پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تبدیلی کے حتمی آثار!

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تبدیلی کے حتمی آثار!
 پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تبدیلی کے حتمی آثار!

  

اسلام آباد میں سینیٹ کا اجلاس جاری ہے۔ اس اجلاس میں کل مشاہد حسین سید کی طرف سے ایک تحریک التوا پیش کی گئی جس میں امریکی صدر اوباما کے ان ریمارکس پر بحث کی درخواست کی گئی جو اوباما نے 12جنوری2016ء کو اپنے آخری سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں پاکستان کے بارے میں دئے تھے۔اوباما نے کہا تھا: ’’دنیا کے بیشتر حصوں میں عدم استحکام کی کیفیت جاری رہے گی۔مشرق وسطیٰ، افغانستان، پاکستان، وسطی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے کئی خطوں میں عدم استحکام رہے گا ۔ان میں سے بعض مقامات، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اور ان کے نئے نیٹ ورکس بن جائیں گے۔ کئی ایسے خطے بھی ہوں گے جن میں قحط اور نسلی تنازعات وغیرہ سر اُٹھائیں گے اور اس طرح پناہ گزینوں کی ایک نئی کھیپ پیدا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے‘‘۔

پاکستان کے بارے میں ان منفی ریمارکس کا فوری اور شدید نوٹس ہمارے میڈیا نے لیا تھا اور ان ’’صدارتی ارشادات‘‘ کی مذمت کی تھی۔ اب یہ بحث سینیٹ میں بھی آئی اور کہا گیا کہ اس قومی ادارے کی سطح پر بھی عوام کے منتخب نمائندوں کی رائے لی جائے اور ان کا ردعمل معلوم کیا جائے کہ وہ کیا محسوس کرتے ہیں۔ اس بحث کو سمیٹتے ہوئے امور خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز نے کہا:’’اس خطے میں عدم استحکام کا اصل ذمہ دار امریکہ ہے۔ اسی نے(1980ء کی دہائی میں) سب سے پہلے افغان جہاد میں ہمارے قبائلی علاقوں میں مقدس جنگجو (Holy Warriors) تخلیق کئے اور پھر جونہی یہ جنگ ختم ہوئی، امریکہ یہاں سے بوریا بستر سمیٹ کر باہر نکل گیا۔ یہی وہ فیکٹر ہے جس نے پاکستان اور اس خطے کے دوسرے ممالک میں عدم استحکام پیدا کر رکھا ہے۔‘‘۔۔۔ مجھے سرتاج عزیز کے یہ ریمارکس سن کر علامہ اقبالؒ کا یہ شعر یاد آیا:

ترا ناداں امیدِ غم گساری ہا ز افرنگ است؟

دلِ شاہیں نہ پیچد بہرِ آں مرغے کہ در چنگ است

(اے ناداں! تجھے مغرب والوں سے غم گساریوں کی امیدیں ہیں۔ (کیا تجھے معلوم نہیں کہ) عقاب جب اپنے شکار کو پنجوں میں دبا کر نوچ نوچ کر کھاتا ہے تو اس شکار کی چیخ و پکار پر اس کا دل کبھی نہیں پسیجتا!‘‘

