وزیراعظم کی دانش مندی

وزیراعظم کی دانش مندی
وزیراعظم کی دانش مندی

  

پا ک چین اقتصادی راہدار ی،پاکستان اور چین ہی نہیں، خطے کے بے شمار ممالک کے علاوہ دور دراز ممالک کے ساتھ چین کی تجارت کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ منصوبہ خود پاکستان کے لئے بھی اقتصادی میدان میں پیش رفت اور موجودہ دور کی معاشی زبوں حالی سے نکلنے کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوگا۔ اس سے قبل پاکستانی قوم ایک بہت اہم اور دورر س نتائج کے حامل مقامی منصوبے کالا باغ ڈیم کا حشر دیکھ چکی ہے کہ اسے متنازعہ بنا کر ہمارے دشمنوں نے ہمیں ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کردیا۔ اگر یہ منصوبہ ،جس پر اربوں روپے خرچ ہوچکے تھے اور جس کی تکمیل پر کھربوں روپے کی بچت ہوسکتی تھی ، بر وقت مکمل ہوجاتاتو آج ہم بہت سے بحرانوں سے بچ جاتے ۔ خیر !یہ تو اب قصۂ ماضی ہوا ۔۔۔ہم موجودہ منصوبے کے بارے میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں نے اس سے قبل ایک آل پارٹیز کانفرنس میں جو نقشہ پیش کیا تھا،اس پر چاروں صوبوں اور تمام سیاسی جماعتوں نے اطمینان کااظہار کیاتھا ۔ بعد میں بد قسمتی سے حکمرانوں نے اس منصوبے کے تناظر میں کچھ انحراف کی پالیسی اختیار کی۔ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ خود ان کی حلیف جماعتوں ،حتیٰ کہ خیبر پختونخوا میں ان کی اپنی پارٹی (مسلم لیگ)( ن) کے اندر بھی بے چینی پیدا ہوگئی۔ اس پریشان کن صورت حال میں مختلف سیاسی رہنماؤں نے اپنی طرف سے کل جماعتی اجلاس منعقد کئے۔

ایک خوش آئند بات اس عرصے میں یہ ہوئی کہ مولانا فضل الرحمن کی بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) جو روز اول سے ایک دوسرے کا نام سننے کی بھی روادارنہیں تھیں ، ایک میز پر بیٹھیں اور بہت خوشگوار ماحول میں متحدہ موقف اختیار کیا۔ اسی طرح بلوچستان کے سیاسی رہنما جناب سردار اختر مینگل نے بھی دارالحکومت اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس طلب کی ، جس میں سب پارٹیاں شریک ہوئیں۔ ان تمام اجلاسوں میں سبھی پارٹیوں نے حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید اور اپنے تحفظات کااظہار کیا ۔ ملک کے باشعور اور محب وطن عناصر اس صورت حال پر خاصے پریشان تھے۔ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ خود چین جو کم و بیش چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کااعلان کرچکاتھا ،پریشان ہوگیا۔ ان حالات میں وزیراعظم نے یہ دانش مندانہ فیصلہ کیاکہ غلط فہمیوں کاازالہ کریں اور اپنی اب تک کی غفلت اور عدم دلچسپی کو چھوڑ کر قومی یکجہتی کی فضا پیدا کریں۔۔۔ چنانچہ 15جنوری 2016ء بروز جمعۃ المبارک اسلام آباد میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں سب پارٹیوں نے شرکت کی اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیاگیا۔ اس کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں 11رکنی سٹیئرنگ کمیٹی قائم کردی گئی ۔

اس اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر اڑھائی سا ل میں مکمل کیاجائے گا۔ اقتصادی راہداری کے مغربی رو ٹ کو موٹروے سے ملایا جائے گا، انڈسٹریل پارکس، سہولتوں اور ضروریات کی فراہمی وفاق اور صوبے مل کر یقینی بنائیں گے۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے ذریعے آئندہ علاقائی تحفظات بہتر انداز میں دور ہوسکیں گے۔ انڈسٹریل پارکس کی جگہ کاتعین صوبوں کی مشاورت سے کیاجائے گا، مشاورتی اجلاس میں اقتصادی راہداری پر سیاسی جماعتوں اور خیبرپختونخوا حکومت نے وزیراعظم نواز شریف کو تحفظات سے آگاہ کیا۔ اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ ضرورت پڑی تو مغربی روٹ کے لئے فنڈ ز بڑھا دیئے جائیں گے۔ موٹروے کے لئے زمین کا حصول صوبوں کی ذمہ داری ہوگی ، زمین کی خریداری کے لئے فنڈز وفاقی حکومت ادا کرے گی۔ مغربی روٹ شاہراہ کی توسیع کے لئے زمین کاحصول خیبرپختونخوا کی ذمہ داری ہوگی۔

