آئرن اسٹیل اسکریپ کے نام پر دیگر اشیا کی درآمد ، قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان

آئرن اسٹیل اسکریپ کے نام پر دیگر اشیا کی درآمد ، قومی خزانے کو کروڑوں کا ...

کراچی ( این این آئی) آئرن اسٹیل اسکرپٹ کے نام پر المونیم مکس موٹر اسکریپ اور دیگر اشیاء کی درآمد قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان متعلقہ اداروں نے چپ سادھ لی۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایم آر اسٹیل کے نام سے پورٹ قاسم پر آئرن اسٹیل اسکریپ کے 12 کنٹینرز درآمد کئے گئے ، کسٹم حکام کی جانب سے جانچ پڑتال کرنے پر معلوم ہوا کہ 12 میں سے 5 کنٹینرز المونیم کے ہیں، جن کو دانستہ طور پر مس ڈکلیئرکرکے آئرن اسکریپ ظاہر کیا گیا تھا تاہم مذکورہ امپورٹرز نے ہائی کورٹ میں محکمہ کسٹم پر کیس کردیا ہے کہ المونیم کے یہ کنٹینرز غلطی سے درآمد ہوگئے ہیں، ذرائع کے مطابق مذکورہ اسٹیل اسکریپ کا اصل مالک ایک کمرشل امپورٹر ہے جو انڈسٹیز کے نام سے کام کررہا ہے۔ ایسا ممکن نہیں کے کوئی غلطی سے مہنگی اشیاء سستی اشیاء کے نام پر درآمد کرے، لیکن مذکورہ کمپنی اس بات پر بضد ہے کہ المونیم کے پانچ کنٹینرز غلطی سے آگئے ہیں جبکہ انہوں نے بیرون ملک سے مذکورہ کنٹینرز کو برآمد کرنے والی کمپنی کو بھی اپنا ہمنوا بنالیا ہے اور وہ بھی یہ بات تسلیم کررہے ہیں کہ یہ کنٹینرز غلطی سے برآمد ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کمرشل امپورٹرز اگر مذکورہ اسکریپ درآمد کریں تو ان کو پورٹ پر 17616روپے فی ٹن ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ فرنس کے شعبے سے مذکورہ اسکریپ درآمد کیا جائے تو انہیں فی ٹن 11410 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اسٹیل کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اسکریپ کی درآمدات پر کمرشل امپورٹر کے مقابلے میں فرنس کے شعبے کو فی ٹن 6206 روپے کی چھوٹ دی گئی ہے۔ مذکورہ اسٹیل فرنس کے شعبے سے تعلق رکھنے والے متعدد لوگ کسی خاص کمرشل امپورٹر کے لیے کام کرتے ہیں اور وہ اسکریپ کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی مد میں صرف 5600 روپے فی ٹن ادا کرتے ہیں اور اس طرح ڈیوٹی اور ٹیکس کی مد میں ناجائز فوائد حاصل کرتے ہیں ۔ بعدازاں ریفنڈ کی صورت میں وصول کر کے انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بعض صنعتکار اور کمرشل امپورٹرز آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے ناصرف قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے، بلکہ حقیقی کمرشل امپورٹرز کو بھی شدید ترین خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اب صورتحال کچھ یہ ہے کہ آئرن اسکریپ کے متعدد کمرشل امپورٹرز نے اپنا کام بند کرکے دوسرے کاروبار کا رُخ کررہے ہیں، جس کے باعث سینکڑوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بے شمار افراد چھوٹی چھوٹی بھٹیاں لگا کر اپنے آپ کو فرنس انڈسٹری کے نام پر رجسٹرڈ کروارہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر کمرشل امپورٹرز ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت نے یہ چھوٹ صرف لوہے کا اسکریپ درآمد کرنے پر دی ہے۔ لیکن اس چھوٹ کا غلط استعمال کرتے ہوئے مس ڈیکلریشن کے ذریعے مکس موٹر اسکریپ، بھنکار اور ہر قسم کا اسکریپ درآمد کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے گرین چینل کا بھی غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں کسٹم حکام نے متعدد کاروائیاں کی ہیں اور اسکریپ کے نام پر درآمد ہونے وا لے کنٹینرز میں سے چھالیہ، کپرا اور الیکٹرونکس سمیت دیگر اشیاء پر مشتمل لاتعداد کنسائنمنٹس پکڑی ہیں۔ لیکن یہ افراد اب بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعلقہ ادارے خاموشی سے یہ سب دیکھ رہے ہیں ، جبکہ قومی خزانے کو شدید ترین نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ اس حوالے سے جب ایم آر اسٹیل سے بات کی گئی تو انہوں نے اس معاملے پر اپنا موقف دیتے ہوئے ہا کہ اس کیس کو دوسال گذر چکے ہیں جبکہ کمپنی نے جرمانے سمیت 35 فیصد ادا کردیئے ہیں، لیکن تاحال اس کیس کا فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے جبکہ کسٹم حکام نے مذکورہ 5 کنٹینرز کے علاوہ دیگر 7 کنٹینرز ریلیز کردیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے جاری کردہ ایس آر او میں درج ہے کہ اگر غلطی سے کوئی دوسرا کنٹینر آجائے تو جرمانہ وصول کرکے اس کو ریلیز کردیا جائے یا اس کو دوبارہ ری امپورٹ کردیا جائے ، جبکہ ہائی کورٹ نے بھی اس کیس کو جلد نمٹانے کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ 5 کنٹینرز کے لیے برآمد کرنے والی کمپنی نے ہائی کمیشن کے ذریعہ خط لکھا ہے کہ یہ کنٹینر غلطی سے آگئے ۔ لہذا اس کو ری امپورٹ کردیا جائے۔ لیکن تاحال محکمہ کسٹمز نے اس حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان پانچ کنٹینرز پر ادا کردہ جرمانے کی رقم ان کی حقیقی قیمت سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ محکمہ کسٹمز کو چاہیے کہ اس کیس کا فیصلہ جلد از جلد کرے۔ محکمہ کسٹمز کے متعلقہ وکیل نے اس حوالے سے اپنا موقف دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول