وزیر اعلیٰ کی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے اہل خانہ سے ملاقات

وزیر اعلیٰ کی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے اہل خانہ سے ملاقات

ساہیوال،میانوالی (بیورو رپورٹ،نیوز ایجنسیاں)وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ڈی ایچ کیو ساہیوال آمد ، سی ٹی ڈی اہلکاروں کے ہاتھوں جاں بحق ہونیوالے افراد کے اہلخانہ سے ملاقات کی اورانصاف کا یقین دلایا ، وزیر اعلیٰ نے زخمی بچوں کی عیادت بھی کی ، واقعہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے اوربچوں کی کفالت کا اعلان کیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ آج جوواقعہ ہواہے ،اس کا فوری نوٹس لیا گیا اور معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی کی میں جے آئی ٹی تشکیل دیدی ہے جس میں ایجنسیوں کے نمائندے بھی شامل ہونگے، جے آئی ٹی 72گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جو بھی اس واقعہ میں ملوث ہونگے ،ان کو قرارواقعی سزا دی جائے گی اور عبرت کا نشان بنایا جائیگا ، بچوں کی کفالت حکومت خود کرے گی ، ان لوگوں کے ساتھ انصاف ہوگا اور کسی کی ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا ،سی ٹی ڈی کے اہلکار اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں، تفتیش مکمل ہونے پر حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار نے کہا ہے کہ میانوالی جس طرح میرے قائد کا شہر ہے اسی طرح میرا بھی شہر ہے۔میانوالی کو ایک ماڈٖل ضلع بنائیں گے۔ مسلم لیگ(ق ) کے استعفیٰ دینے والے صوبائی وزیر ہمارے بھائی ہیں چھوٹی موٹی باتیں چلتی رہتی ہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے میڈیا والے پریشان نہ ہوں۔ میانوالی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ جرائم کی شرح بڑھی نہیں تاہم واقعات کی رجسٹریشن کی شرح بڑھ گئی ہے پہلے رجسٹر ہی نہیں کرتے تھے اور اب لوگوں کو جرائم کی رپورٹ کرنے میں کوئی مشکل نہیں اس لیے لگتا ہے جرائم کی شرح بڑ ھ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کی آئی جی پنجاب پولیس میرے ساتھ ہیں اور ہم نے صورتحال پر غور کیا ہے پولیس کو جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ پوری کریں گے اور کسی چیز کی کمی نہیں آنے دیں گے۔ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی کاروائی میں دو خواتین سمیت چار افراد کی ہلاکت کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال پرعثمان بزدار کا کہنا تھا کہ میں نے ان سے ساری باتیں کر لی ہیں۔ ایک سوال پر عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ میانوالی اور ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقوں میں موجود اسکولوں اور کالجوں میں سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لیے خصوصی مراعات دیں گے اور ان علاقوں میں اسٹاف کی کمی کو ہر صورت دور کریں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہاں ہسپتال میں ایم آر آئی مشین نہیں ہے اس کی فرہمی کے حوالہ سے فوری طور پر ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت اور تعلیم کے تمام منصوبے شفاف طریقہ سے چل رہے ہیں اور پانی، سیوریج اور دیگر منصوبوں میں جہاں ، جہاں فنڈز کی کمی ہے وہ فراہم کر رہے ہیں۔

