سانحہ ساہیوال نے پولیس میں بہتری وتبدیلی کے دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کر دیا

سانحہ ساہیوال نے پولیس میں بہتری وتبدیلی کے دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کر دیا

  

تجزیہ :ایثار رانا

ساہیوال میں مقابلے کے نام پر جو ہوا اسے سادہ لفظوں میں وحشیانہ، تکلیف دہ، قابل شرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ پولیس میں بہتری اور تبدیلی کے نعرے اس بھیانک واقعہ کے بعد دم توڑ گئے، سانحہ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر مقتول واقعی داعش کا عہد ید ا ر تھا تب بھی اسے گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی، ایک چھوٹی سی گاڑی جس میں خاتون اور بچے سوار تھے انہیں اس بیدردی و ظالمانہ انداز میں کیوں قتل کیا گیا۔ یوں لگتا ہے پنجاب حکومت جو پہلے ہی اپنی بدانتظامی، کمزور انتظامی صلاحیت اور کمزور لیڈر شپ کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے،بری طرح ایکسپوز ہوگئی ہے۔ اس طرح تو اسرائیل اور مقبوضہ کشمیر میں بھی نہیں ہوتا، گو وہاں پر مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ دنیا کی بھیانک داستان ہے لیکن ہم تو خود کومسلمان اور جمہوریت کے چیمپئن قرار دیتے ہیں، لیکن یوں لگتا ہے ہمارے اداروں کو ابھی تک تر بیت اور اس بات کا احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ یہ روانڈا، بیت المقدس یا سرینگر نہیں۔ مذکورہ واقعہ کا ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایک طرف شادی کا گھر ماتم کدہ بناتو دوسری طرف یہ اطلاع سن کر مقتول کی والدہ بھی چل بسی، پاکستان کی فضا میں پہلے ہی بہت بے برکتی ا و ر نحوست موجود ہے جب آپ دن دیہاڑے کھلے عام سڑکوں پر وحشیوں کی طرح خاندانوں کے خون سے ہولی کھیلیں گے تو مجھے بتائیں معا شرے پر رحمت برسے گی؟ گو وزیراعظم کی ہدایت کے بعد معصوم وزیراعلیٰ کو ہوش آیا اور انہوں نے اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیدیا ، ورثا سے بھی ملاقات کریں گے، لیکن جو قیامت ان پر گزر گئی اس کا اب کبھی مداوا نہیں ہو سکے گا۔ کاش سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزموں کو پروموشن اور غیر ممالک میں تعیناتیوں کے بجائے فوری سزائیں دیدی گئی ہوتیں، افسوس کی بات یہ ہے ہمارے حکمران سیاستدان اداروں کے باا ختیا ر عہدیدار اور پولیس یہ سمجھتی ہے وہ تمام قوانین اور جوابدہی سے آزاد ہیں۔ جب معاشرے میں انصاف بلکہ فوری انصاف ختم ہو جائے تو پھر ساہیوال جیسے ہی سانحات ہوتے ہیں۔ جے آئی ٹی تو بن گئی ہے لیکن ماضی قریب میں جے آئی ٹی کی تحقیقات کو بھی مشکوک قرار دیا جا چکا ہے ۔ اب سمجھ نہیں آتی کس پہ یقین کیا جائے۔ میری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے وہ اپنی گرتی ساکھ کا خیال کرتے ہوئے اس با ر قوم تک سچ ضرور پہنچائیں، نہ صرف سچ بلکہ ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو مرنیوالوں کو اللہ تعالیٰ سے توانصاف مل ہی جائے گا لیکن 5 بے گناہوں کے خون کا بوجھ ان کے کاندھوں پر بھی رہے گا۔

مزید :

تجزیہ -