا فیصلہ سیاسی دستاویز ہے جس میں زبان کے تنازعے سے لے کر تفریق تک کو اصل پس منظر مقرر فرما کر کارروائی کی ہے۔ اس طرح بلاثبوت سنی سنائی باتوں اور نام نہاد circumstantial evidence پر سزاے موت دینے کی جسارت کی ہے جو بین الاقوامی اور خود ملکی قانون سے متصادم ہے۔ اور اس پورے پس منظر اور سازش کے نام پر جو اصل جرم سامنے آتا ہے، وہ بنگلہ دیش کی تحریک میں عدم شرکت ہے حالانکہ یہ ایک سیاسی پوزیشن توضرور ہے مگر قانون کی نگاہ میں کوئی جرم نہیں۔ دنیا کے جتنے ممالک نے بھی آزادی حاصل کی ہے ان کی آزادی کے حصول سے قبل کسی کی جو بھی سیاسی پوزیشن ہو وہ نئے دور میں غیرمتعلق ہوجاتی ہے جس کا واضح ثبوت قیامِ پاکستان کے بعد انڈین نیشنل کانگرس کے ان ہندو ارکان کو جو مشرقی پاکستان میں تھے، ریاست اور پارلیمنٹ میں برابر کا مقام دیے جانے میں دیکھا جاسکتا ہے۔

اس فیصلے میں انصاف کا کس طرح خون کیا گیا ہے اس کا اندازہ درج ذیل حقائق سے کیا جاسکتا ہے:

عبدالقادر مُلّا 14اگست 1948ءمیں موضع امیرآباد، ضلع فریدپور میں پیدا ہوئے اور1968ءمیں بی ایس سی تک فریدپور شہر میں تعلیم پائی۔ 1971ءمیں ڈھاکہ یونی ورسٹی میں ایم اے کے طالب علم تھے، مگر25مارچ کو فوجی آپریشن کے شروع ہونے سے دو ہفتے قبل یونی ورسٹی بند کردی گئی۔ اس پر عوامی لیگ کے اسٹوڈنٹ ونگ ’چھاترو لیگ‘ کا قبضہ تھا۔ ہوسٹل بند کردیے گئے اور عبدالقادر مُلّا اپنے گاﺅں فریدپور چلے گئے جہاں وہ1972ءکے آخر تک رہے۔

1971ءمیں ڈھاکہ میں خوں ریز ہنگاموں کے اس پورے زمانے میں عبدالقادر مُلّا کی عدم موجودگی کی حقیقت کو تو ٹربیونل نے یکسر نظرانداز کردیا حالانکہ فریدپور جہاں وہ وسط مارچ 1971ءسے دسمبر1972ءتک رہے، پورا شہر اس حقیقت کی گواہی دے رہا تھا۔ لیکن جس دوسری حقیقت کو بھی اس نام نہاد عدالت نے قابلِ اعتنا نہ سمجھا وہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے۔ دسمبر 1972ءمیں عبدالقادر مُلّاڈھاکہ یونی ورسٹی میں آگئے جو عوامی لیگ کا گڑھ تھا، وہ مزید تعلیم کے لیے وہیں ہوسٹل میں رہے۔ دو سال میں ’تعلیمی انتظامیات‘ میں ایم اے کیا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ کسی کو اس وقت ان کے ’میرپور کے قصاب‘ ہونے کی ہوا نہ لگی۔ پھر دو سال انھوں نے بنگلہ رائفلز (Bangla Rifles) میں ٹریننگ لی اور یہاں بھی ان کے بارے میں کسی کو شبہہ نہ ہوا۔ پھر تین سال انھوں نے ایک سرکاری اسکول میں استاد کی حیثیت سے اور پھر پرنسپل کی حیثیت سے کام کیا۔ پھر حکومت کے تحقیقی ادارے اسلامک فاﺅنڈیشن میں، جہاں ملک کے تمام ہی دانش وروں سے ربط رکھنا ہوتا ہے، اس میں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد صحافت اور سیاست میں نمایاںکردار ادا کرتے رہے۔

