فوکل پرسن کے تقرر پر اتفاق بات چیت شروع کرنے کا مثبت اور واضح اشارہ

فوکل پرسن کے تقرر پر اتفاق بات چیت شروع کرنے کا مثبت اور واضح اشارہ

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری:

وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے تہران میں ڈیڑھ گھنٹے تک ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی، جس کے نتیجے میں ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی دور کرنے کے لئے ایک فوکل پرسن مقرر کرے گا، وزیراعظم نواز شریف نے تہران میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب سے بھی کہیں گے کہ وہ فوکل پرسن مقرر کرے۔ اسی طرح کا فوکل پرسن خود پاکستان بھی مقرر کرے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ چند دنوں میں یہ فوکل پرسن مذاکرات شروع کرسکتے ہیں جن میں پاکستان کا کردار رابطہ کار کا ہوگا۔ ایران اور سعودی عرب اگر کشیدگی کم کرنے کے لئے مذاکرات شروع کردیتے ہیں تو اسے پاکستان کی کامیابی تصور کیا جائے گا۔ وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی، اور آج چینی صدر شی چن پنگ نے ریاض پہنچ کر شاہ سلمان سے ملاقات کی، بدھ کو وہ تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی سے مذاکرات کریں گے۔ پاکستان کے بعد چینی صدر کے اس دورے کو بھی بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ جو نہ صرف سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے مشن پر ہیں بلکہ وہ ایران میں بہت سے اقتصادی منصوبوں میں سرمایہ کاری کا بھی اعلان کریں گے، جس طرح چین پاکستان کی بندرگاہ گوادر کی ترقی میں دلچسپی رکھتا ہے اسی طرح وہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کی ترقی کا بھی خواہاں ہے۔ دونوں بندرگاہیں اگر ترقی کرتی ہیں تو چین اور علاقے کے ملک ان سے استفادہ کرسکتے ہیں، وزیراعظم نواز شریف نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ چاہ بہار ہمارے گوادر کی رقیب نہیں بلکہ ’’سسٹر بندرگاہ ‘‘ ہوگی، چینی صدر کے دورے کو اس پس منظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ چین نے پاکستان میں 46ارب ڈالر پاکستان کے پاور سیکٹر اور اقتصادی راہداری میں انوسٹ کرنے کا اعلان کررکھا ہے، اسی طرح بھارت میں بھی چین 20ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ اب یران کے دورے میں بھی اگر چینی صدر سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پورے خطے میں چین کی کس حدتک دلچسپی ہے، چینی برآمدات اور تیل کی درآمدات پاکستان کی اقتصادی راہداری سے گزریں گی۔ گزشتہ دنوں ایرانی صوبے سیستان (بلوچستان ) کے گورنر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری سے ملاقات کی تھی جس میں یہ تجویز بھی زیر بحث آئی کہ گوادر اور چاہ بہار کے درمیان ریلوے لائن بچھائی جائے، اگرچہ یہ تصور ابھی تک بڑی ابتدائی سطح پر ہے اور صرف سوچ بچار کے مرحلے میں ہے تاہم اگر یہ سوچ آگے بڑھتی ہے تو علاقے میں دوایمرجنگ بندرگاہیں آپس میں مل کر ایک اقتصادی جن کا کردار ادا کرسکتی ہیں، چینی صدر کے دورے کو صرف سعودی عرب ایران کشیدگی کے پس منظر میں ہی نہیں، اقتصادی حوالے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ چین اگر ایران میں سرمایہ کاری کا پروگرام بنارہا ہے تو بھی امن اس کی ضرورت ہے اور دنیا کے تیل کے دو بڑے برآمدکنندگان کے درمیان کشیدگی کم کرنا بھی چین کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے تہران میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لئے جو سفارتی پہل کاری کی ہے وہ ان کا اپنا آئیڈیاہے اور مسلم امہ کے دو ملکوں کے درمیان صلح کرانا بطور مسلمان ملک کے پاکستان کا دینی فریضہ بھی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر پاکستان اور چین کی کوششوں سے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا نہیں ہوتی اور بہتری کے لئے فوکل پرسن بات چیت شروع کردیتے ہیں تو اسے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی کامیابی تصور کیا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے اس دورے کی کامیابی کا ایک نکتہ تو فوکل پرسن کا تقرر ہے جبکہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران کی قیادتوں نے پاکستان کی اس پہل کاری کو پسند کیا ہے، اس اقدام کو سراہا ہے تو اس کا لازماً مطلب یہ ہے کہ وہ تعلقات کی بحالی کے لئے بھی تیار ہیں، پاکستانی وزیراعظم کے اس دورے کا واحد مقصد تو دونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری ہے اب اگر اس مقصد کو سراہا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے تعلقات کی بہتری کی خواہش دونوں دارلحکومتوں میں موجود ہے، وزیراعظم نواز شریف تہران سے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ ڈیووس میں اکنامک فورم کے اجلاس میں شریک ہوں گے سائیڈ لائن پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی اور تعلقات کی بہتری بھی زیربحث آئے گی سعودی حکومت کا یہ مؤقف بھی حوصلہ افزا ہے کہ وہ ایران سمیت تمام ملکوں سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، وزیراعظم نواز شریف نے یہ بات بھی کہی کہ اگرچہ دونوں ملک تعلقات کی بہتری چاہتے ہیں اور پاکستان کے کردار کے معترف ہیں تاہم دونوں کے باہمی تحفظات بھی ہیں جن کا تذکرہ اس وقت نامناسب ہوگا ۔ دونوں ملکوں کے تحفظات بھی فوکل پرسنز کے درمیان زیربحث آئیں گے۔ ایران پر عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ماحول مزید سازگار ہوگیا ہے اور پاکستان اپنا کردار کھل کر ادا کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے، اور اس سلسلے میں کسی کشمکش کا شکار نہیں ہے۔

مزید : تجزیہ