زہریلی شراب سے اب تک درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکیں

زہریلی شراب سے اب تک درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکیں

لاہور( یونس باٹھ ،بلال چودھری ) صوبائی دارالحکومت میں زہریلی شراب کے استعمال سے اموات ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ابھی تک زہریلی شراب کے استعمال سے درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں لیکن اس کے باوجود زہریلی شراب فروخت کرنیوالوں کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کی جا سکی ہے ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں زہریلی شراب کے استعمال سے لوگوں کی اموات کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں ۔کچھ عرصہ قبل چوہنگ کے علاقہ میں 7جبکہ بادامی باغ کے علاقہ میں 6افراد زہریلی شراب پینے سے ابدی نیند سو گئے تھے اسی طرح سے لیاقت آباد میں 9،ہربنس پورہ میں 4،شاہدرہ ٹاؤن میں 4،شیرا کوٹ میں 3 ،کوٹ لکھپت میں 3،برکی میں 4،شادباغ میں 3،ملت پارک میں 2،اچھرہ میں 2جنوبی چھاونی میں 2اور فیکٹری ایریا میں بھی 2افراد زہریلی شراب کے استعمال سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ۔افسوسناک امر یہ ہے کہ زہریلی شراب بیچنے والوں کے خلاف پولیس کی جانب سے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی جاتی اور وہ سر عام دندناتے پھرتے ہیں ۔اگر ان کو پکڑ بھی لیا جائے تو وہ عدم ثبوت کی وجہ سے عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں اور دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر دیتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق ابھی تک پاکستان بھر میں زہریلی شراب پی کر قیمتی جانوں کے ضیاع کا سب سے بڑا واقع کراچی میں پیش آیا جہاں پر 67افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

مزید : صفحہ اول