ٹرمپ تیرا شکریہ

ٹرمپ تیرا شکریہ
ٹرمپ تیرا شکریہ

  



کہتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ اُتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں ۔ ان میں کبھی ابتری ہوتی ہے تو کبھی بہتری، جبکہ حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ ان میں کبھی دباؤ ہوتا ہے تو کبھی تناؤ ، اور یہ دباؤ اور تناؤ ہمیشہ یک طرفہ ہی رہا ہے ۔ دباؤ بھی اُدھر سے ہی آتا ہے جدھر سے تناؤ پیدا کیا جاتا ہے۔Doاور Do More اسی دباؤ کا شاخسانہ ہے ۔ سرِ تسلیم کرتے چلے جاؤ تو تناؤ کی کیفیت جنم نہیں لیتی ، ایسا نہ کرو تو دھمکی آمیز بیانات کے بعد نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہو جاؤ او راسی صورت حال کو تناؤ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

دباؤ اور تناؤ کی اس کیفیت میں ہماری ستر سالہ تاریخ میں شاید مختصر مدت کے اکا دکا وقفوں میں کچھ کمی رونما ہوئی ہو ، وگرنہ اس سے ہمارا ملک ہمیشہ دوچار رہا ہے ۔ کبھی معمول کے مطابق ، کبھی زیادہ اور کبھی بہت زیادہ۔ اسے حالات کی ستم ظریفی کہہ لیجئے یا امریکہ کی بین الاقوامی حالات کے تناظر میں کسی حد تک مجبوری کہ ہم دباؤ اور تناؤ کے تسلسل اور امریکہ کی مخالفت کے باوجود ایٹمی طاقت بننے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس کا ایک اہم سبب قومی سطح پر ہمارا یہ عزم تھاکہ ہم نے اپنے ایٹمی پروگرام کو بہر صورت منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ بدلتی حکومتوں کے باوجود ہماری مقتدر قوتیں اس سلسلے میں جبر ناروا سے مصالحت نہ کرسکیں۔ روس کے خلاف افغان جہاد میں ہمارے کردار نے ہمیں سنہری موقعہ بہم پہنچایا اور ’’شیطانِ اکبر‘‘ اس سے صرفِ نظر کرنے پر مجبور رہا ۔ ضیاء الحق شہید نے اس صورتِ حال سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ہمارا ایٹمی پروگرام تیز رفتاری سے آگے بڑھتا چلا گیا ۔

اس جیسے اور ایک آدھ استثناء کے علاوہ ہم ہمیشہ دباؤ اور تناؤ کے اسیر رہے ۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ یکے بعد دیگرے ہمارے حکم ران ۔۔۔ إلاّماشاء اللہ ۔۔۔ خود داری و جرأت اور شجاعت کے اوصاف سے محروم تھے ۔ ان میں خودی سے شناسائی تھی اور نہ ہی قومی و وطنی حمیت وغیرت کا کوئی داعیہ ۔ ان حکم رانوں کو اپنا اقتدار عزیز رہا اور امریکہ کو وہ اپنا اقتدار دہندہ سمجھتے رہے ۔ اس لئے اس کے سامنے بچھ جانا ہی ان کا ہدفِ اوّلین رہا ۔ ان میں سے کوئی امریکی سفیر کے اشارہۂ ابرو پر ڈھیر ہوجاتارہا تو کوئی ایک فون کال پر ۔ ملکی مفاد کسی کو بھی عزیز نہ رہا ۔ یہاں تک کہ ایک فون کال پر ڈھیر ہوجانے والے بد بخت نے پور ے ملک کو جہنم کدہ بنا ڈالا۔

پاکستانی حکم رانوں کی ذاتی کمزوریوں نے انہیں وہ حوصلہ ہی نہ بخشا جسے بروئے کار لا کر وہ امریکی حکام اور حکم رانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتے ۔ ان کا اندرونی ضعف پاکستان کو لاچارگی و بے بسی کی تصویر بناتا رہا ۔پاکستانی حکم رانوں کے رویوں سے لگا کہ وہ جس ملک کے فرماں روا ہیں ، وہ کوئی بیس کروڑ سے زیادہ جیتے جاگتے با شعور زندہ نفوس کا ملک نہیں ہے ، بلکہ وہ لوگ ایک ایسا ریوڑ ہیں جس کا رُخ جب اور جیسے چاہے موڑ لیا جائے ۔