سات سال تک عوامی لیگ کے ساتھ جماعت اسلامی کی ٹیم کے حصے کے طور پر کام کرتے رہے اور سب کے ساتھ ان کے فوٹو اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔ لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ وہ ’میرپور کے قصاب‘ سے شب و روز مل رہے ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا رہا اور کسی نے عبدالقادر مُلّا پر انگشت نمائی نہ کی۔ پھر اچانک2010ءمیں عوامی لیگ پر یہ راز فاش ہوا کہ عبدالقادر مُلّا’میرپور کا قصاب‘ ہے اور اس کو ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کی پاداش میں نام نہاد انٹرنیشنل ٹربیونل میں گھسیٹ لیا گیا۔

عبدالقادر شہید پر چھے میں سے پانچ الزامات کا تعلق 26مارچ 1971ءسے وسط اپریل 1971ءکے واقعات سے ہے، جب کہ وہ ڈھاکہ یا اس کے گردونواح میں موجود ہی نہیں تھے۔ عبدالقادر شہید کے وُکلائے صفائی نے عبدالقادر مُلّا کے ڈھاکہ میں نہ ہونے اور تمام الزامات کے زمینی حقائق سے متصادم ہونے کو ثابت کرنے کے لیے 965 گواہ پیش کرنے کی اجازت چاہی اور تمام گواہوں کے کوائف سے ٹربیونل کو مطلع کیا۔ لیکن اسی ٹربیونل نے عدالتی عمل کی تاریخ میں یہ نادر اور مضحکہ خیز پوزیشن اختیار کی کہ: ”یہ استغاثہ کا کام ہے کہ وہ جرم ثابت کرے اور دفاع کرنے والوں کو متبادل شہادت لانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حالانکہ ان تمام گواہوں کا موقف یہ تھا کہ 1971ءکے جس زمانے کے بارے میں عبدالقادر مُلّا پر الزام لگایا جارہا تھا وہ اس زمانے میں فریدپور میں تھے جنھیں شب و روز ان تمام افراد نے دیکھا۔ بڑی رد و کد کے بعد عدالت نے 965 میں سے صرف چھے گواہوں کو پیش کرنے کی اجازت دی اور959 گواہوں کو سننے تک سے انکار کردیا۔ پھر ان چھے گواہوں کی شہادت کو بھی کسی دلیل کے بغیر رد کردیا۔

اپنے فیصلے تک میں اتنی مضحکہ خیز بات لکھی ہے کہ: ”ایک گواہ کی گواہی میں تضاد تھا کہ عبدالقادر مُلّا کا دعویٰ ہے کہ: وہ وسط مارچ 1971ءسے نومبر 1972ءتک فریدپور میں تھے اور وہاں ایک دکان بھی چلا رہے تھے، جب کہ گواہ نے یہ کہا کہ اس نے ان کو فریدپور میں مارچ1971ءسے مارچ 1972ءتک دیکھا، یعنی ڈیڑھ سال نہیں ایک سال“۔ سوال یہ ہے کہ عبدالقادر مُلّا پر جو چھے الزامات ہیں، ان میں سے پانچ کا تعلق 26مارچ 1971ءسے وسط اپریل1971ءتک ہے اور صرف ایک کا تعلق نومبر 1971ءسے ہے۔ لیکن یہ تمام اس ایک سال ہی سے متعلق ہیں، جس کے بارے میں گواہ گواہی دے رہا ہے کہ اس نے شب وروز ان کو فریدپور میں دیکھا ہے، یعنی مارچ 1971ءسے مارچ 1972ءتک۔ عدالت کی جانب داری، حقائق سے آنکھیں بند کرنے، بودے اور مضحکہ خیز تضادات کا سہارا لے کر پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر مہرتصدیق ثبت کرنے کی اس سے زیادہ بدتر مثال کیا ہوسکتی ہے؟ ٭

مزید :

کالم -