دہشت گردی کو کسی مذہب کے ساتھ وابستہ نہیں کیا جا سکتا

دہشت گردی کو کسی مذہب کے ساتھ وابستہ نہیں کیا جا سکتا
دہشت گردی کو کسی مذہب کے ساتھ وابستہ نہیں کیا جا سکتا

  

ریاض(آئی این پی)چین اور سعودی عرب دوطرفہ تعلقات کو ایک جامع حکمت عملی کے تحت شراکت داری تک وسعت دینے پر رضا مند ہو گئے ہیں تا کہ صنعتی میدان میں تعاون کو مزید آگے بڑھایا جا سکے ۔دونوں ممالک نے اس سلسلے میں صنعتی تعاون کی مفاہمتی دستاویز پر دستخط کیے ہیں ۔دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ ’’بیلٹ اور روڈ‘‘کے مجوزہ پروگرام پر بھی ایک دوسرے سے تعاون کریں گے ۔ یہ اتفاق رائے چینی صدر کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی شاہ سلمان سے بات چیت کے بعد طے پایا ۔دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ عالمی امن کے لیے خطہ بننے والی دہشت گردی اور دہشت گردوں کو کسی طوربھی قبول نہیں کیا جائے گا اور دہشت گردی کو کسی بھی مذہب یا مسلک سے وابستہ نہیں کا جانا چاہئے ۔ چین کے صدر ژی نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہو گا ،ہم باہمی تعاون سے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں گے اور عالمی اور علاقائی سطح پر ابھرنے والے معاملات میں بہتر تعاون کر سکیں گے ۔سعودی عرب کے شاہ سلمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام ہمارے درمیان ہونے والے معاہدوں سے فائد اٹھا سکیں گے اور سعودی عرب ’’بیلٹ اینڈ روڈ ‘‘کے تصور کی حمایت کرتا ہے ۔دونوں ممالک نے مواصلات ، توانائی ، ترقیاتی منصوبوں میں ایک جامع حکمت عملی کے تحت تعاون پر بھی رضا مند ی ظاہر کی اور بات چیت کے ذریعے دونوں تہذیبوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔دونوں ممالک نے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے پلیٹ فارم سے علاقائی رابطے بڑھانے کی ضرورت پربھی زور دیا ۔دونوں ممالک نے چین خلیج تعاون کونسل کے فری ٹریڈزون کے بارے میں مذاکرات کی بھی تعریف کی اور فری ٹریڈزون جلد از جلد قائم کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی ۔ دونوں ممالک نے توانائی ، مواصلات ، ماحولیات ،ثقافت ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کے کئی معاہدوں پردستخط کیے ۔ شاہ سلمان نے دورہ کے دوران چینی صدر کو سعودی عرب کا سب سے بڑا اعزاز شاہ عبد العزیز میڈل بھی عطا کیا ۔ یاد رہے کہ سعودی عرب چین کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اب وہ چین کے ساتھ تجارت کرنے والا بھی سب سے بڑا ملک بن رہا ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان 69.1ارب ڈالر سالانہ کی تجارت ہو رہی ہے ۔ دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیہ میں بھی باہمی تجارت کے فروغ ، عالمی اور علاقائی معاملات میں تعاون اور جامع حکمت عملی کے تحت شراکت داری کی بات کی گئی ہے ۔

مزید : بین الاقوامی