سرتاج عزیز نے افغان جہاد اور امریکہ کی لاتعلقی کا جو حوالہ دیا وہ کوئی نئی بات نہیں۔ سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف نے بھی یہی باتیں کئی بار امریکی جرنیلوں اور وزیروں امیروں کو کہی تھیں۔ اور ببانگ دہل کہی تھیں۔ لیکن ان کا اثر کیا ہوا؟ کسی بھی امریکی نے پرویز مشرف کی باتوں پر کان نہ دھرے اور وہی کچھ کیا جو ان کا دل چاہا۔ امریکہ نے موجودہ افغان جنگ (2001ء تا 2014ء) میں بھی یہی کچھ کیا۔ پہلے تو ڈیڑھ لاکھ امریکی/ ناٹو ٹروپس افغانستان کی سرزمین پر اتارے، ہزاروں افغانوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور لاکھوں کو اپاہج بنایا۔ پھر یہی کچھ ڈرون حملوں کے صورت میں پاکستان (فاٹا) پر بھی وارد کیا۔ ہزاروں پاکستانی ان ڈرون حملوں میں مارے گئے اور ہزاروں جسمانی طور پر معذور ہو گئے اور جب ہمیشہ کی طرح افغانستان میں بھی امریکہ کو کوئی کامیابی نہ ہوئی تو ہمیشہ کی طرح اس نے یہاں سے بھی دم دبا کر فرار ہونے ہی میں عافیت جانی۔ دسمبر 2014ء کے آتے آتے صرف 10,800امریکی ٹروپس سرزمین افغانستان پر باقی رہ گئے۔امریکی پلان اب یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی اور یورپی ڈالروں سے ایک نئے تعمیری دور کا آغاز کیا جائے۔ یہ ’’تعمیری دور‘‘ اب شروع ہے۔ لیکن سب دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان میں آئے روز دھماکے ہوتے ہیں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچتا ہے،غیر ملکی سفارت خانوں اور سفارت کاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔یہ تعمیری نہیں، تخریبی دور ہے ۔کیا اسی کو عدم استحکام نہیں کہتے؟۔۔۔ کیا یہ عدم استحکام مُلا عمر یا طالبان کا لایا ہوا ہے؟۔۔۔ کیا پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ماضئ قریب میں عدم استحکام کی جو کیفیت پیدا ہوئی وہ پاکستان کی پیدا کردہ تھی؟۔۔۔ اوباما کو اس کا اعتراف کرنا چاہئے تھا اور بجائے اس کے وہ اس خطے میں عدم استحکام کا رونا روتے یہ کہنا چاہئے تھا کہ ہم امریکی ہی اس کے ذمہ دار ہیں، بلکہ جہاں کہیں دہشت گردی ہوتی ہے اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے وجود میں آتے ہیں اس کے پیچھے ہمارے ہی ہاتھ کارفرما ہوتے ہیں۔(الا ماشا اللہ)

امریکیوں کے پاس بے انتہا دولت آ گئی، بے شمار نئے ہتھیار آ گئے لیکن عقل نہ آئی، اطوارِ حکمرانی نہ آئے۔ وجہ یہ ہے کہ امریکی عسکری قوت کا قیام اور اظہار آناً فاناً ہو گیا تھا، تدریجی نہ تھا۔ امریکیوں سے پہلے برطانوی بھی تو تھے۔برٹش ایمپائر صدیوں تک دنیا کی واحد سپر پاور تھی۔ ان کے اس طویل دور میں پوری دُنیا میں کبھی اتنا عدم استحکام نہیں رہا جتنا آج ہے۔پھر برطانیوں سے بھی پہلے مسلمانوں کا دور تھا جو ہندوستان ہی نہیں چار دانگ عالم میں اپنے اقتدار کا پرچم بلند کر کے حکمرانی کی ایسی ایسی مثالیں قائم کر گئے جن کی ہوا تک بھی اِن امریکیوں کو چھو کر نہیں گئی۔

مسلمانوں اور انگریزوں نے جن ممالک پر قبضہ کیا، ان کو برباد نہیں کیا اور نہ ہی قبضہ کر کے اور برباد کرنے کے بعد وہاں سے بھاگ گئے، بلکہ وہاں مستقل قیام کیا اور وہ سارا انفراسٹرکچر قائم کیا جو ان کے اپنے شہروں اور علاقوں میں تھا۔ ہندوستان کو دیکھیں جہاں ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے حکومت کی لیکن ان کا دور ہندوستان کا سنہری دور کہلایا۔ انہوں نے شہروں کو غارت نہیں، آباد کیا۔ آج سینکڑوں برس گزر جانے کے بعد بھی ان شہروں کے نام مسلم گڈ گورننس کا زندۂ جاوید ثبوت ہیں!احمد آباد، شاہجان آباد (دہلی)، الٰہ آباد، مراد آباد، اکبر آباد،فتح آباد اور اس طرح کے درجنوں’’آباد‘‘ ایسے تھے (اور آج بھی ہیں) جو مسلم ادوار کی پیداوار ہیں۔ یہی حال انگریزی دور کا بھی تھا۔ہم اگرچہ ان کے دور کو بوجوہ استعماری دور کہتے ہیں لیکن برصغیر کو ماڈرن بنانے کی داغ بیل انگریزوں کے دورِ حکمرانی ہی میں پڑی۔۔۔۔ ڈاک خانے، عدالتیں، شفا خانے، سڑکیں، جنگلات، ریلوے لائنیں، سکول، کالج، یونیورسٹیاں، نہریں، ڈیم، سارا انتظامی انفراسٹرکچر، آرمی، ائر فورس اور نیوی ۔۔۔ کس کس کا نام لیا جائے اور اُس دور کی گڈ گورننس کی کیا کیا مثالیں پیش کی جائیں۔جو لوگ یہ دلیل لاتے ہیں کہ یہ ساری ڈویلپ منٹ انگریزوں نے اپنی حکمرانی کو دوام اور استحکام دینے کی خاطر کی تو چلو ایسا ہی سہی۔ عوام کو امن و سکون کا دور دورہ تو میسر آیا، وہ خوشحال تو ہوئے، جدید تعلیم سے بہرہ یاب تو ہوئے اور نئے اطوارِ جہاں بانی تو سیکھے۔۔۔۔ لیکن ان امریکیوں نے کیا کِیا؟

