مذاکرات کیلئے پر امید زلمے خلیل زاد نے پاکستان میں قیام بڑھا دیا ،افغان طالبان کی پاکستانی قیادت سے متوقع بات چیت کی خبروں کی تردید

مذاکرات کیلئے پر امید زلمے خلیل زاد نے پاکستان میں قیام بڑھا دیا ،افغان ...

اسلام آباد،واشنگٹن(سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے پاکستان میں قیام میں تو سیع کردی گئی ۔سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کو ہفتہ کے روز واپس روانہ ہونا تھا تاہم طالبان سے ملاقات کی امید کے با عث ان کے قیام میں توسیع کی گئی ہے۔ذرائع کاکہنا ہے زلمے خلیل زاد کی واپسی کی تاریخ تاحال فائنل نہیں کی گئی، واپسی کی تاریخ کے بار ے میں امریکی سفارتخانہ دفترخارجہ کو بتائے گا۔ذرائع کے مطابق افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا د و ر اسلام آباد میں کرانے پر اتفاق کرلیا گیا اور اسی سلسلے میں زلمے خلیل زاد کے قیام میں توسیع کی گئی ہے۔واضح رہے امریکی نمائندہ خصوصی بر ائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے جمعہ کے روز وزیراعظم عمران خان ،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقاتیں کی تھی جس دوران افغان مفا ہمتی عمل میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ادھر امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے ذبیح اللہ مجاہد کے اکاؤنٹ سے بیان جاری کیا گیا جس میں اسلام آباد میں امریکی نمائندوں اور طالبان کے درمیان ہو نیو الی متوقع ملاقات کی اطلاعات کو غلط قرار دیدیا گیا ،دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے کہا کہ انہیں افغانستان میں قیامِ امن کیلئے ہونیوالے مذکراتی عمل میں ٹھوس پیش رفت کا انتظار ہے۔واضح رہے زلمے خلیل زاد مذاکراتی عمل کی بحالی کے سلسلے میں4ملکی دورے کے دوران پاکستان میں ہیں جہاں انہوں نے وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتیں کی ہیں ۔وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے انہوں نے تمام ملاقاتوں کو اچھا قرار دیا اور کہا ان ملاقاتوں میں افغانستان میں قیامِ امن میں معاونت کیلئے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے کردار پر گفتگو کی گئی،ان کے دورے کا مقصد طالبان کی جانب سے افغان حکومت سے بات چیت کرنے سے انکار کے بعد مذاکراتی عمل میں پیدا ہونیوالے ڈیڈ لاک کو ختم کرنا تھا۔خیال رہے امریکہ نے طالبان کے براہِ راست مذاکرات کے سلسلے کا آغاز گزشتہ برس جو لا ئی میں کیا تھا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعاون کی درخواست کیلئے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط کے بعد پا کستا نی کوششوں سے گزشتہ دنوں ابو ظہبی میں ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا ۔

زلمے قیام

مزید : صفحہ اول