عطاالحق قاسمی سے متعلق عدالتی فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیل دائر

عطاالحق قاسمی سے متعلق عدالتی فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیل دائر

  

اسلام آباد(صباح نیوز) مسلم لیگ(ن)کے سینیٹر اور سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے عطاالحق قاسمی کی بطور چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن تقرری سے متعلق دیے گئے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کردی۔پرویز رشید کی جانب عدالت عظمی میں یہ درخواست اپنے خلاف 3 کروڑ 95 لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے پر دائر کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سیکریٹری اطلاعات نے 2015 میں چیئرمین پی ٹی وی کی تقرری کے حوالے سے عمر کی بالائی حد میں کمی کی سمری بھجوائی، جسے وزیر اعظم نے منظور کیا۔مذکورہ درخواست میں کہا گیا کہ عطاالحق قاسمی کی بطور چیئرمین تقرری کی سمری ایڈیشنل اطلاعات سیکرٹری نے بھجوائی جس کی 23 نومبر 2015 کو وزیر اعظم نے منظوری دی۔درخواست کے مطابق عطا الحق قاسمی کو ڈائریکٹر اور چیئرمین پی ٹی وی تعینات کیا گیا جبکہ انہوں نے 18 دسمبر 2017 کو عہدے سے استعفی دیا۔عدالت میں جمع درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار عدالتی فیصلے کا متاثرہ فریق ہے اوریہ معاملہ ازخود نوٹس کے اختیار کے تحت نہیں سنا جاسکتا تھا، سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت میں ماتحت عدلیہ اور پبلک اتھارٹیز کے اختیارات استعمال کیے۔پرویز رشید کی درخواست کے مطابق ازخود نوٹس کا دائرہ اختیار بڑھانے سے مقدمات کا طوفان سپریم کورٹ کا رخ کرے گا کیونکہ بنیادی طور پر ہر مقدمہ بنیادی حقوق کا ہوتا ہے، ازخود نوٹس کے زیادہ استعمال سے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوتا ہے۔انہوں نے درخواست میں کہا کہ اس معاملے میں شفاف ٹرائل کے بغیر جرمانے عائد کیے گئے جو ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر تھے، لہذا سپریم کورٹ کا فیصلہ آرٹیکل 248 کے منافی ہے کیونکہ یہ آرٹیکل وفاقی وزرا کو بعض اقدامات پر عدالتی استثنی دیتا ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ عطا الحق قاسمی عدالتی حکم سے پہلے ہی مستعفی ہوچکے تھے جبکہ سپریم کورٹ جرمانے عائد کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔مذکورہ درخواست میں کہا گیا کہ ماضی میں ہائیکورٹ کے 100 ججوں کی تعیناتیوں کوغیر قانونی قرار دیا گیا، ان ججز سے تنخواہوں کی مد میں وصولی نہیں کی گئی جبکہ کچھ کو تو پنشن بھی دی گئی۔مسلم لیگ(ن)کے سینیٹر نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ 8 نومبر کا عطاالحق قاسمی ازخود نوٹس کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

درخواست

مزید :

صفحہ آخر -