سیاسی حلیفوں کے آبگینوں کو ٹھیس نہ لگائیں

سیاسی حلیفوں کے آبگینوں کو ٹھیس نہ لگائیں

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ق) کے رُکنِ صوبائی اسمبلی اور وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے وزارت سے استعفا دے دیا ہے،انہوں نے استعفا پارٹی قیادت کو پیش کیا تو چودھری پرویز الٰہی نے اُنہیں ہدایت کی کہ وہ استعفا واپس لے لیں، اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا کہ جب سے وزارت سنبھالی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور کام میں بے جا مداخلت کی جا رہی ہے، وزارت کا منصب مُلک و قوم کی خدمت کے لئے قبول کیا تھا ،انڈر پریشر کام کرنے کا عادی نہیں، بے جا مداخلت کی وجہ سے پوری طرح کام نہیں کر پا رہا، حافظ عمار یاسر نے استعفے میں اپنی قیادت کو لکھا کہ آپ نے میرا نام تجویز کیا، جس پر احسان مند اور شکر گزار ہوں۔پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کے دوران اُنہیں بتایا کہ تحریک انصاف کے تمام اتحادی حکومتی رویئے سے نالاں ہیں،جس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ کی تمام شکایات دور کی جائیں گی، انہوں نے درخواست کی کہ صوبائی وزیر معدنیات کا استعفا منظور نہ کیا جائے۔

پنجاب کی حکومت اگرچہ ابھی ایام شیرخوارگی سے گزر رہی ہے اور آگے ایک پہاڑ جیسا سیاسی سفر حکومت کو درپیش ہے،لیکن اس مختصر عرصے میں تیسری مرتبہ مسلم لیگ(ق) کی شکایات سامنے آئی ہیں، یہ تو وہ امور ہیں جو عوام میں آ گئے ، نہیں کہا جا سکتا کہ اندر خانے کیا کھچڑی پک رہی ہے، لیکن اتنا تو بدیہی اور واضح ہو گیا کہ پنجاب میں سب اچھا نہیں ہے،سب سے پہلے ایک ویڈیو سامنے آئی تھی،جس میں چودھری پرویز الٰہی کے گھر میں جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ موجود تھے اس ویڈیو میں موخر الذکر یہ شکایت کرتے پائے گئے کہ گورنر چودھری محمد سرور اُن کے حلقے میں مداخلت کر رہے ہیں،اس پر چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ اگر شکایات دور نہ کی جائیں تو پھر موقع ملنے پر ردعمل ہوتا ہے،اُن دِنوں پنجاب میں سینیٹ کی دو نشستوں پر ضمنی انتخاب ہو رہا تھا اور خدشہ تھا کہ مسلم لیگ(ق) کے ارکان صوبائی اسمبلی، تحریک انصاف کے امیدواروں کو ہرانے کے لئے مسلم لیگ(ن) کو ووٹ نہ دے دیں،چنانچہ چودھری محمد سرور نے فوری طور پر مداخلت کر کے کہا کہ طارق بشیر چیمہ کی شکایت دور کی جائے گی اور اُن کے حلقے میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہو گی، چودھری شجاعت حسین نے معاملے پر مٹی ڈالنے کے لئے کہا اور ناراضگی پھیلنے کا خطرہ ٹل گیا۔

ابھی چند روز پہلے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ انہوں نے بڑی مہربانی کی ہے، جو مسلم لیگ(ق) کے اندر فارورڈ بلاک نہیں بنوایا،اِس معاملے پر چودھری مونس الٰہی نے سخت جواب دیا اور یہ تک کہہ دیا کہ اتحاد ٹوٹ سکتا ہے، معاملہ خراب ہوتا دیکھ کر فواد چودھری نے معذرت کر لی اور موقف اختیار کیا کہ وہ تو مسلم لیگ(ن) کہنا چاہتے تھے زبان پھسل جانے کی وجہ سے مسلم لیگ(ق) اُن کے مُنہ سے نکل گیا، حالانکہ جس گفتگو میں انہوں نے مسلم لیگ(ق) کے اندر فارورڈ بلاک نہ بنانے کی مہربانی کرنے کا ذکر کیا اس میں مسلم لیگ(ن) کے بارے میں الگ سے اظہارِ خیال موجود تھا، اِس لئے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ مسلم لیگ(ق) کے بارے میں وہ بات نہیں کرنا چاہتے تھے، بس مُنہ سے نکل گئی،لیکن معذرت پر بظاہر چودھری شجاعت حسین مطمئن ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ معاملے کو آگے نہ بڑھایا جائے ورنہ مخالفین فائدہ اُٹھائیں گے، ابھی اِن دونوں واقعات کا ارتعاش سیاسی فضا میں موجود تھا کہ تیسرا واقعہ حافظ عمار یاسر کے استعفے کی شکل میں سامنے آ گیا،جنہوں نے اپنے کام میں مداخلت کی شکایت کی۔

