گزشتہ ادوار میں ریسرچ اور میڈیکل رائٹنگ کبھی ترجیح نہیں رہے، پروفیسرصادق

گزشتہ ادوار میں ریسرچ اور میڈیکل رائٹنگ کبھی ترجیح نہیں رہے، پروفیسرصادق

لاہور(جنرل رپورٹر) نامور فزیشن اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے سابق پرنسپل پروفیسر خواجہ صادق حسین نے کہا ہے کہ ملک جن حالات سے گزرا اس میں ریسرچ اور میڈیکل رائٹنگ کبھی ترجیح نہیں رہے۔ ہفتہ کے روز یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں میڈیکل جرنلزم پر تین روزہ قومی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر خواجہ صادق حسین کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہزار برس میں میڈیکل رائٹنگ نے ارتقاء کی کئی منزلیں طے کرلی ہے۔ جب پاکستان بنا تو صرف ایک میڈیکل کالج تھا اور ڈاکٹروں کی ساری توجہ مریضوں کو علاج کی سہولتیں دینے پر تھی۔ ریسرچ اور آرٹیکل لکھنے کا وقت ہی نہیں تھا۔ تاہم اب حالات مختلف ہیں۔ دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے میڈیکل ریسرچ اور جرنلز کے معیار کر بہتر بنانا ہوگا۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر جسٹس ریٹائرڈ شاکر اﷲ جان نے کہا کہ میڈیکل رائٹنگ اور جرنلزم کو فروغ دینے کیلئے ملک کے مختلف اداروں میں سیمینار اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ ریسرچ کو انڈر گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کے نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔ فیکلٹی کی پروموشن کیلئے ریسرچ پیپرز کا ہونا ضروری ہے اس لیے میڈیکل رائٹنگ کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے۔

وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ یونیورسٹی میڈیکل جرنلزم میں دوسالہ ماسٹرز ڈگری پروگرام شروع کررہی ہے۔ ملک میں اچھی اور معیاری ریسرچ نہیں ہورہی ۔ جو ریسرچ ہورہی ہے اسے عوام کے فائدے کیلئے استعمال نہیں کیا جارہا۔ کانفرنس میں ایران سے ایرانین جرنل آف پبلک ہیلتھ کے چیف ایڈیٹر پروفیسر ایم بی روکنی، متحدہ عرب امارات سے وائس پریذیڈنٹ ایسٹرن میڈیٹیرنین ایسوسی ایشن آف میڈیکل ایڈیٹرز ڈاکٹر حامد حسین، چیف ایڈیٹر جرنل آف سی پی ایس پی کراچی پروفیسر جمشید اختر، سعودی عرب سے پروفیسر سلطان ایوب میو اور پروفیسر احمد بدر نے خطاب کیا۔ جرنل آف میڈیکل سائنسز پاکستان کے چیف ایڈیٹر شوکت علی جاوید نے ملک میں میڈیکل جرنلزم کے ماضی، حال اور مستقبل پر مقالہ پیش کیا جبکہ پرو وائس چانسلر نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسزراولپنڈی میجر جنرل ریٹائرڈ پروفیسر محمد اسلم نے میڈیکل جرنلزم کے فروغ میں یونیورسٹیوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔

مزید : میٹروپولیٹن 4