امریکی ڈالر پاکستانی حکم رانوں کی وہ کمزوری بنا رہا جس نے انہیں بزدلی کی انتہاؤں تک پہنچا دیا۔ جب بھی کوئی پاکستانی حکم ران امریکہ جاتا تو اس کی کامیابی کو جانچنے کا واحد معیار یہی ہوتا تھا کہ وہ کتنا بڑا قرضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔کامیابی کے اس معیار نے پاکستانی حکم رانوں کو بین الاقوامی گداگربنا کے رکھ دیا ۔ اس گداگری کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہر ہر پاکستانی کا بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا ہے ۔ اب ایسے مقروض ملک اور قوم کو کوئی برابری کی سطح پر کیوں رکھے؟اسے کیوں کر خاطر میں لائے؟اسے کیوں سزاوارِ عزت و توقیر سمجھے؟ جبھی تو امریکی عہد ہ صدارت کے وقار کو خاک میں ملانے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو وہ بے ہودہ ٹویٹ کرنے کی جرأت ہوئی جس پر خود امریکہ کے اندر بھی تنقید کی جارہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ٹویٹ نے ثابت کردیا کہ پاکستان امریکہ دوستی کی حیثیت ایک فسانے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔ امریکہ دوستی کے معیارات سے ہی آگاہ نہیں ہے ، نہ ہی اسے معلوم ہے کہ دوستی کے تقاضے کیا ہوتے ہیں ۔انہیں نبھانا تو بہت دور کی بات ہے ۔ پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ یہی بتلاتی ہے کہ ان دونوں ممالک کو باہمی دوست قرار دینا خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ امریکی حکم رانوں نے اس تعلق کو صرف حاکمیت اور محکومیت کا لبادہ پہنایا ہے ۔اپنی کسی مجبوری کے باعث انہوں نے اس روش سے ہٹ کر کوئی اور طرزِ عمل اپنایا ہو تو وہ الگ بات ہے۔

اس نام نہاد امریکی دوستی نے پاکستان کو ہمیشہ ہی نقصان پہنچایا ہے ۔ نہ اس نے پاکستان کو سیاسی اعتبار سے مستحکم ہونے دیا اور نہ ہی اس کی معاشی بنیادوں کو استحکام آشنا کیا ۔ بلکہ سچ بات تو یہ ہے کہ بظاہر امداد کے نام پر دی جانے والی رقوم نے ہماری اقتصادیات کو کھوکھلاکیا۔ ہم سے ا پنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی سوچ اور استعداد دونوں کو ہی چھین لیا۔آج ہمارے معاشی بزر جمہر امریکی امداد کے بغیر بجٹ بنانے کے تصور سے ہی یکسر محروم ہوچکے ہیں ۔ ایسے میں اگر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کی امداد روکنے کا اعلان کرتا ہے تو ہمیں اسے اپنے وجود اور بقا کے لئے خوش آئند سمجھنا چاہیے ۔ اے کاش کہ ہمارے لئے امریکہ ہی کیا ، اس کے زیر اثر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضوں کے حصول پرمستقل پابندی لگ جائے تاکہ ہم میں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی سوچ تو پروان چڑھے۔ ہم میں اپنی چادر دیکھ کر اپنے پاؤں پھیلانے کی عادت تو پختہ ہو اور یقین جانئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کوئی چھوٹی چادر عطا نہیں کی ہے ، ہماری چادر ہمارے وجود سے کئی گنا بڑی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم ملک کو بے شمار وسائل سے مالا مال کیا ہے ، بس ہم میں دیانت وامانت آجائے ،کرپشن او ربدعنوانی کے عفریت کا ہم خاتمہ کر پائیں ،بد عنوان عناصر کو ہم کیفر کردار تک پہنچا پائیں اورحب الوطنی کے جذبات ہمارے اندر موج زَن ہوجائیں تو ہم اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ وسائل کے ذریعے پاکستان کو دنیا کا مضبوط ترین ملک بنا سکتے ہیں ۔

اللہ کرے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے توہین آمیز ریمارکس کے بعد اب ہم قرآنی فرمان کی حقانیت پر بھی ایمان لے آئیں کہ یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے ، اس لئے انہیں دوست مت بناؤ ، ہم نے یہ سبق سیکھ لیا تو اِن شاء اللہ دنیا کی کوئی طاقت ہمارا بال بھی بیکا نہ کرسکے گی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