اس گاﺅں کی کہانی جس کے رہنے والے چند سالوں میں غربت کے چنگل سے نکل کر کروڑ پتی بن گئے، ایسا کیسے ممکن ہوا؟ جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

اس گاﺅں کی کہانی جس کے رہنے والے چند سالوں میں غربت کے چنگل سے نکل کر کروڑ پتی ...
اس گاﺅں کی کہانی جس کے رہنے والے چند سالوں میں غربت کے چنگل سے نکل کر کروڑ پتی بن گئے، ایسا کیسے ممکن ہوا؟ جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

  

نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) طاقت والوں کی غلامی کرنے والے محروم طبقات جب تک خود پر جمی جہالت کی گرد جھاڑ کر اپنی قسمت اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے ان کی تقد یر نہیں بدل سکتی۔ بس یہی بیداری وہ طاقت ہے کہ جس کی بدولت انسان محرومی و محتاجی کی زنجیریں توڑ پھینکتا ہے۔ بھارت میں واقع ایک گاﺅں اس انقلاب کی زندہ مثال ہے۔

مزید جانئے: وہ جزیرہ جس کی ملکیت کا 2 ممالک دعویٰ کرتے ہیں اور کئی دہائیوں سے ان کی فوجیں شراب کی بوتلوں کے ذریعے آپس میں ’جنگ‘ میں مصروف ہیں

ریاست مہاراشٹر ا میں واقع ”ہوارے بازار“ بھارت کا امیر ترین گاﺅں ہے، جہاں بسنے والے 235 خاندانوں میں سے تقریباً 60 کروڑپتی ہیں، جب کہ باقی بھی لاکھ پتی تو ضرور ہیں۔خوشحالی، خوبصورتی اور صفائی ستھرائی میں اپنی مثال آپ نظر آنے والا یہ گاﺅں اب ایک ماڈل ویلیج کے طور پر دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے، لیکن دو دہائیاں قبل اس کا شمار غریب اور پسماندہ ترین دیہاتوں میں ہوتا تھا۔

نیوز سائٹ ’آڈٹی سنٹرل‘ کے مطابق 1995ءمیں یہاں یہ حالات تھے کہ لوگ فاقوں سے تنگ آکر نقل مکانی کر رہے تھے۔ 1972ءکے قحط کے بعد سے یہ گاﺅں مسلسل خشک سالی کا شکار تھا اور اکثر لوگ اس علاقے کو چھوڑ گئے تھے جبکہ باقی تباہ حال تھے اور مایوسی کے شکار نوجوانوں نے شراب نوشی میں خود کو غرق کرلیا تھا۔ گاﺅں کا سرپنچ کئی پشتوں سے چلی آنے والی سرداری میں مست تھا اور گاﺅں والوں کی حالت بدلنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔

مایوسی و محرومی سے ستائے کچھ نوجوانوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ انہیں اپنی قسمت خود بدلنا ہوگی، اور پھر ان سب نے اکٹھے ہو کر بغاوت کر دی اور گاﺅں کے واحد بی اے پاس نوجوان کو نیا سردار منتخب کرلیا گیا۔ نوجوان پوپٹ راﺅپوار کو سردار منتخب کرنے اور روایتی سرداری سے بغاوت کرنے کے بعد اس گاﺅں کی ترقی کا ایسا سفر شروع ہوا کہ یہ دنیا بھر کے لئے مثال بن گیا۔

پوپٹ راﺅ کی قیادت میں گاﺅں والوں نے پانی ذخیرہ کرنے کے لئے مٹی کے 52 بند بنائے، جن کے بعد پتھر کے 32 نئے بند بھی بنائے گئے، جبکہ پانی ذخیرہ کرنے والے متعدد چھوٹے جوہڑ بھی بنائے گئے۔ اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ ہوا کہ انتہائی خشک سالی کے شکار علاقے میں جب بھی کبھی بارش برسی تو اس کا پانی ضائع ہونے کی بجائے کاشت کاری کے لئے ذخیرہ ہوگیا اور جلد ہی زیر کاشت زمین 50 ایکڑ سے بڑھ کر 170 ہیکٹر تک پہنچ گئی۔

مزید پڑھیں: دنیا کا واحد ریلوے سٹیشن جہاں صرف ایک مسافر کے لئے ٹرین جاتی ہے

پوپٹ پوار نے شہر جاکر متعدد بینکوں سے رابطہ کیا اور گاﺅں والوں کے لئے آسان قرضوں کا اہتمام کیا۔ کھیتوں میں کام کے لئے کرائے کے مزدوروں کو استعمال کرنے کی بجائے تین سے چار خاندانوں پر مشتمل گروپ بنائے گئے جو ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے۔ اگلی ایک دہائی کے دوران اس گاﺅں کے لوگوں نے اکٹھے ہوکر اس قدر محنت کی اور ایسے منظم انداز میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹایا کہ ان کی دنیا ہی بدل گئی۔ اب یہاں فصلوں کی کاشت کے لئے وافر پانی دستیاب ہے اور جدید طریقوں کے استعمال سے پیداوار بھی کسی بھی اور جگہ کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔ یہاں غریب سے غریب شخص کی ماہانہ آمدنی 30 ہزاربھارتی روپے (تقریباً 45 ہزار پاکستانی روپے)سے زیادہ ہے ۔ اس گاﺅں میں یہ انقلاب نہ حکومت لائی ہے اور نہ کوئی این جی او، انہوں نے اپنی تقدیر خود بدلی ہے اور اب دنیا ان کی مثالیں دیتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس