داعش اب کس جگہ حملے کی تیاری کررہی ہے اور فیصلہ کن جنگ کہاں لڑنا چاہتی ہے؟

داعش اب کس جگہ حملے کی تیاری کررہی ہے اور فیصلہ کن جنگ کہاں لڑنا چاہتی ہے؟
داعش اب کس جگہ حملے کی تیاری کررہی ہے اور فیصلہ کن جنگ کہاں لڑنا چاہتی ہے؟

  


واشنگٹن (نیوز ڈیسک) داعش کے سب سے بڑے اور خوفناک حملے کے منصوبے کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹ نے مغربی دنیا میں تہلکہ برپا کر دیا ہے۔ اخبار ’ڈیلی سٹار‘ کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیقات میں داعش کی 100 صفحات پر مشتمل کتاب ”روم کے سیاہ پرچم“ کا سراغ لگایا گیا ہے جس میں یورپ پر یلغار اور ”حق اور باطل“ کے درمیان آخری معرکے کا پورا نقشہ بیان کیا گیا ہے۔

بوسٹن یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر رچرڈ لینڈیز نے داعش کا مطالعہ ایک ایسے گروہ کے طور پر کیا ہے جو دنیا کے اختتام کو قریب دیکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش کے نظریے کے مطابق دنیا کے اختتام سے قبل آخری معرکہ برپا ہونے کو ہے، جس کے دوران مشرق وسطیٰ میں داعش کی خلافت سے اٹھنے والے لشکر یورپ پر قبضہ کرلیں گے۔ پروفیسر لینڈیز نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں کامیابی کے امکانات داعش کے لئے قدرے بہتر ہیں کیونکہ یورپی ممالک اس خطرے سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہیں۔

داعش کی خفیہ کتاب میں آخری معرکے کا آغاز روس اور مغرب کے درمیان جنگ کو بتایا گیا ہے جس میں ایران بھی شامل ہوگا۔ اگرچہ اس جنگ میں جیت مغرب کی ہوگی لیکن وہ اس قدر کمزورہوجائے گا کہ اس کے بعد ہونے والی داعش کی یلغار کا مقابلہ نہیں کرپائے گا۔

داعش کی کتاب میں تمام یورپ اور امریکا کو ”روم“ کا نام دیا گیا ہے اور پیشنگوئی کی گئی ہے کہ مغرب کے ہاتھوں ایران اور روس کی شکست کے بعد روم (امریکا اور یورپ) پر آخری اور فیصلہ کن حملہ کرنے کے لئے ایک لاکھ جنگجو 80 پرچموں تلے شامی خلافت میں اکٹھے ہوں گے، اور اس کے بعد وہ جنگ شروع ہوجائے گی جسے قیامت سے قبل آخری معرکے کا نام دیا گیا ہے۔

مزید جانئے: ’ایک حملے سے امریکا کو صفحہ ہستی سے مٹاسکتے ہیں‘

کتاب میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اس معرکے کا ذکر تمام بڑے مذاہب کی مقدس کتابوں میں ملتا ہے۔ داعش کا کہنا ہے کہ یورپ اور امریکا پر یلغار کرنے والے جنگجو ترکی پر قبضے کے بعد بحیرہ روم کو عبور کرتے ہوئے اٹلی پر حملہ آور ہوں گے اور پھر تمام یورپ پر چھاجائیں گے۔ کتاب میں ایک تفصیلی نقشہ بھی شائع کیا گیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ شام سے جنگجو ترکی میں داخل ہوں گے، جہاں سے آگے یورپ کی طرف بڑھیں گے، جبکہ تیونس اور مراکش کی طرف سے جنگجو براہ راست اٹلی اور سپین پر حملہ آور ہوں گے۔

منصوبے کے مطابق تمام یورپ میں داعش کی خلافت سے بھیجے ہوئے جنگجو پہلے ہی موجود ہوں گے جو کہ وقت آنے پر اپنی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے، اور یورپی ممالک کو روندتے ہوئے سب اکٹھے ہوکر بحیرہ روم کی طرف بڑھیں گے۔ کتاب کے آخر میں کہا گیا ہے کہ تمام یورپ اور امریکا پر داعش کا سیاہ پرچم لہرادیا جائے گا، اور مغربی دنیا کے مرکز روم پر قبضے اور مکمل فتح کے اعلان کے 7 ماہ بعد دجال کا ظہور ہوجائے گا۔

مزید : بین الاقوامی