’میری زندگی کا سب سے کربناک منظر، 12 سالہ لڑکی کو میری آنکھوں کے سامنے۔۔۔‘

’میری زندگی کا سب سے کربناک منظر، 12 سالہ لڑکی کو میری آنکھوں کے سامنے۔۔۔‘
’میری زندگی کا سب سے کربناک منظر، 12 سالہ لڑکی کو میری آنکھوں کے سامنے۔۔۔‘

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) 2014ءمیں شمالی عراق کے شہر سنجار میں حملوں کے دوران داعش کے شدت پسندوں نے 5ہزار سے زائد یزیدی خواتین کو غلام بنایا تھا اور ان کا جنسی استحصال کرتے رہے تھے۔ ان میں سے جب کبھی کوئی خاتون شدت پسندوں کے چنگل سے فرار ہوکر واپس پہنچتی ہے تو اپنے اور اپنے ساتھ غلام بنائی گئی دیگر یزیدی خواتین پر بیتنے والے مظالم اور جنسی اور جسمانی تشدد کی المناک داستانیں سناتی ہے۔ ایک عراقی خاتون فوٹوگرافر سیوان سلیم نے ان میں سے کئی خواتین کو تلاش کیا، ان کے انٹرویوز کیے اور تصاویر لیں۔ سیوان نے ان کی تصاویر یزیدی خواتین کے شادی کے مخصوص لباس میں بنائیں جو پاک دامنی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شدت پسندوں سے بھاگ کر واپس آنے والی ہر خاتون نے اپنی ایک الگ داستان ظلم و ستم بیان کی۔

مزید جانئے: وہ آدمی جو 800 بچوں کا باپ بن گیا، اب بھی ہر ہفتے ایک بچے کا اضافہ

ایک خاتون نے بتایا کہ ”داعش کے شدت پسندوں کے ہاتھوں غلام بننے کے بعد ہم نے بہت ظلم سہے مگر سب سے دردناک منظر جو میں نے دیکھا وہ ایک 12سالہ لڑکی کی عصمت دری تھا۔ شدت پسندوں نے میری آنکھوں کے سامنے 12سالہ لڑکی کو بے رحمی کے ساتھ زیادتی کا نشانہ بنایا۔“خاتون نے بتایا کہ ”جب شدت پسندوں نے شہر پر حملہ کیا تو ہر کوئی پہاڑوں کی طرف بھاگ نکلا مگر شدت پسندوں نے ہمیں راستے میں ہی پکڑ لیا۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں میں رہیں، ہم وہاں بالکل محفوظ ہوں گے، انہوں نے ہم نے جھوٹ بولا تھا۔ وہ ہمیں بس میں بٹھا کر شام لے گئے، میرے ساتھ 400سے زائد اور بھی یزیدی لڑکیاں اور خواتین تھیں۔ شام لیجا کر انہوں نے ہم خواتین کو آپس میں بانٹ لیا، میں جس شدت پسند کے حصے میں آئی وہ بہت غصے والا تھا، وہ مجھ پر تشدد کرتا اور گولی مارکر قتل کرنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔ وہ کہتا کہ میں تجھے تیرے ماں باپ کے پاس پہنچا دوں گا جو کہ قتل کیے جا چکے ہیں۔ میں اسے کہتی کہ اگر وہ واقعی قتل کیے جا چکے ہیں تو پھر تم مجھے بھی مارڈالو۔“

مزید پڑھیں: سائنس کے مطابق خوشگوار شادی شدہ زندگی کیلئے 5 اہم ترین چیزیں

خاتون نے بتایا کہ ”پھر ایک دن وہ مجھے رقہ لے گیا جہاں اور بھی سینکڑوں یزیدی لڑکیاں موجود تھیں۔ وہاں ان لوگوں نے ہمیں ایک بار پھر دیگر مردوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ جس شخص نے مجھے خریدا وہ مجھے ایک زیرزمین جیل میں لے گیا جہاں اور بھی لڑکیاں تھیں، ہمیں وہاں 12دن تک رکھا گیا۔ وہ آتے ہیں ہم پر تشدد کرتے کیونکہ ہم نے اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھیں۔ ایک روز پانچ لوگ آئے جن میں ایک فرانسیسی شہری بھی تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم کھانا پکا لیتی ہو اور عربی بول سکتی ہو۔ میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس کے بعد وہ مجھے ساتھ لے گیا اور سعودی عرب کے ایک بوڑھے شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ یہ سعودی شخص اردن میں رہتا تھا۔ وہ شخص مجھے اپنے گھر لے گیا اور ایک کمرے میں چھوڑ دیا ۔ اس نے مجھے پہننے کے لیے ایک سیاہ عبائیہ بھی دیا۔ جاتے ہوئے اس نے دروازہ لاک نہیں کیا تھا، میں نے موقع غنیمت جانا اور وہ عبائیہ پہن کر وہاں سے بھاگ نکلی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس