پرویز مشرف۔۔۔ ایک بہادر کمانڈو!

پرویز مشرف۔۔۔ ایک بہادر کمانڈو!
 پرویز مشرف۔۔۔ ایک بہادر کمانڈو!

  


شاعر بے بدل مصطفی زیدی ]مقتول[ نے کبھی کہا تھا:

حدیث ہے کہ اصولاً گناہ گار نہ ہوں

گناہ گار پہ پتھر اُچھالنے والے

خود اپنی آنکھ کے شہتیر پر نظر رکھیں

کسی کی آنکھ سے کانٹے نکالنے والے

اُردو زبان و ادب میں ایک مشہور محاورہ یہ بھی ہے کہ:

’’چھاج بولے سو بولے چھلنی بھی بولے جس میں چھتیس سو چھید‘‘۔۔۔!

حال ہی میں رحمن ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے مشرف کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کی تھی، گویا وہ این آر او سے یکسر منکر ہیں۔

جو سیاست دان ماضی میں پرویز مشرف کے این آر اوسے فیضاب ہوئے وہ بھی اپنے محسن پر ’’سنگین غداری‘‘ کے مقدمے کے حصے دار بنے:

ضرور پڑھیں: لباسِ جسم و جاں

لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے

یہ جانتا اگر تو لُٹاتا نہ گھر کو مَیں

یہ راز تو اب کوئی راز نہیں رہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی جنرل پرویز شرف کے ساتھ ’’انڈر سٹیڈنگ‘‘ ہو چکی تھی کہ اگر وہ ایک بار پھر وزیراعظم بنیں تو صدرِ مملکت پرویز مشرف ہوں گے۔افسوس کہ محترمہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو گئیں اور اس منصوبے کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔

بعد کے حالات و واقعات کی ستم ظریفی مُلاحظہ ہو کہ موردِ الزام بھی وہی ٹھہرے جو بہت سُوں کے نجات دہندہ تھے۔ چلئے مان لیا کہ یونہی ہوتا آیا ہے۔ حضرت علیؓ کا قولِ سدید ہے:

’’جس پر احسان کرو اُس کے شر سے بچو‘‘

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے۔ نجات دہندہ، محسنِ عظیم کی مخالفت میں اس قدر خبثِ باطن کہ اُسے غدار قرار دِلوانے والوں کا ہمنوا ہو جانا، یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو مَیں۔!

مَیں جو ہمیشہ سے روشن خیال، روشن فکر،بالغ نظر، پسماندہ طبقے کی آواز پاکستان پیپلزپارٹی کا حامی رہا ہوں اُس کے موجودہ کرتا دھرتاؤں سے شکوہ کُناں ہوں کہ پرویز مشرف کے معاملے میں غیروں سے اُن کی ہمنوائی نے گویا اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے۔ بقولِ احمد فراز:

دشمنوں کا تو کوئی تیر نہ پہنچا مجھ تک

دیکھنا اب کے مرا دوست کماں کھینچتا ہے

کالم کے آغاز سے اب تک کے فقرے میں بڑی دل گرفتگی کے ساتھ لکھ پایا ہوں کہ بقول خلش کلکتوی:

شکوہ اپنوں سے ہُوا کرتا ہے غیروں سے نہیں،

آپ کہہ دیں تو کبھی آپ سے شکوہ نہ کریں

یہ شکوہ تاخیر سے اس لئے کر رہا ہوں کہ جب سے پرویز مشرف کو ’’سنگین غداری‘‘ کے مقدمے میں اُلجھایا گیا ہے، مَیں بہ وجوہ بروقت تحریری ردِعمل نہ دے سکا۔ اگرچہ ابو الاثر حفیظ جالندھری کا یہ شعر ہمہ وقت وردِ زباں رہا:

دیکھا جو کھا کے تِیر کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

بے شمار محسن کشوں کے طرزِ عمل سے کوئی شکوہ نہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، توقع کے مطابق ہے، مگر حقیقت ِ مُبرم اپنی جگہ یہ ہے کہ پرویز مشرف محض ایک شخص نہیں، شخصیت ہیں۔۔۔ ایسی بہادر، جاں باز اور جَری شخصیت جو ایک ’’نڈر کمانڈو کی حیثیت سے راست عمل اور راست رَوی اور راست گوئی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ لگ بھگ 45برس افواجِ پاکستان میں خدمات انجام دینے والا، سپہ سالار، نو برس مُلک و قوم کی رہنمائی کرنے والا سردار یکایک غدار کیسے ہو گیا؟

خِرد کا نام جنوں پڑ گیا جُنوں کا خِرد

جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے

پاکستان کی اب تک کی تاریخ میں افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیاں پاکستانی فوج کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ اُن کی عظمت و عزیمت کے نقوش اَنمِٹ ہیں، بے عدیل ہیں، وہ باکمال ہیں، بے مثال ہیں، پاک فوج کی حرمت پر اِس قدر سنگین الزام دھرنے کا خیال مُلک و قوم دشمن تنظیموں کے حامیوں ہی کو آ سکتا ہے۔اصل میں ایسی بیمار سوچ رکھنے والے سب کے سب ایک ہیں، یکجان ہیں، یکجان و دو قالب ہیں!

سابق صدرِ مملکت پاکستان پرویز مشرف ایک وژنری، دانشمند، ذہین و متین اور فہم و ذکا کھنے والے رہنما ہیں جو مفکرِ پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کے اس زرّیں مشورے کو حِرزِ جاں بنائے ہوئے ہیں کہ:

اگر خواہی حیات اندر خطر زی

اس کے ساتھ ساتھ اصغر گونڈوی کا یہ شعر بھی اُن کا پسندیدہ شعر ہے:

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے

اگر آسانیاں ہوں زندگی دُشوار ہو جائے

اگر پرویز مشرف نڈر، بہادر، بے خوف اور بڑے جگرے والے نہ ہوتے تو ’’گارڈ آف آنر‘‘ لے کر رخصت ہونے کے بعد از خود پاکستان واپس کیوں آتے؟ اور کیوں یکے بعد دیگرے اپنے آپ کو جھوٹے سچے مقدموں سے کلیئر کراتے اور ’’مسٹر کلین‘‘ بننا چاہتے۔ زیر سماعت مقدمات میں ابھی تک تو وہ ملزم ہی قرار دیئے گئے ہیں۔ الزام لگانے یا لگوانے والے عجلت پسند،ملزم کا جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی اسے مجرم بنانے پر کیوں تُلے ہوئے ہیں؟۔ یہ عدالت ہے کوئی ’’بزمِ جاناں‘‘ نہیں کہ قتیل شفائی کے لفظوں میں کہنا پڑے:

قتیل اُس بزم جاناں سے پڑا ہے واسطہ مجھ کو

سزا کا خوف رہتا ہے جہاں الزام سے پہلے

سابق صدرِ پاکستان کا قصور یہ بھی ہے کہ وہ پاکستان کے پہلے صدر تھے جو شعر و شاعری اور موسیقی کا ذوق بھی رکھتے ہیں اور ’’اس رقص کا بھی جو حضرتِ جوش ملیح آبادی کے الفاظ میں ’’اعضاء کی شاعری‘‘ ہوتا ہے۔ انہوں نے کلاسیکی شعراء کے ساتھ ساتھ عہدِ موجود کے شعراء کے کلام کو بھی پڑھا اور سمجھا ہے ان کے دو انتہائی پسندیدہ شعر یہ بھی ہیں:

شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

]احمد فراز[

اور شکیل بدایونی کے اس لازوال شعر والی پوری غزل ہی:

مرا عزم اِتنا بُلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں

مجھے خوف آتشِ گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے

قیام پاکستان سے اب تک مُلک پر ’’بیورو کریسی‘‘ بالادست رہی ہے اس کو ’’بُرا کریسی‘‘ کہنے والے بھی ایک ایسے نڈر، بے خوف، باہمت، بہادر جرنیل کو زبردستی بزدل بنانے کی مہم کیوں چلا رہے ہیں؟ جس کے سامنے ’’بیورو کریسی‘‘ کے بڑے بڑے ستون ’’کر کے تھیّا تھیّا‘‘ ناچتے رہے] اخبارات میں مطبوعہ تصاویر گواہ ہیں[ جس میڈیا کو مکمل آزادی اس بے خوف شخص نے دی، وہ میڈیا بیک آ واز کیوں ٹّرا رہا ہے۔’’غّدار ہے۔ غّدار ہے! سنگین غّدار ہے‘‘۔ گویا افضل منہاس کے الفاظ میں:

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں

جب بولنے لگے تو ہمی پر برس پڑے

غدّار، غدّار کی رٹ لگانے والوں کی یہ ادا بھی خوب ہے کہ ’’سنگین غداری‘‘ کیس کے ملزم ’’غیر آئینی صدر‘‘ کے دیئے ہوئیاین آر او کے ’’لولی پاپ‘‘ کو عین آئینی چوسنی سمجھ کر چوستے رہو اور پیٹ اَپھر جائے تو حرص و ہوس کو اپنا قصور نہ مانو، ایسے ہی موقع پر کہا جاتا ہے ’’میٹھا میٹھا، ہَپ ہَپ، کڑوا کڑوا تُھو‘‘۔

مزید : کالم