سرمایہ کاری کے لئے غیر متزلزل عزم

سرمایہ کاری کے لئے غیر متزلزل عزم
سرمایہ کاری کے لئے غیر متزلزل عزم

  

جب سے چین نے اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے لئے 46ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں، بعض ہمسایہ ملکوں اور اندرون ملک کی لابیوں کے لئے تکلیف کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ان معاہدوں کو متنازعہ اور حکمرانوں کے ذاتی مفادات کا آئینہ دار ثابت کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ چین کے ذمہ داران تک ایسی اطلاعات پہنچتی رہتی ہیں، لیکن پاکستان سے محبت کی راہ میں نہ تو ان کے قدم ڈگمگائے اور نہ ہی وہ کبھی ایسی سازشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہر موقع پر انہوں نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حال ہی میں کہا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی راہداری پر تنازعات کا انہیں علم ہے۔ منصوبے مکمل کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اقتصادی راہداری سے پاکستان سمیت پورے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ قبل ازیں اسلام آباد میں چین کے سفارت خانے کی طرف سے وضاحتی بیان جاری ہوا، جس میں بتایا گیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کسی مخصوص علاقے کے لئے نہیں، بلکہ منصوبے سے پاکستان کے تمام صوبے مستفید ہوں گے۔ چینی سفارت خانہ نے اس پس منظر میں بیان جاری کیا تھا کہ پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے پر شدید قسم کے تنازعات سامنے آ رہے ہیں۔ بعض سیاست دان منصوبے کے ذریعے حکومت پر اقربا پروری کا الزام لگا رہے ہیں۔

وزیراعظم محمد نوازشریف کی سربراہی میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک تھے، ان تحفظات کو دور کرکے یکجہتی پیدا کی گئی اور اگلے اڑھائی سال میں سب سے پہلے مغربی روٹ کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔آئندہ اسی کے مطابق اس منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ قبل ازیں 46ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کے لئے چین کے صدر محترم پاکستان میں تشریف لانے والے تھے۔عین اس موقع پر اسلام آباد میں دھرنوں کا بے ثمر موسم طاری کر دیا گیا۔ اس کے باوجود چین کی دوستی پر پت جھڑ نہیں آئی۔ چند ماہ تاخیر سے چین کے صدر محترم پاکستان تشریف لائے اور انہوں نے 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے تاریخی معاہدوں پر دستخط کئے اور پاک چین دوستی کے میٹھے پھل پاکستانی عوام تک پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دنیا جانتی ہے اور پاکستان کے سیاست دان بھی اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ اربوں ڈالر کی چینی سرمایہ کاری سے تعمیر ہونے والی اقتصادی راہداری پاکستان چین اور وسط ایشیائی ملکوں کے مابین تجارتی و معاشی تعاون بڑھانے اور تعمیر و ترقی کی نئی راہیں کھولنے کے لئے دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان میں فوائد کی بہار آنے والی ہے۔ گزشتہ سال مئی میں وزیراعظم نے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے بارے میں سیاست دانوں کا اجلاس بلایا۔ بحث و تمحیص کے بعد تمام سیاست دانوں نے منصوبے کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی منظوری دی۔ کچھ دیر بعد منصوبہ بارے الٹے سیدھے بیانات آنا شروع ہو گئے۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر بار بار ٹی وی چینلوں اور سیاستدانوں سے ملاقاتوں میں وضاحت کر چکے ہیں کہ منصوبہ کسی ایک صوبے یا مخصوص شخصیات کو فیض رسانی کے لئے نہیں، بلکہ پورے پاکستان کے لئے ہے۔

دونوں ملکوں کے مابین منظور کردہ نقشے بھی اس امر کی واضح گواہی موجود ہے۔ ٹی وی کے اینکرپرسن منصوبے کی افادیت و عدم افادیت بارے جتنے سوالات ممکن ہو سکتے ہیں، کرتے ہیں، جن کے جوابات احسن اقبال صاحب کی طرف سے دیئے جا رہے ہیں اور عام پڑھا لکھا آدمی بھی ان جوابات سے مطمئن ہو رہا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی اور کراچی میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ سے کراچی کا کاروباری طبقہ اور عام لوگ سخت پریشان تھے۔ دونوں محاذوں پر آپریشن شروع کرنے کے لئے وزیراعظم نے سیاست دانوں کا اجلاس بلایا، جس میں سب نے متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی۔ کراچی میں رینجرز نے جب سرکاری وسائل لوٹنے والے اعلیٰ عہدیداروں کے گرد دائرہ تنگ کیا تو متعلقہ جماعتوں نے اعتراضات شروع کر دیئے، حتی کہ رینجرز کے اختیارات محدود کرنے کے لئے تگ و دو شروع ہو گئی جو کسی طور ممکن نہیں، اس لئے پاک فوج ،پاکستان بھر کے عوام اور وفاقی حکومت دہشت گردوں اور بھتہ خوروں کے خاتمہ کے ایجنڈا پر یک زبان و ہمقدم ہیں ۔ اقتصادی راہداری منصوبہ بارے سیاست دانوں کی موجودہ کانفرنس کے بعد ملک بھر کے سیاست دان مطمئن ہو چکے ہیں ، چین پاکستان کی دوستی میں بہت آگے تک جانے کے لئے تیار ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین جب سے فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہوا ہے، چین کے لئے پاکستان کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔راہداری کے معاہدوں میں 30 ارب ڈالر سے زیادہ رقم بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر خرچ ہو گی،جس کے بعد اندھیروں کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جا سکے گا۔ وافر بجلی ملے گی تو انڈسٹریل بیس میں وسعت پیدا ہو گی۔ روزگار کے لا تعداد مواقع پیدا ہوں گے۔ چین کے ساتھ ساتھ ترکی بھی پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے منصوبہ بندیوں میں مصروف ہے۔ اس ماحول میں فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ملک بھر کے 42 ایوان ہائے صنعت و تجارت ملک میں خارجہ سرمایہ کاری لانے اور تعمیر و ترقی کا عمل تیز کرنے کے عمل میں حکومت کے ساتھ ہیں، سیاست دانوں کو بھی چاہئے کہ وہ عوامی خوشحالی کے پروگراموں میں مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں۔

مزید : کالم