خیبر پختونخوا میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے حملوں پر ایک نظر

خیبر پختونخوا میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے حملوں پر ایک نظر
خیبر پختونخوا میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے حملوں پر ایک نظر

  

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک )خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں کو دہشت گردوں کی جانب سے متعدد بار نشانہ بنایا گیا جس میں معصوم بچوں سمیت کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ 

تفصیلات کے مطابق  خیبر پختونخوا میں گذشتہ ہفتے بھی سیکیورٹی خدشات اور دھمکی آمیز خطوط ملنے کے بعد پشاور میں سرکاری اور نجی سکولوں کو بند کردیا گیا تھا۔ لیکن آج 20 جنوری 2016 کو  دہشت گردوں نے باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 20افراد شہید جبکہ حملہ کرنے والے چاروں دہشت گرد مارے گئے ۔

دہشت گردوں نے 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر  حملہ کیا  جس میں  130 بچوں سمیت 150 افراد شہید ہوئے تھے ۔

یکم اکتوبر 2014 کو پشاور میں ہی ایک اسکول پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا جس میں سکول کی خاتون ٹیچر  شہید جبکہ 2 بچے زخمی ہوئے تھے ۔18 نومبر 2014 کو پاک افغان سرحد پر واقع کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پارا چنار میں ایک سکول وین کو بم سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں گاڑی کا ڈرائیور سمیت ایک بچہ ہلاک ہوا تھا ۔29 اکتوبر 2015 کو خیبر پختونخوا میں چارسدہ میں شبقدر کے علاقے میں 2 سرکاری سکولوں کے سامنے نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تاہم اس فائرنگ سے کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔

3 نومبر 2015 کو خیبر پختونخوا میں ہی نوشہرہ میں 3 حملہ آوروں نے ایک گرلز سکول کے باہر ہوائی فائرنگ کی تھی ،سکول کے باہر فائرنگ کرنے والے افراد کو پولیس گرفتار کرنے میں ناکام رہی ۔

مزید : پشاور