تیل اور کاربن فضلے کے استعمال کو مزید بڑھنے سے روکا جائے‘کرسٹیانا فیگرس

تیل اور کاربن فضلے کے استعمال کو مزید بڑھنے سے روکا جائے‘کرسٹیانا فیگرس

ابو ظہبی (فیصل بن نصیر) اقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشن فریم ورک کنونشن برائے کلائمٹ چینج کی ایگزیکٹیو سیکرٹری کرسٹیانا فیگرس نے پیرس معاہدے کے بعد ابوظہبی میں ہونے والی ماحولیاتی اور توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی بہتری کے لئے ضروری ہے کہ وہ تیل اور کاربن فضلے کے استعمال کو مزید بڑھنے سے روکے اور اس ضمن میں توانائی کے حصول کے لئے دیگر زرائع کا حصول زیادہ سے زیادہ قابل عمل بنایا جائے تاکہ دنیا تباہی سے بچ سکے، انہوں نے یو اے ای انوسٹمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر اور صدر مجلس دیوان ابوظہبی شیخ حامد بن زید النہیان سے ملاقات بھی کی اورانہیں یقین دلایا ہے کہ ابوظہبی کے لئے پیرس معاہدے کے بعد وسیع مواقع موجود ہیں کہ وہ زیادہ ترقی کر سکے۔کرسٹیانا فیگرس نے ابوظہبی حکومت کو یقین دلایا کہ کوئلے کے کم استعمال کے باعث گرین انرجی کے زرائع استعمال کرنے پر عالمی ادارہ برائے ماحولیات اور یو این ایف سی سی سی حکومت ابوظہبی کو بہتر حکمتِ عملی کے لئے مکمل مدد فراہم کرئے گی، انہوں نے کہا کہ شہزادہ حمادبن زید النہیان کا ویژن ہے کہ انہوں نے ابوظہبی کو ونڈ انرجی اور شمسی توانائی اور جیو تھرمل منصوبوں میں خود کفیل کرنا ہے،جبکہ کاربن فضلے کے پھیلاؤ اور ماحول دشمن تیل کے ذرائع کے استعمال کو روکنا ہے،انہوں نے کہا کہ یو این ایف سی سی سی جن توانائی کے منصوبوں کو آج زیر بحث لا رہا ہے یہ آج سے برسوں پہلے شیخ زید بن النہیان مرحوم نے ابوظہبی میں قابل عمل بنائے اور آج ابوظہبی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ یو اے ای تیل کی دولت سے مالا مال ہے لیکن دیگر توانائی کے منصوبوں پر عمل کر کے بھی انڈسٹری کو مزید فعال اور مستحکم بنایا جا سکتا ہے، اس موقع پر یو اے ای انوسٹمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر اورصدر مجلس دیوان ابوظہبی شہزادہ حماد بن زید کا کہنا تھا کہ یو اے ای چاہتا ہے کہ پیرس معاہدے کے بعد زیادہ سے زیادہ گرین انرجی کے منصوبوں کو قابل عمل بنائے تاکہ دنیا کے ماحول قائم رکھا جا سکے، اس موقع پر کوک آئی لینڈ کے وزیر اعظم ہینری پونا، سیکرٹری یورپین کمیشن برائے توانائی میگال ایئریز سانتے، اینوائرنمنٹل مارکیٹس کے سربراہ کیونگ آپارک سمیت یوپی یونین کے نمائندوں ، اور یو این ایف سی سی سی کے دیگر عہدے داران بھی موجود تھے۔

مزید : عالمی منظر