سچ سر چڑھ کر بولتا ہے سرتاج عزیز نے اوباما کو جواب دے دیا

سچ سر چڑھ کر بولتا ہے سرتاج عزیز نے اوباما کو جواب دے دیا

تجزیہ:چودھری خادم حسین:

سچ ہمیشہ سر چڑھ کر بولتا ہے اور کبھی چھپائے نہیں چھپتا، اگر کوئی مصلحت آڑے ہو تو خاموشی الگ بات ہے لیکن جب بھی بات ہو گی سچ ہی سامنے آئے گا۔ آج دو الگ الگ امور میں حقائق کی نشان دہی ہوئی اور سچ ہی کا بول بالا ہوا ہے، خارجہ امور کے مشیر محترم سرتاج عزیز نے سینٹ سے خطاب کے دوران وہ سچ کہہ ہی دیا جو مصلحت کے تحت خاموشی کے پردے میں تھا۔ سرتاج عزیز نے امریکی صدر اوباما کے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کے حوالے سے کہا، جہاں بھی امریکہ اور اس کے اتحادی گئے وہاں خلفشار ہی ہوا۔ مشیر خارجہ کو صدر اوباما کی تقریر کے اس حصے سے اختلاف اور اس پر رنج تھا کہ پاکستان اگلی دہائیوں میں بھی خلفشار اور غیر یقینی کا شکار رہے گا۔ انہوں نے کہا پاکستان برسر پیکار ہے اور انشاء اللہ اسے کامیابی اور استحکام نصیب ہوگا لیکن یہ حقیقت اوباما کو نہیں بھولنا چاہئے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جس بھی خطے میں گئے وہ خطہ خلفشار کا شکار ہوا یہ وہ سچ اور حقیقت ہے جو کوئی راز نہیں اور حقائق پر مبنی ہے لیکن ہماری اکثریتی اور حکمران جماعتیں ہمیشہ یہ کہنے سے گریز کرتی رہی ہیں کہ اقتدار کے دوران اقوام متحدہ، آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور دنیا کے جن ترقی یافتہ ممالک سے واسطہ پڑتا ہے وہ امریکہ کے زیر اثر ہیں اور خود امریکہ با اثر اور واحد عالمی قوت کے طور پر موجود ہے اس کے ساتھ مفادات وابستہ ہیں حتیٰ کہ اقتدار کی مضبوطی سے منتقلی تک امریکی اثر و رسوخ کا ذکر کیا جاتا ہے اب تو پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقاتیں اور پھر مذاکرات پر آمادگی کو بھی امریکی اثر و رسوخ سے منسلک کیا جا رہا ہے اور یہ ایک حد تک درست ہے کہ امریکی وزارت خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے ترجمانوں کے بیان سامنے ہیں۔

حقائق یوں بھی چھپائے نہیں چھپتے یہ بھی حقیقت ہے کہ شاہ فیصل کی شہادت کرنل قذافی اور جمال عبدالناصر کے اقتدار کا خاتمہ اور ان کا انجام بھی امریکہ ہی کے کھاتے میں جاتا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ ان حضرات کا قصور یہ تھا کہ وہ اسلامی ممالک کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے ارادے پر قائم تھے۔ اب جو صورت حال مشرق وسطیٰ میں بنی اسد میں بھی امریکی پالیسی واضح ہے کہ داعش کے امیر البغدادی کی رہائی اور ان کا عروج بھی امریکی کھاتے میں اور اب بظاہر سعودی عرب کا حامی اور حلیف ہونے کے باوجود سعودی عرب کے موجودہ حکمرانوں سے بعض تحفظات کے حوالے سے ان کو بھی حجم کے اندر رکھنے کا کام سر انجام دیا جا رہا ہے اور ایران کو اس کے جائز حقوق کے حوالے سے بھی اس طرح مستحکم کیا جا رہا ہے کہ اس کی زد براہِ راست سعودی عرب پر پڑے دوسری طرف ایران کو بھی ایک حد کے اندر رکھنے کی پالیسی ہے جو اس امر سے ظاہر ہے کہ پابندیاں ختم کیں، ایران کو اثاثے ملیں گے۔ تجارت کھلے گی۔ تیل اور گیس بکے گی۔ یوں معیشت بہتر ہو گی اور تیل کی عالمی مارکیٹ میں فروخت سے تیل اور سستا ہوگا تو سعودی حکومت کے نقصان یا خسارے میں اضافہ ہوگا حالیہ عالمی کساد بازاری کے اثرات بجٹ کے خسارے کی صورت میں نکلے اور سعودی عرب کے اندر پیٹرول کے نرخ دوگنا کرنا پڑ گئے ہیں۔ ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ سرتاج عزیز اگر واقعی بول پڑے ہیں تو ملک کی پالیسیوں کو بھی اس طرح ترتیب دیا جائے کہ کسی دشمنی اور نقصان کے بغیر مسلم امہ کے اختلاف ختم ہوں اس حوالے سے وزیر اعظم محمد نوازشریف اور چیف آف آرمی سٹاف کی مشترکہ کاوش بہتر عمل ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے تنازعات ہی ختم نہ ہوں بلکہ اسلامی کانفرنس بھی بحال ہو اور یہ ملک اپنے فیصلے خود بھی کریں۔ اللہ استقامت دے۔ ہم تمام تر خدشات کے باوجود دعا گو ہیں۔

دوسری سچائی جو سامنے آئی وہ بھارت کے سلامتی کے اداروں کی تحقیقی رپورٹ ہے اس تحقیقاتی کمیٹی میں ان کی بارڈر سیکیورٹی فورس کے بڑے بھی شامل تھے۔ یہ کمیٹی کہتی ہے کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس کے در انداز پاکستان کی طرف سے نہیں آئے۔ یاد رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری کشمیر جہاد کونسل نے قبول کر رکھی ہے لیکن بھارتی پالیسی کے مطابق الزام پاکستان پر دھرا جا رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب بھی نیت ٹھیک نہیں۔ صاف نظر آتا ہے کہ یہ کیا دھرا نان سٹیٹ ایکڑوں کا ہے یا پھر ’’خود کردہ لا علاج نیت والی بات ہے اسے جن معنوں میں چاہیں استعمال کرلیں۔ بہر حال ابھی اور سچ بھی باہر آئیں گے ہماری تو اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ اللہ مسلمانوں کو دین اسلام کا پیرو کار بنا دے۔

مزید : تجزیہ