امریکیوں نے50ریاستوں پر مشتمل صرف اپنا ملک ہی تعمیر کر رکھا ہے جسے وہ جنتِ ارضی سمجھتے ہیں۔ وہ ملک کبھی غیر امریکی اقوام کے حملوں کا شکار نہیں ہوا۔ گویا امریکہ سیپ کا وہ موتی ہے جس نے زیر سمندر، طوفانوں اور طغیانیوں کو نہیں دیکھا۔ اور اسی لئے لعل و گہر بننے سے محروم رہا۔ جب تک انسانی آبادیاں برباد ہو کر نئی خوشحال تر آبادیوں کا روپ نہیں اختیار کرتیں تب تک گڈ گورننس کا ڈھنڈورہ پیٹنا بے سود ہو گا۔ امریکہ، بھری پُری آبادیوں کو صرف مسمار اور برباد کرتا ہے، انہیں بار دگر آباد کر کے خوشحال تر نہیں بناتا۔ اور یوں فطرت کے تقاضوں کی نفی کرتا ہے۔

سرتاج عزیز سے پہلے اس تحریک التوا کے دوران کئی دوسرے اراکین نے بھی تقریریں کیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل(ر) صلاح الدین ترمذی نے یہ کہہ کر سینیٹ کو چونکا دیا کہ:’’ اوباما نے ہمیں خواب خوگوش سے جگا دیا ہے اور ہمیں ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔‘‘۔۔۔ جنرل ترمذی کی یہ سوچ بالکل ایک نئے رخ کی سوچ تھی۔ انہوں نے گویا ایک نئے زاوئے سے اوباما کے ریمارکس پر تبصرہ کیا اور مزید کہا:’’واقعہ یہ ہے کہ ہم بھی کئی مسائل کا شکار ہیں، ہمیں بھی اپنے اندر جھانکنا چاہئے۔ یہ ہماری ناقص پالیسیوں کا ہی شاخسانہ ہے۔ہم افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز نہ آئے اور اسی لئے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چیف، مُلا فضل اللہ کو افغانستان نے ہمارے حوالے نہیں کیا۔‘‘ ۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے مزید اور کئی سوال اٹھائے۔ مثلاً:

(1) کیا ہم نیشنل ایکشن پلان (NAP) پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہو رہے ہیں؟

(2) کیا ہمارے مدرسے غیر ملکی رقوم (فارن فنڈنگ) حاصل نہیں کر رہے؟

(3) کیا دہشت گرد تنظیمیں اب بھی آپریٹ نہیں کر رہیں؟

(4) کیا ہم فاٹا کوMain Stream میں لا سکے ہیں؟

(5) کیا ہم ایسے قوانین نہیں بنا رہے جو ’’مجرم دوست‘‘ (Crimnal Frindly)ہیں؟

جناب سرتاج عزیز کا امریکہ کو یہ دو ٹوک،کھرا اور ترش جواب دینا، ہماری خارجہ پالیسی میں ایک بڑی شفٹ کا غماز ہے۔ یہ تبدیلی آہستہ آہستہ ظاہر و باہر ہو رہی ہے۔ جب سے امریکہ افغانستان سے دوسری بار نکلا ہے، یہ خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔تاہم ہمارے مشیر امورِ خارجہ نے اوباما کے ان ریمارکس کو ’’دھمکی‘‘ تصور کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم ان اوبامی ریمارکس کو بطور ’’چیلنج‘‘ قبول کرتے ہیں اور آنے والے برسوں میں امریکیوں پر ثابت کر دیں گے کہ وہ غلط تھے۔۔۔۔ آنے والے عشروں میں پاکستان میں عدم استحکام نہیں، استحکام کا دور دورہ ہو گا اور دُنیا دیکھے گی کہ ایسا ہو گیا ہے!

مزید : کالم