ایران کشیدگی ختم کرنے کے لئے فوکل پرسن مقرر کرنے پر رضا مند،سعودی عرب سے بھی درخواست کرینگے: پاکستان

ایران کشیدگی ختم کرنے کے لئے فوکل پرسن مقرر کرنے پر رضا مند،سعودی عرب سے بھی ...

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نواز شریف اور ایرانی صدر حسن روحانی کی ملاقات میں سعودی عرب سے کشیدگی ختم کرانے کیلئے ایران اپنا فوکل پرسن مقرر کرنے پر رضامند ہو گیا ۔ اس سلسلے میں سعودی عرب سے بھی اپنا فوکل پرسن مقرر کرنے کی درخواست کی جائے گی جبکہ پاکستان بھی اپنا فوکل پرسن مقرر کرے گا۔وزیراعظم نواز شریف نے تہران میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران نے تنازع حل کرنے کیلئے فوکل پرسن مقرر کرنے پراتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے بھی کہا جائے گا کہ وہ اپنا فوکل پرسن مقرر کرے۔سعودی عرب اور ایران نے تنازع ختم کرانے کیلئے پاکستانی کوششوں کی تعریف اور حمایت کی ہے۔ہم انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کسی کے کہنے پر امن مشن شروع نہیں کیا یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے۔نواز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان دو اسلامی ممالک میں مصالحت کیلئے اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔دونوں ممالک میں تنازع کا پرامن حل اسلامی اور مقدس فریضہ ہے۔ثالثی کا کردار ادا کرنا ہمارے لئے باعث فخر ہے اوردونوں ممالک کے دوروں سے بہت مطمئن ہوں۔وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کو دشمن نہیں سمجھتے لہٰذادونوں ممالک میں کشیدگی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے،انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور ایران ہمارے بھائی ہیں اوردونوں کو دہشت گردی کے خطرے کاادراک ہے۔

تہران (اے پی پی) وزیراعظم محمد نوازشریف سعودی عرب اور ایران کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کیلئے گزشتہ روز تہران سے ڈیووس سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے۔ تہران ایئر پورٹ پر ایران کے وزیر داخلہ اور اعلیٰ حکام نے وزیراعظم کو رخصت کیا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف 20 سے 25 جنوری تک ڈیووس میں منعقد ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس 2016ء میں شرکت کرینگے جس میں دنیا بھر سے سربراہان مملکت و حکومت، سرکردہ کاروباری شخصیات، دانشور اور ذرائع ابلاغ کے رہنماؤں سمیت کم و بیش تین ہزار شخصیات شرکت کریں گی۔ وزیراعظم نواز شریف اس موقع پر کئی عالمی تقریبات میں شرکت اور اہم سیاسی و کاروباری رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ جنوبی ایشیاء پر توجہ کی حامل ایک تقریب میں وزیراعظم نواز شریف علاقائی استحکام اور مواصلاتی روابط کے حوالے سے اپنی حکومت کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کا وژن پیش کریں گے۔ اس تقریب کے دیگر شرکاء میں سری لنکا کے وزیراعظم رامیل وکراما سنگھے، ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر اور بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ بینکار محمد یونس شامل ہیں۔ وزیراعظم ’’پاک فائنڈرز گروپ‘‘ کے زیر اہتمام ناشتے پر اجلاس میں ’’پاکستان کاروباری مواقع کی سرزمین‘‘ کے موضوع پر تقریباً 100 کاروباری رہنماؤں سے بھی خطاب کریں گے۔ وہ عالمی اقتصادی لیڈرز کے غیر رسمی اجتماع کے ظہرانے میں بھی شریک ہوں گے جس میں وہ 80 سے زائد سرکردہ کاروباری اور سیاسی شخصیات کے ساتھ گفتگو کریں گے۔ واضح رہے کہ عالمی اقتصادی فورم کا سالانہ اجلاس سربراہان مملکت و حکومت، کاروباری شخصیات، بین الاقوامی تنظیموں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے ارکان سمیت عالمی رہنماؤں کو اقتصادی اور سیاسی امور پر وسیع تر تبادلہ خیال کیلئے ایک منفرد پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کو عالمی اقتصادی فورم میں شرکت سے کاروباری سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لئے پاکستان کے شاندار محل وقوع کو اجاگر کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ وزیراعظم نواز شریف جنیوا میں یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق (سرن) کا بھی دورہ کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور سرن 1994ء سے مل کرکام کر رہے ہیں اور انہوں نے کئی کامیاب منصوبہ جات کی تکمیل کی ہے۔ پاکستان گزشتہ برس ’’سرن‘‘ کا ایسوسی ایٹ ممبر بنا اور اسے ایشیاء سے ’’سرن‘‘ کا پہلا ایسوسی ایٹ ممبر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وزیراعظم کا ’’سرن‘‘ کا دورہ پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے حکومت کے پختہ عزم کا عکاس ہوگا۔ ایران سعودی عرب کشیدگی میں مصالحتی کردار ادا کرنے کیلئے وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں جن میں ایران سعودی عرب کشیدگی ،علاقائی سلامتی اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نوازشریف اور ایرانی صدر حسن روحانی کی ملاقات میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی شریک تھے۔ ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات 40منٹ کی بجائے ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ذرائع کے مطابق ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں طرف سے مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔وزیراعظم نواز شریف نے ایران کے دورہ پر پہنچتے ہیں ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ مسلم امہ کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں کشیدگی کم کرانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔اس موقع پر ایرانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان انتہائی نازک وقت میں اہم کردار ادا کررہا ہے پاکستانی کوششوں سے عالم اسلام کو فائدہ پہنچے گا۔وزیراعظم نوازشریف کی ایران کے اول نائب صدر اسحاق جہانگیری سے بھی ملاقات کے دوران آرمی چیف اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں پاکستانی رہنماؤں نے ایرانی صدر کو کشیدگی ختم کرنے کیلئے تجاویز دیں جن پر ایرانی قیادت نے مثبت جواب دیا۔دریں اثناء تہران میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ایرانی وزیر دفاع کی ملاقات بھی ہوئی جس میں علاقائی سلامتی کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان برادر اسلامی ملک ایران کو بڑی اہمیت دیتا ہے، خطے میں عدم استحکام کی وجہ دہشت گردی ہے جس کی روک تھام کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔قبل ازیں ریاض سے تہران جاتے ہوئے طیارے میں مشاورتی اجلاس بھی ہوا جس میں پاک ایران تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی قیادت سے ہونیوالی ملاقاتوں پر بھی بات ہوئی جبکہ طیارے میں وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔

مزید : صفحہ اول