پوری دنیا یہ حقیقت جانتی ہے کہ چین کے پاس مالی وسائل بہت زیادہ ہیں اور اس کے اپنے ملک میں مزید سرمایہ کاری کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔ چین نے تیسری دنیا کے ممالک، بالخصوص افریقہ میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کرنے کے علاوہ خود مغربی دنیا میں بھی اپنے اقتصادی پنجے گاڑ لئے ہیں۔ امریکہ بہادر اور دیگر مغربی قوتیں چین کی اس اقتصادی توسیع پسندی کو یقیناً خطرے کی نظرسے دیکھتی ہیں۔ اس کے باوجود ان کے بس میں نہیں ہے کہ اب چین کے سامنے اس میدان میں بند باندھ سکیں ۔ چین گرم پانیوں تک پہنچنے اور اپنی معاشیات کو وسعت دینے کے لئے کافی عرصے سے منصوبہ بندی کرتارہاہے۔ گزشتہ صدی کے آخری ربع میں روس نے گرم پانی تک پہنچنے کے لئے فوجی قوت کااستعمال کیا ،مگر اسے نہ صرف منہ کی کھانا پڑی بلکہ اس کی وسیع ریاست کے ٹکڑے ہوگئے اور سوویت روس محض روسی ریاست کی حیثیت سے باقی رہ گیا۔

روس کے برعکس چین نے بڑی حکمت و دانش کے ساتھ یہ منزل سر کی ہے۔ چین ہمارا دوست ہے اور اب تک اس نے دوستی کا حق ادا کیاہے، لیکن ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ خود چین جو بھی منصوبہ بند ی کرتا ہے، اور جہاں سرمایہ لگاتاہے، اس کے پیش نظر اپنے مفاد کو اولیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ فطری بات ہے اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جو بھی عالمی معاہدے ہوتے ہیں ان کے ایم او یو کی تفصیلات دیکھی جائیں تو خاصی کڑی شرطیں ،پابندیاں اور جرمانے کی دفعات بھی ان میں شامل ہوتی ہیں۔ چین کے معاہدے بہرحال، ورلڈ بینک ،آئی ایم ایف ،امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی نسبت بہتر اور قابل قبول ہوتے ہیں۔ہمارا مفاد اسی میں ہے کہ ہم چین سے اپنی دوستی کو مضبوط بنائیں ، مگر اپنی سا لمیت و آزادی، جغرافیائی خود مختاری اور اپنی حدود کے اندر انتظامات کے حوالے سے اپنا کلیدی رول ادا کرنے سے غافل نہ ہوں۔ یقیناً سرمایہ کار اپنی شرائط لے کر آتاہے ، مگر خود اس کے اپنے مفادات بھی تقاضا کرتے ہیں کہ وہ سرمایہ کاری کرے ، اس لئے مؤکلین کے بھی حقوق اور مفادات محفوظ کئے جاسکتے ہیں اور یہ محفوظ ہونے چاہئیں۔

اس وقت جس خوشگوار اور مثبت ماحول میں ہماری یہ کل جماعتی کانفرنس انجام پذیر ہوئی ہے اس سے ہر پاکستانی نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ وزیراعظم کو سنجیدگی کے ساتھ یہ ثابت کرنا ہوگاکہ اس قومی اتحاد و یکجہتی کو نہ تو ان کی ٹیم کا کوئی فرد سبوتاژ کرے گااور نہ ہی ان کاروایتی لاابالی پن اس بے مثال اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا سبب بنے گا۔ اس سے قبل کئی مرتبہ وہ سیاسی اور معاشی دونوں میدانوں میں یکجہتی برپا کرنے کے بعد اپنی غلطیوں سے ہیجان پیدا کرتے رہے ہیں۔ یہ حکومت میں ان کی تیسری ٹرن ہے ، اب یہی اُمید رکھنی چاہیے کہ ان کی سیاسی سوچ کافی پختہ ہوچکی ہے ۔یہ سارا منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچا تو بھارت بھی اپنے تجارتی و معاشی مفادات کے لئے میدان میں آئے گا۔ ہمیں اپنے روٹ کو سب کے لئے کھلا رکھناچاہیے، مگر اس کے استعمال کی شرائط ہمیں بڑی سنجیدگی ، ہنرمندی اور دانش کے ساتھ طے کرنا ہوں گی۔ بھارت کے ساتھ مخصوص میدانوں میں مخصوص گروپوں کی تجارت کو بنیاد بنا کر اس روٹ کے استعمال میں کوئی غیر معقول لچک پیداکرنا ملک و قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ ہم دعا گو ہیں کہ یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے اور اللہ تعالیٰ پاکستان کو اقتصادی ، سیاسی اور عسکری ہر لحاظ سے آزاد و خودمختار ریاست کی حیثیت سے زندہ رکھے ۔ہمیں اللہ تعالیٰ اپنے وطنِ عزیز کی اسلامی اساس کو محفوظ کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔

مزید : کالم