عثمان بزدار

وزیر اعلیٰ

لاہور (جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے داؤد خیل کو تحصیل بنانے،میانوالی میں دو نئے ریسکیو مراکزاورسرگودھا یونیورسٹی کیمپس اپ گریڈ کر کے یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک روزہ دورے پر میانوالی پہنچے ،اپنی آمد کے فوراً بعد وزیراعلیٰ نے پولیس لائنزمیں یادگار شہدا پر حاضری دی اورپھولوں کی چادر چڑھائی۔ انہوں نے شہداء کی درجات کی بلندی کیلئے دعابھی کی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کو پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی ۔وزیراعلیٰ نے پولیس لائنز کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔وزیراعلیٰ ،سینئر وزیر عبدالعلیم خان ،صوبائی وزراء راجہ بشارت ،سبطین خان نے پولیس لائنز میانوالی میں شجرکاری مہم کے تحت پودے لگائے۔صوبائی وزیر محسن لغاری، ایم این اے امجد خان، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔بعدازاں بیرم ہال میں اعلی سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے میانوالی کے لئے متعدد پراجیکٹس کا اعلان کیا ۔کمشنر سرگودھا ڈویژن نے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ میانوالی کو ہر لحاظ سے ماڈل ضلع بنائیں گے کیونکہ تحریک انصاف نے وسائل کا رخ پسماندہ علاقوں کے عوام کی خوشحالی کی جانب موڑ دیا ہے ۔شہر میں ٹرانسپورٹ کاجدید نظام لایا جائے گا۔دریائے سندھ کے کٹاؤ کے باعث اراضی کو دریابرد ہونے سے بچانے کیلئے شیر شاہ سوری روڈ کے اردگرد سپربند بنایا جائے گا۔میانوالی میں سمال ڈیمز کی تعمیر کے مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں اورنہر کس عمر کو پختہ کرنے کے حوالے سے فنڈفراہم کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو کیڈیٹ کالج عیسی خیل کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت دی۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واٹر سپلائی سکیموں کی تکمیل ،سوہاوا، چکوال،تلہ گنگ،میانوالی روڈ،مظفرگڑھ میانوالی روڈکی تکمیل اورسرگودھا روڈ کو دورویہ کیلئے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اورسنگال روڈ کی تعمیر و توسیع کے منصوبے کی انکوائری مکمل کر کے 12روز میں رپورٹ پیش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ کیڈیٹ کالج سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں اورقبضہ مافیاء کے خلاف مہم کے دوران واگزار کرائی اراضی کا بہترین استعمال یقینی بنانے کیلئے زوننگ کی جائے اور تجاویز پیش کی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہسپتالوں اوربنیادی مراکز صحت میں منظورشدہ خالی آسامیوں کو جلد پرکیا جائے ۔ میڈیکل افسرکی تعیناتی ترجیحی بنیادوں پر کی جانی چاہیے اوراس ضمن میں لوکل ہائرنگ کو ترجیح دی جائے ۔عثمان بزدار نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے ڈاکٹروں کے الاؤنسز میں اضافہ کا حکم نامہ یکم جولائی سے نافذالعمل ہوگا ۔وزیراعلیٰ نے میانوالی میں پبلک ہیلتھ ملازمین کو تنخواہیں نہ ملنے کانوٹس لیتے ہوئے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا حکم دیا۔وزیراعلیٰ نے سیکرٹری معدنیات کو آئل این گیس ایریا کا دورہ کرکے مقامی آبادی کا معیار زندگی بہتر کرنے کیلئے سفارشات طلب کرلیں۔انہوں نے میانوالی کے گرلز سکول اورکالجوں میں ضروری سہولتوں کی عدم دستیابی کے بارے میں سیکرٹری سکول ایجوکیشن اورسیکرٹری ہائر ایجوکیشن سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعلیٰ نے داؤد خیل کو تحصیل بنانے کا اعلان کرتے ہوئے چیف سیکرٹری کوفوری طورپراقدامات کرنے کی ہدایت کی ۔اجلاس میں سینئر وزیر عبدالعلیم خان، صوبائی وزراء راجہ بشارت، سبطین خان، محسن لغاری، رکن قومی اسمبلی امجد علی خان، اراکان پنجاب اسمبلی، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات اور متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔بعدازاں سرگودھا ڈویژن میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سنگین جرائم میں ملوث اشتہاری ملزموں کی فوری گرفتاری کے لئے خصوصی مہم چلانے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار دورہ میانوالی کے دوران سنٹرل جیل پہنچ گئے۔قیدیوں کی شکایت اورفرائض سے غفلت برتنے پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو معطل کردیا۔وزیراعلیٰ نے ایک خاتون قیدی کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ڈپٹی کمشنرکو خواتین قیدیوں کے ساتھ موجود بچوں کے لئے چائے،بسکٹ اورچاکلیٹ فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سنٹرل جیل میانوالی میں مختلف بیرکس اورچکیوں کا معائنہ کیا۔انہوں نے خاتون قیدیوں کی بیرکس کا بھی دورہ کیا اور قیدی خواتین و حضرات سے جیل کے بارے میں دریافت کیا ۔انہوں نے جیل ہسپتال کے دورے کے دوران زیر علاج قیدی مریضوں سے طبی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگر جیل میں آپ کو کوئی ناجائز طورپر تنگ کرتا ہے تو کھل کر بتائیں اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ خواتین قیدی اوران کے بچوں کی سہولت کا خاص خیال رکھا جائے ۔بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتا ل میانوالی کا دورہ بھی کیا اورپانچ سال سے کم عمر بچے کوویکسین کے قطرے پلا کرانسداد پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔وزیراعلیٰ نے سی ٹی سکین روم ،پتھالوجی لیب،وارڈز اورٹراما سنٹر کے دورے بھی کیے۔انہوں نے مریضوں اورتیمارداروں سے علاج معالجے کی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میانوالی کو بہترین ہسپتال بنائیں گے ۔جلد اس کا دوبارہ دورہ بھی کروں گا۔ایک بزرگ شہری کی درخواست پر وزیراعلیٰ نے ان کے مریض بیٹے کا سرکاری خرچ پر مفت علاج کی ہدایت کی ہے۔

داؤد خیل

مزید : صفحہ اول