حافظ صاحب کا استعفا منظور ہوتا ہے یا نہیں یا وہ خود ہی اسے واپس لے لیتے ہیں،اس سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ اُن پر پریشر کون ڈال رہا ہے؟ وزیراعلیٰ تو یہ کام کر نہیں رہے اور نہ اُن کا یہ مزاج ہے، وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور غیر ضروری اُلجھاوؤں میں نہیں اُلجھتے،اُنہیں کیا پڑی ہے کہ وہ ایک حلیف جماعت کے وزیر کے کام میں مداخلت کریں۔لگتا ہے یہ مداخلت کہیں اور سے ہو رہی ہے اور یہ ’’مداخلت کار‘‘ کوئی ایسی ذات شریف ہو سکتی ہے،جو وزیراعلیٰ کو بھی ’’بائی پاس‘‘ کر کے ایک صوبائی وزیر کو دباؤ میں لانا چاہتی ہے، جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں،مسلم لیگ(ق) کی اعلیٰ قیادت کو وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد ملاقات کے لئے بُلایا ہوا ہے اور بات چیت جاری ہے، اس میں چودھری صاحبان لازمی طور پر بتائیں گے کہ اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر کے وزارتی کام میں رکاوٹیں ڈالنے والے کون ہیں اور اُن کے پیشِ نظر کیا ہے،پنجاب کی سیاست اور حکومت بڑی ’’خستہ‘‘ ہے اس میں مسلم لیگ(ق) کا کردار انتہائی اہم اور بنیادی ہے، جس کا اندازہ چودھری پرویز الٰہی کو سپیکر بنانے ہی سے ہو جاتا ہے ورنہ دس نشستوں والی جماعت کو کون سپیکر شپ دیتا؟لیکن لگتا یوں ہے کہ یہ عہدہ تو مسلم لیگ(ق) کو دے دیا گیا،اُن کے وزیر بھی بنا دیئے گئے،لیکن اندر خانے اُنہیں کوئی پپو یار ضرور تنگ کر رہا ہے،جس کا اظہار وقتاً فوقتاً ہو بھی رہا ہے اور سامنے بھی آ رہا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو فواد چودھری کو پہلے فارورڈ بلاک کی بات کرنے اور پھر معذرت کی ضرورت پیش نہ آتی اور نہ ہی چودھری مونس الٰہی سخت الفاظ میں جواب دیتے۔

پنجاب میں مسلم لیگ(ق) کو اگر زچ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا نتیجہ خود تحریک انصاف کے لئے اچھا نہیں نکلے گا،لیکن محسوس ایسے ہوتا ہے وفاقی حکومت کے بعض وزراء سندھ کے وزیراعلیٰ کو ہٹانے کے چکر میں سب کچھ فراموش کر بیٹھے ہیں اور سندھ حکومت کے خلاف چاند ماری کرتے ہوئے انہوں نے ایک آدھ فائر کا رُخ مسلم لیگ(ق) کی طرف بھی کر دیا اور یہ تک نہ سوچا کہ یہی جماعت ہے،جس کی مہربانی سے پنجاب حکومت(بلکہ وفاقی بھی) کھڑی ہے۔ وفاق میں بی این پی (مینگل) حکومت سے پہلے ہی فاصلہ پیدا کر چکی ہے اور اس کے سربراہ کہہ چکے ہیں کہ اگر وفاقی حکومت گرنے لگے گی تو وہ اسے سنبھالا نہیں دیں گے، ایسے میں مسلم لیگ(ق) کا کردار بھی اہم ہو گا اور اُن جماعتوں کا بھی،جنہوں نے تحریک انصاف کا حلیف بننا قبول کیا،سیاسی دانش کا تقاضا تو یہی ہے کہ وزیراعظم اپنی حلیف جماعتوں کے احساس کے نازک آبگینوں کو ٹھیس نہ لگائیں اور خاص طور پر اپنے وزیروں کو اس شوقِ فضول سے منع کریں،لیکن لگتا ہے سارے ہی وزیر ہوا کے گھوڑے پر سوار سر پٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں اور مخالفوں اور حلیفوں کی طبیعت یکساں صاف کرتے چلے جا رہے ہیں، ایسے میں طارق بشیر چیمہ،مونس الٰہی اور حافظ عمار یاسر شکایات تو کریں گے، اب اگر یہ معاملہ ٹل گیا تو کل کسی اور شکل میں سامنے آ جائے گا۔اِلاّ یہ کہ خیالِ خاطرِ احباب کا پورا اہتمام کر لیا جائے،اگر ایسا نہ ہوا تو آج اگر استعفا واپس ہو بھی گیا تو بھی دِلوں کی رنجشیں باقی رہیں گی،جن سے بچنے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