خطے میں امن کے قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے ، میاں افتخار

خطے میں امن کے قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے ، میاں افتخار

 پشاور(کرائمز رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ خطے میں دائمی امن کے قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پر عمل درآمد لازمی ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پارٹی کے صوبائی نائب صدر اور انچارج قبائلی امور عمران آفریدی بھی ان کے ہمراہ تھے ، اس دوران شہداء اور زخمیوں کے لواحقین نے بھی میاں افتخار حسین سے بات کی اور کہا کہ تکلیف کی اس گھڑی میں کسی حکومتی نمائندے نے یہاں آنے کی زحمت گوارا نہیں کی ، مرکزی جنرل سیکرٹری نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے موقع پر متاثرین کو حکومتی داد رسی کی اشد ضرورت ہوتی ہے لہٰذا حکومتی نمائندوں کو ان غمزدہ خاندانوں کی داد رسی کرنی چاہئے ،میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ہم نے کئی بار اس کا اظہار کیا کہ وزیر ستان آپریشن کے نتیجے میں عارضی امن قائم ہوا ہے تاہم اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دائمی امن کے قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پر عمل کرنا ہو گا ،انہوں نے کہا کہ اس میں تاخیر کے باعث دہشت گرد دوبارہ منظم ہوئے اور افغانستان اور پاکستان کے دونوں جانب حملے کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں یہ بات طے پائی تھی کہ دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کاروائی کی جانی چاہئے اب یہ دونوں ممالک کا امتحان ہے کہ وہ اس پر کس طرح عمل درآمد یقینی بناتے ہیں ، انہوں نے ایک بار پھر اس خدشہ کو دہرایا کہ آگے ایک بہت بڑا خطرہ نظر آ رہا ہے جس کے بعد لوگ ان چھوٹی کاروائیوں کو یکسر بھول جائیں گے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گرد ی کے خاتمے کیلئے پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جائے ورنہ دائمی امن کا خواب خواب ہی رہ جائے گا ،انہوں نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کو چاہئے کہ ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلائیں اور اس میں وزیر اعلیٰ اور کو رکمانڈر بھی موجود ہوں جس میں دہشت گردی کی موجودہ لہر اور اس کے خاتمے کے حوالے سے جائزہ لیا جائے ، انہوں نے کہا کہ اب بھی مزید حملوں کا خطرہ موجود ہے ، اور ان حملوں کے تدارک کیلئے چیک پوسٹوں پر مامور اہلکاروں کی حفاظت کیلئے مناسب اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں ،اُنہوں نے کہا کہ حملوں کی تعداد اور مزید خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے صوبے فل پروف سیکیورٹی اور ناکہ بندیوں کیلئے مربوط حکمت عملی وضع کی جائے۔ ضرورت پڑنے پر اے این پی دور کے سیکیورٹی پلان کے تجربے سے فائدہ اُٹھایا جائے۔انہوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ حال ہی میں سکولوں کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کی دھکیاں دی جارہی ہیں ، اور اگر خدانخواستہ ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو پھر عوام شاید ہی اس صوبے میں رہنے کو ترجیح دیں۔بعد ازاں میاں افتخار حسین اور عمران آفریدی نے وزیرستان کے آئی ڈی پیز کیمپ کا دور ہ کیا ، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے متاثرین سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی ڈی پیز کی فوری واپسی اور ان کی باعزت بحالی کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ، انہوں نے کہا کہ ملک میں امن کے قیام کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑنے والے شدید سردی کے موسم میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ، انہوں نے کہا کہ اگر ان متاثرین کی باعزت طریقے سے بحالی کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو امن کا قیام ممکن نہیں ہو گا ،۔

مزید : پشاورصفحہ اول