زکوٰۃ کے تعاون سے کاروبار۔۔۔ مستحسن فیصلہ!

زکوٰۃ کے تعاون سے کاروبار۔۔۔ مستحسن فیصلہ!

معاصر کی خبر کے مطابق صوبائی زکوٰۃ کونسل کا اجلاس ہوا اس میں پانچ کروڑ پچیس لاکھ پینسٹھ ہزار روپے تقسیم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے مطابق صوبے کے136تعلیمی اداروں کو 2کروڑ42لاکھ روپے، دینی مدارس میں2کروڑ83لاکھ روپے تقسیم کئے جائیں گے۔ کونسل نے مستحقین کو کاروبار کے لئے رقوم دینے کا بھی فیصلہ کیا کہ یہ حضرات خود کفیل ہو سکیں۔ اس سلسلے میں پہلے سے طے شدہ رقم دو لاکھ روپے کو حالات حاضرہ میں ناکافی قرار دیتے ہوئے بڑھا کر تین لاکھ روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستحق حضرات بہتر طور پر کوئی کاروبار کریں اور مسائل سے عہدہ برآ ہو کر خود کفیل ہوں اور ان کو پھر کسی مالی مدد کی ضرورت نہ رہے، اس کے علاوہ رکشے اور سلائی مشینیں بھی تقسیم کی جائیں گی۔صوبائی زکوٰۃ کونسل کے اجلاس اور فیصلوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مرکزی زکوٰۃ کونسل سے صوبے کو حصہ مل چکا ہے یہ فیصلے اہمیت کے حامل ہیں، خصوصاً زکوٰۃ کونسل کا یہ منصوبہ کہ مستحقین کو برسر روزگار کیا جائے تاکہ وہ خود کفیل ہو جائیں، احسن اقدام ہے اور زکوٰۃ کے فلسفے کی روح کے مطابق ہے،کیونکہ دین کے اس رکن کا مقصد ہی یہ ہے کہ معاشرے کے مجبور افراد کو غربت کی مجبوری سے نکال کر معاشرے کا فعال رکن بنایا جائے۔ یہ فیصلہ بھی درست ہے کہ رقم بڑھا کر دو سے تین لاکھ روپے کر دی گئی ہے اس سے موجودہ حالات اور دور میں قدرے بہتر روزگارکے لئے کاروبار شروع کیا جا سکے گا۔ یہ مستحسن فیصلے ہیں۔اس سلسلے میں یہ وضاحت بھی ہو جاتی تو بہتر ہوتا کہ ضلعی زکوٰۃ کمیٹیوں کی جو رقوم گزشتہ برس سے رکی ہوئی ہیں وہ جاری ہوئی ہیں یا نہیں! اگر نہیں تو ان کو بھی جاری کیا جائے تاکہ جن مستحقین کو وظائف ملتے ہیں وہ تو مستفید ہوں۔

مزید : اداریہ