خدا کی قدرت، وہ جڑواں بہنیں جو ایک ہی ماں سے دو مختلف ممالک میں پیدا ہوئیں

خدا کی قدرت، وہ جڑواں بہنیں جو ایک ہی ماں سے دو مختلف ممالک میں پیدا ہوئیں
خدا کی قدرت، وہ جڑواں بہنیں جو ایک ہی ماں سے دو مختلف ممالک میں پیدا ہوئیں

  

مڈویلز(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں روزانہ کئی جڑواں بچے پیدا ہوتے ہوں گے مگر کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ دو جڑواں بچے دو الگ الگ ملکوں میں پیدا ہوئے ہوں؟ آپ بھی یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ایسا واقعی ہو چکا ہے۔ ہیڈی گینن اور جو بینز دو جڑواں بہنیں ہیں جو پوائس(Powys) میں رہتی ہیں جوویلز کا ایک خودمختار علاقہ ہے۔ ان دونوں بہنوں کی پیدائش ویلز کے بارڈرکے قریب ہوئی تھی، ایک بہن صبح 9بجے ویلش پول ہسپتال میں جبکہ دوسری ایک گھنٹہ 45منٹ بعد بارڈر کی دوسری طرف شریوزبری میں پیدا ہوئی تھی۔ ان کے ماں باپ کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہونے والے ہیں۔ وہ ایک بچی کی پیدائش کے بعد کچھ طبی پیچیدگی کی وجہ سے سرحد پار شریوزبری کے بہتر ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے۔ خاتون کی ایک بار پھر حالت خراب ہوئی، اسے ہسپتال پہنچایا گیا، اور وہاں اس نے دوسری بچی کو جنم دے دیا۔ ان دونوں بہنوں کی عمریں اس وقت 40سال ہیں اور انہوں نے اب 2الگ ملکوں میں پیدا ہونے پر اپنا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ دراصل گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس سال تین سالہ جڑواں بچوں کا نام درج کیا گیا ہے جو نارتھ امبرلینڈ میں پیدا ہوئے ہیں، گنیز بک نے انہیں دنیا کے پہلے جڑواں بچے جو دو ملکوں میں پیدا ہوئے کا خطاب دیا ہے۔ گزشتہ دنوں ہیڈی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ پڑھ رہی تھی۔ جب اسے اس ریکارڈ کا علم ہوا تو اس نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے حکام کو غلطی کا احساس دلایا اور بتایا کہ یہ بچے پہلے نہیں ہیں، بلکہ ہم دو بہنیں وہ پہلی جڑواں ہیں جو دو ملکوں میں پیدا ہوئیں۔ دونوں نے اپنے پیدائش کے سرٹیفکیٹ گنیز بک کو ارسال کیے جس کے بعد ان کا نام بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر